Baseerat Online News Portal

بنت المسلم سہ روزہ ورکشاپ کا کامیاب اختتام

ہزاروں کی تعداد میں طالبات کی آن لائن شرکت
حیدرآباد:۹؍جنوری(بی این ایس)آل انڈیا بنت المسلم ورکشاپ زیرہ اہتمام ویمنس ونگ مسلم پرسنل لا بورڈ 5؍6؍7؍جنوری 2021ء صبح اور شام جملہ 6؍ سیشن جمعرات کو اختتام کو پہنچا۔ اس ورکشاپ میں لڑکیوں کی تعداد زوم پر جملہ 6؍سیشن میں 500فل رہی اور یوٹیوب پر 1200-1500لوگ لائیو دیکھ رہے تھے، اسکول، کالجیس اور دینی مدارس میں پروجیکٹر کا انتظام کیا گیا تھا۔ جملہ 10000 تا 15000 لڑکیوں اور خواتین کی بڑی تعداد گھر کی بزرگ خواتین مائیں اس ورکشاپ سے مستفید ہوئی ہیں۔
حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب رکن عاملہ مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے خصوصی خطابات رکھے گئے تھے۔
حضرت مولانا محمدولی رحمانی صاحب نے اسلام کو زندگی کا طریقہ بنانے اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے پر زور دیا، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآن و سیرت رسولؐ کے مطابق اپنی سیرت کی تعمیر کریں نہ کہ سماج اور سوسائٹی کی تقلید کریں۔ دنیا کیا کہتی ہے میڈیا کیا کہہ رہا ہے، لوگ کیا کہیںگے اس سے زیادہ اہم ہے کہ قیامت کے دن جب ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوںتو اللہ کو کیا جواب دیںگے۔
مولانا خلیل الرحمن سجادنعمانی صاحب نے کہا کہ علم ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، تعلیم میں آگے بڑھنے کی فکر کریں اور کتابوں کا مطالعہ سائنس و دیگر مضامین میں مہارت حاصل کریں انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم بیٹیاں نہ صرف مسلم ملت بلکہ پوری انسانیت کے لئے باعث خیر بنے گی۔ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری بورڈ نے اپنے خطاب میں آسان اور سادہ نکاح پر زور دیا۔
محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ رکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے بیٹی کی اہمیت بتلائی اور کہا کہ بیٹی ماں باپ دونوں کو جنت میں لے جاسکتی ہے، شوہر کے دین کو مکمل کرتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ بیٹیوں سے بڑی محبت کرتے تھے، مسلمان بیٹیاں بنت مسلم قیمتی موتیاں ہیں ان کی اہمیت ہیرے سونا چاندی سے بڑھ کر ہے۔ میری بیٹیوں اس دین میں آپ کیلئے تحفظ ہے آپ کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے اور آپ کو تعلیم و ترقی کی پوری آزادی دی گئی ہے۔
محترمہ عرشین خاں دھولیہ مہاراشٹر نے شریعت اسلامی کی خصوصیات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ شریعت نور رحمانی اور ربانی پیغام ہے جو ساری انسانیت کے لئے راہ نجات ہے۔ انہوں نے مغربی تہذیب سے تقابل کرتے ہوئے کہا کہ یہ احکامات فطرت کے عین مطابق ہے اور دنوں جہاں کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔
محترمہ ام احمد بنگلور نے سچی محبت کیا ہے سمجھایا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی صفات کو سمجھنے کی کوشش کیجئے، اللہ تعالیٰ رحیم بھی ہے اور ساتھ میں اپنے بندوں پر مہربان بھی۔ اللہ کی نعمتوں کا ہم حساب نہیں کرسکتے اور حقیقی دائمی محبت اللہ سے کرنا ہے جیسے بی بی ہاجرہ و ابراہیم ؑ نے کی۔
محترمہ افروز جافری صاحبہ پٹنہ بہار نے قرآن ذریعہ ہدایت پر پاور پوائنٹ کے ذریعہ سمجھایا اور کہا کہ انسان کی تخلیق اللہ نے کی اور انسان کو اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گذارنا ہے۔ قرآن دستور حیات ہے، جس طرح ایک موبائل کو استعمال کرنے اسکے فائدے پڑھنے پڑتے ہیں اسی طرح قرآن کے مطالعہ اور اس پر عمل سے ہماری زندگی کے تمام مسائل حل ہونگے۔ سب سے پہلے عقیدہ توحید پھر نماز روزہ، زکوۃ حج اصول شریعہ سمجھنا ضروری ہے۔
محترمہ نائمہ الٰہی مرادآباد یوپی نے روحانی میک اپ پر قرآنی آیات کے ذریعہ سمجھایا کہ آنکھ، کان زبان پاکیزہ دل اور لوگوں کے لئے خیر بننے کی ترغیب دلائی۔
محترمہ منیرہ گیگانی صاحبہ ممبئی نے عشق رسولؐ پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہؐ سارے انسانوں سے محبت کرتے تھے، آپؐ حق اور خیر کو پھیلانے، مشقت اٹھانے اور اذیتیں برداشت کیں۔ آپؐ کی کوشش انصاف کو قائم کرنے اور ظلم کو ختم کرنے کیلئے تھیں اور آپؐ امت سے بہت زیادہ محبت کرتے اور رو روکر دعائیں فرمائی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم رسولؐ کی سنتوں پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سمرہ سلطانہ جئے پور راجستھان نے حجاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مسلمان لڑکیوں کو خود اعتمادی میں اضافہ کرنے اور لباس اور حجاب پر فخر کرنے کی ترغیب دی۔
محترمہ امیمہ فہد مرادآباد یوپی نے وقت کے صحیح استعمال پر زور دیا، ہمارا سال مہینے دن گھنٹے منٹ اور سیکنڈ اللہ کی امانت ہے اسکا صحیح استعمال، اسکی قدر کرکے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وقت کے صحیح استعمال کے لئے پلاننگ لازمی ہے۔
محترمہ حوّا متین صاحبہ کولکاتہ نے ذہنی دبائو کو کیسے قابوں میں کریںاس پر مخاطب کیا اور صبر شکر کی اہمیت بتلائی۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی دبائو سے بیشمار بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو ہمارے جسم کے ہر عضو دل و دماغ، جلد بال کونقصان پہنچاتی ہیں۔
اس ورکشاپ میں سکٹ ’’زندگی کا مقصد‘‘ اور ’’بنت مسلم کی حفاظت‘‘ پر رکھاگیا جسے بہت سراہا گیا۔
محترمہ عظمی پاریکھ ناگپورمہاراشٹر نے اچھے دوست اور بُرے دوست کا فرق سمجھایا کسی لڑکی کو سہیلی بنانے کیلئے اسکی وفاداری، ایمانداری کا امتحان لیکر اسے دوست بنانا چاہئے۔ایسے لڑکیوں کو ہرگز دوست نہ بنائے جو پیٹھ پیچھے چغلی غیبت کریں، اچھی صحبت میں رہیں آپ کی سہیلی نیک دین دار بااخلاق حیادار اور گناہوں سے بچنے والی ہوں۔ قرآن میں صدیقہ، رقیقہ کے الفاظ استعمال ہوئے۔
محترمہ تسنیم باگوان کولہاپور مہاراشٹر نے بنت المسلم ۱۲؍نکات پروگرام پیش کیا۔ ایمان، عمل صالح، تعلیم، تربیت، اصلاح، اتحاد، تعمیر سیرت، قابلیت، ترقی، دعوت دین، تصور۔
محترمہ عائشہ اورفرح حیدرآباد مسلم گرلز ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کے بارے میں سمجھایا۔
محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ مسئولہ شعبہ خواتین نے زندگی کا مقصد سمجھاتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہونا اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے، بنت المسلم کو دین پر فخر کرنا چاہئے اور بہترین بیٹی بننے کے لئے علم ہنر سے خود کو آراستہ کریں، مسلمان بیٹی اپنی زندگی کو قرآن اور سنت کے ذریعہ استوار کرے، مسلمانوں کے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں، ہماری تشخص اور وجود کو خطرہ ہے اور ساتھ ہی معاشرے میں ایمان اور دین سے فرار کی طرف کئی بہنیں گامزن ہیں، انہیں دین سے جوڑے رکھنا ایمانی بنیادوں کو مضبوط کرنا اور صحابیات کے نقش قدم پر چلانا بہت بڑا جہاد ہے۔ اسکے لئے خواہشات کی قربانی کے ساتھ محنت و مشقت کی ضرورت ہے۔ کل کا دور سائنس، ٹیکنالوجی، طبی مہارت اور آرٹیفشیل انٹیلیجنس اور نینو ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ملت کی بیٹیوں کو اسکے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔
محترمہ عیسیٰ لولے پونے مہاراشٹرنے مثالی مومنہ کے عنوان پر مخاطب کیا۔تقاریر کے علاوہ سیرت، حمد، نعت، ترانے سے لڑکیوں کی دلچسپی بنی رہی۔محترمہ منیرہ گیگانی صاحبہ نے دعا کرائی۔

You might also like