Baseerat Online News Portal

’پرکاش پرو‘کے موقع پروزیر اعظم کو نہ بلانے پر سیاست گرم

چندی گڑھ،08؍جنوری ( بی این ایس )
زرعی قانون کے مسئلے پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے اور اس دوران پنجاب میں سکھوں کی اعلی تنظیم ، شرومنی گرودوارہ انتظامیہ کمیٹی (ایس جی پی سی) نے وزیر اعظم نریندر مودی کوسکھ گرو تیغ بہادر کے 400 ویں پرکاش پروپر نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اس معاملے پر پنجاب کی سیاست گرم ہونا شروع ہوگئی ہے ، کانگریس نے اس فیصلے پر اعتراض کیا ہے لیکن عام آدمی پارٹی، شرومنی اکالی دل نے اس فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔اس فیصلے کو پنجاب حکومت نے اکالی دل کے دباؤ میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔ پنجاب کے کابینہ کے وزیر سکھ جندر سنگھ رندھاوا نے کہا کہ ایس جی پی سی کے ذریعہ جو بھی پروگرام ہوتا ہے وہ مشترکہ ہے ، گرو تیغ بہادر جی بھی پورے ملک سے ہیں ، لہٰذا اس پروگرام میں وزیر اعظم کو نہ بلانے کا فیصلہ صحیح نہیں ہے۔ سکھ جندر سنگھ رندھاوا نے کہا کہ شرومنی گردوارہ انتظامیہ کمیٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کو اس پروگرام میں مدعو کرنا چاہئے تھا اور انہیں کسانوں کی تکلیف کا احساس دلانے کے لئے سکھ گرووں کی کھیتی باڑی کے بارے میں دی جانے والی تعلیم اور باتیںبتانا چاہئے تھا۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ گرودوارہ انتظامیہ کمیٹی پرمکمل طور پر بادل خاندان کاقبضہ ہے اور اس طرح کاسیاسی فیصلہ ان کے دباؤ میں لیا گیا ہے۔اس مسئلے پر اکالی دل لیڈر اور پنجاب کے سابق وزیر دلجیت سنگھ چیمہ نے کہا کہ گرودوارہ کمیٹی ایک آئینی مذہبی ادارہ ہے ، جس کے انتخابات ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ کس کو بلانا چاہتی ہے یہ فیصلہ تمام حالات کو دیکھنے کے بعد ہی لیا جاتاہے اور اس بار بھی ایس جی پی سی نے پوری صورتحال کو دیکھنے کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا ہوگا اور اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔دلجیت سنگھ چیمہ نے کہا کہ کانگریس قائدین کو اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہئے ، یہ ایک مذہبی ادارہ کا فیصلہ ہے جو ایک آزاد ادارہ ہے اور اپنا فیصلہ لینے میں آزاد ہے۔اکالی دل کی طرح عام آدمی پارٹی نے بھی اس معاملے میں گرودوارہ کمیٹی کے فیصلے کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جس طرح سے کسانوں کے خلاف قانون مرکزی حکومت لائی ہے اس کا براہ راست اثر پنجاب کے کسانوں پر پڑا ہے۔ ایسی صورت میں مرکزی حکومت کی زیادتیوں کے پیش نظر اگر گرودوارہ انتظامیہ کمیٹی نے کسانوں کی حمایت میں اپنے پروگرام میں وزیر اعظم کو نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے ، تو یہ بالکل درست ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کو پروگرام کی دعوت نہ دینے کے معاملے پر بی جے پی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ملک سے ہیں نہ کہ کسی پارٹی سے۔ اگر کانگریس قائدین یہ کہہ رہے ہیں کہ ایس جی پی سی پروگرام میں وزیر اعظم کو بلایا جانا چاہئے تھا اور اس کے باوجود ایس جی پی سی نے وزیر اعظم کو مدعو نہیں کیا تو جواب تلاش کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ زرعی قانون کے معاملے پر جاری احتجاج کی قیادت پنجاب کے کسان کر رہے ہیں ، جو گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے دہلی کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے پیش نظر شرومنی گرودوارہ انتظامیہ کمیٹی کی چیئرمین بی بی جاگیر کور نے کہا تھا کہ ہماری تنظیم سکھوں کی مشترکہ تنظیم ہے ، ایسی صورت میں مرکز کے زرعی قوانین نے پنجاب کے کسانوں کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے ،یہ وجہ ہے کہ ہم وزیر اعظم مودی کو اس پروگرام میںمدعونہیں کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ گرو تیغ بہادر کا 400 واں پرکاش پرو اپریل کے مہینے میں منایا جانا ہے۔ اس کا جشن نومبر میں ہی شروع ہوا تھا ، جس کے تحت مختلف پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔ خاص طور پر 2021 میں پنجاب حکومت کی طرف سے اس پرکاش پرب کو منانے کی تیاری ہے۔

You might also like