Baseerat Online News Portal

دو لاکھ سے کم زیورات کی خریداری پر’کے وائی سی‘ لازمی نہیں، محکمہ آمدنی نے جاری کیا نوٹیفکیشن

نئی دہلی، 10 جنوری (بی این ایس )
اگر آپ زیورات خریدنے کا شوق رکھتے ہیں تو یہ خبر آپ کیلئے اہم ہے۔ حکومت نے زیورات کی خریداری سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ کوئی دوکاندار دو لاکھ سے کم قیمت کے زیورات کی خریداری پر آپ سے پین کارڈ یا آدھار کارڈ نہیں مانگ سکتا ہے۔وزارت خزانہ کے محکمہ محصولات کے ذرائع کے مطابق یہ نوٹیفکیشن 28 دسمبر 2020 کو پی ایم ایل ایکٹ 2002 کے تحت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔ جب 10 لاکھ سے زیادہ کا معاملہ نقد رقم میں کیا جاتا ہے تو زیورات فروشوں کو گاہکوں کے ’کے وائی سی‘ کی ضرورت ہوگی۔ یہ قدم دہشت گردوں کے منی لانڈرنگ اور مالی مدد کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔بتادیں کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بین الاقوامی معیار کی ایک بین سرکاری تنظیم ہے، جس کا مقصد دہشت گردوں کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ ہندوستان 2010 سے ایف اے ٹی ایف کا ممبر ہے۔ وزارت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بہت سے پلیٹ فارمز پر یہ افواہ پھیل رہی تھی کہ دو لاکھ سے کم زیورات کی خریداری پر کے وائی سی لازمی ہے۔

You might also like