Baseerat Online News Portal

بہار:چپراسی کی نوکری کیلئے بی ٹیک، بی ایڈ پاس نوجوانوں کی لمبی قطار

پٹنہ، 7 جنوری (بی این ایس )
بہار قانون ساز اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑا مسئلہ روزگار تھا، بہار میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ بے روزگاری ایسی کہ بی ٹیک اور بی ایڈ پاس نو عمر چپراسی کی نوکری کیلئے لمبی لائنوں میں نظر آئے۔دراصل پچھلے ایک مہینے سے بہار قانون ساز اسمبلی کے مرکزی دروازے کے باہر لمبی لمبی قطاریں ہیں۔ آنے والے لوگ شاید ہی سمجھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ سڑک کے کنارے منتظرنوجوان کئی گھنٹے قانون ساز کونسل میں ملازمت کے لئے درخواست کے لئے انٹرویو دینے پہنچ رہے ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر میں آن لائن درخواستیں لی گئیں اور انٹرویو کا آغاز 8 دسمبر سے مختلف زمرے بنا کر کیا گیا تھا اور اب ہر روز سیکڑوں درخواست دہندگان اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔جن عہدوں کے لئے درخواستیں نکالی گئیں ہیں، ان میں صفائی ستھرائی کی 07 آسامیاں، فارس کی 09 آسامیاں، مالی کے 06 عہدوں، دربان کی 07 آسامیاں، نائٹ گارڈز کی 04 آسامیاں اور آفس اٹینڈرزکی 96 آسامیوں یعنی عہدے داروں کی آسامیاں خالی تھیں۔ درخواست دہندگان بی ٹیک، بی ایڈ، گریجویٹ، پی جی، یعنی جہاں دسویں کی اہلیت مانگی گئی تھی۔اس معاملے پر بہار حکومت کے مزدور وسائل کے وزیر جیویش مشرا کا کہنا ہے کہ یہ سرکاری ملازمتوں کا ایک جنون ہے، اس لئے نوجوان ایسا کررہے ہیں۔ نئی حکومت 20 لاکھ ملازمتیں پیدا کرے گی اور نوجوانوں کو فراہم کرے گی۔اب ایسی حالت میں جہاں روزگار کے معاملے پر ہر بار انتخابات لڑے جاتے ہیں، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بے روزگاری اتنی زیادہ ہے کہ ڈگریاں اس ریاست کی دیواروں کی زینت بڑھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

You might also like