Baseerat Online News Portal

انچارج پرنسپل مولانا سعداللہ کی قیادت میں مدرسہ نورالہدی تعلیمی ترقی کی طرف گامزن،  مولانا کی کردارکشی سے قوم کا بڑا نقصان ہوگا۔حافظ شفاء اللہ

 

رفیع ساگر :بی این ایس

جالے۔ مقامی بلاک سے متصل بوکھڑا بلاک کے پوکھریرا شریف میں قائم مدرسہ نورالہدی اپنی بہتر تعلیمی سرگرمیوں کے لئے ہمیشہ مشہور رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کے انچارج پرنسپل مولانا سعداللہ کی تعلیمی و انتظامی صلاحیت کا ہر کوئی مداح رہا ہے۔مذکورہ باتیں تنظیم امارت شرعیہ بوکھڑا بلاک کے صدر حافظ شفاءاللہ نے اپنے ایک بیان میں کہیں۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ بورڈ نے 2018 میں انہیں انچارج پرنسپل کی ذمہ داری سونپی تھی ۔ مولانا موصوف نے اپنے عہدہ کو سنبھالتے ہی کارہائے نمایا انجام دیا ،تعلیم وتعلم میں ترقی اور انتظام وانصرام کو بحسن وخوبی انجام دیتے رہے ہیں تعمیری کاموں میں بھی بہت ترقی ہوئی ہے۔حافظ شفاء اللہ نے کہا کہ یہ بات بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ مولانا موصوف ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعر بھی ہیں اور ادبی دنیا میں بھی ایک امتیازی مقام حاصل ہےگویا کہ ہر طرح کی خصوصیات سے اللہ نے نوازا ہے لیکن مولانا سعداللہ کو جس طرح ہرقدم پر کمیٹی کے دعویداروں کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات میں پھنسانے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے اس سے تعلیمی سرگرمی متاثر ہوگی اور قوم و علاقے کا بڑا خسارہ ہوگا۔انہوں نے مولانا کے اوپر لگائے جا رہے الزامات کو سراسر غلط اور بےبنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی شخصیت کی کردار کشی کسی بھی صورت میں بہتر نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیت پر انگلی اٹھا کر انہیں متنازعہ بنا کر پیش کرنا کافی افسوسناک قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ مدرسہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں وہ معاملہ کو متنازعہ بنا کر مدرسہ کی حیثیت کو کمزور کرنا اور اس کی تعمیر وترقی میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں جس سے مذہب وملت کا بہت بڑانقصان ہورہا ہے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ مولانا موصوف کو کام کرنے دیتے جو عنداللہ کامیابی کی ضمانت ہوتی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حساس معاملہ ہے تو مل بیٹھ کر حل کرلینا چاہئے تھا۔

You might also like