Baseerat Online News Portal

کسانوں کے احتجاج سے یومیہ 3500 کروڑ کا نقصان

دہلی بارڈر سے کسانوں کو ہٹانے کا سپریم کورٹ سے مطالبہ
نئی دہلی،09؍جنوری ( بی این ایس )
قومی دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر تقریبا 45 دن سے کسان مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کسان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک کے لئے کے معاملے میں درخواست گزار رشبھ شرما نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کو سرحد سے ہٹایا جائے۔ سڑک جام کرکے احتجاج کرنا شاہین باغ معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کئے گئے ہدایت نامہ کے منافی ہے۔درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مظاہرے اور روڈ جام کی وجہ سے روزانہ 3500 کروڑ کا نقصان ہوتا ہے۔ خام مال کی قیمت میں 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے آخری عبوری حکم میں کہا تھا کہ احتجاج پرامن ہونا چاہئے ، لیکن مظاہرین نے موبائل ٹاور کو نقصان پہنچا یاہے۔ یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت ہونی ہے۔واضح رہے کہ زرعی قوانین سے متعلق حکومت اور کسانوں کے مابین تعطل کے خاتمے کے لئے آٹھویں دور کی بات چیت ہوئی۔ اس میٹنگ میں بھی کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ کسان تنظیم زرعی قوانین کو واپس لینے علاوہ کسی چیز پر تیار نہیں ہے۔ 40 کسان تنظیموں نے گذشتہ روز کسان اور حکومتی مذاکرات میں حصہ لیا۔ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر کسانوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت میں ٹریکٹر مارچ کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں کے ساتھ اگلے دورکی بات چیت 15 جنوری کو ہوگی۔

You might also like