Baseerat Online News Portal

امریکہ: ٹرمپ استعفیٰ دیں یا مواخذے کی کارروائی کا سامنا کریں: نینسی پلوسی

آن لائن نیوزڈیسک
واشنگٹن میں کیپیٹل ہل پر اپنے حامیوں کی جانب سے دھاوے کے بعد صدر ٹرمپ پر جمعے کو مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ ٹرمپ فوراً استعفی دیں بصورت دیگر انہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پلوسی نے کہا کہ ان کی فوج کے ساتھ اس حوالے سے بات ہوئی کہ کیسے ملک کے نیوکلیئر ہتھیاروں کو ’بدحواس‘ لیڈر سے دور رکھا جائے۔
صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے تیار کیے گئے مسودے کے حوالے سے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اس میں صرف ایک آرٹیکل ’بغاوت کے لیے اکسانے‘ کے تحت کارروائی ہوگی۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جو بائیڈن کی حلف برادری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔
یہ 1869 کے بعد پہلی مرتبہ ہوگا کہ سبکدوش ہونے والا صدر نئے صدر کی تقریت حلف برداری میں شرکت نہیں کرے گا۔ خیال رہے تقریب حلف برداری پرامن انتقال اقتدار کی علامت ہے۔
پلوسی نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے خود رضاکارانہ استعفی نہیں دیا یا نائب صدر نے 25 ویں ترمیم کے تحت ان کو برطرف نہیں کیا تو ڈیموکریٹس ان (ٹرمپ) کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کریں گے۔
پلوسی نے ایوان نمائندگان کے ممبران کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ ’اگرٹرمپ نے فوراً عہدہ نہیں چھوڑا تو کانگریس ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرے گی۔‘
پلوسی نے انکشاف کیا کہ ایک ’غیرمتوازن صدر‘ کو فوجی کارروائی شروع کرنے یا ایٹمی حملے کا حکم دینے سے روکنے کے لیے ان کی امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف سے بات ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’اس بدحواس شخص کی صورتحال اس سے زیادہ خطرناک نہیں ہو سکتی اور ہمیں امریکی عوام کو اس غیرمتوازن شخص کے ملک اور جمہوریت پر حملوں سے بچانا ہے۔‘
ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس ارکان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی اگلے ہفتے سے شروع ہو سکتی ہے۔
ایوان نمائندگان کی ممبر کیھترائن کلارک نے سی این این کو بتایا کہ ’جب ہم چاہیں گے تو کارروائی جلد شروع کریں گے۔‘
گوکہ ٹرمپ نے جو بائیڈن کی جیت کو روکنے کے لیے بڑی کوششیں کیں اور ان کی فتح کو قبول کرنے سے انکار کرتے رہے تاہم جمعرات کو انہوں نے شکست تسلیم کر لی اور اپنے حامیوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
ٹرمپ کا ایک مختصر ویڈیو میں کہنا تھا کہ ’ایک نئی ایڈمنسٹریشن جنوری 20 کو عنان اقتدار سنبھالے گی اور اب میرا فوکس پرامن، آسان اور منظم انداز میں انتقال اقتدار پر ہے۔‘

You might also like