Baseerat Online News Portal

کشمیرمیں شابہ خوفناک چیخیں رانٹس،چڑیل یاکوئی دوسری مخلوق

عبدالرافع رسول
حالیہ شدیدبرف باری کے ساتھ ہی کشمیرکے جنوبی ضلع پلوامہ جو فی الوقت مجاہدین کشمیرکامرکز سمجھاجارہاہے میںرات کی اندھیری چھاجانے کے بعد خوفناک آوازیں سنائی دے رہی ہیںکشمیرمیں افواہ پھیلائی گئی ہے کہ یہ دل دہلانے والی صدائیں اوریہ چیخیں چڑیل جسے کشمیری زبان میں’’ رانٹس‘‘ کہاجاتاہے کی ہیں۔جسے چھوٹے بچوں میں خوف وہراس پایاجارہاہے ۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی چڑیل یارانٹس وغیرہ نہیں یہ قابض بھارتی فوجی اہلکار ہے جواسلامیان کشمیرکوخوفزدہ کرنے کے لئے مختلف روپ دھاررہے ہیں۔واضح رہے کہ اس دورجدید میںرام کہانیاںاوردیولالائی قصے چلنے والے نہیںآج ہرچیز سامنے ہے اورایکسپوز ہوچکی ہے ۔رانٹس کوئی بلاہوتی تودنیامیں قائم کسی بھی zoo))میں موجود ہوتی، لیکن نہیں ہے ۔اس لئے حفظ ماتقدم کے تحت یہ طے ہے کہ یہ خوفناک شبانہ چیخیں کسی چڑیل یارانٹس کی چیخ وپکارہرگز نہیں بلکہ بھارتی قابض فوج اسلامیان کشمیرکو مجاہدین کوپناہ دینے کے حوالے سے ہراسان کررہی ہے اور ڈرارہی ہے تاکہ وہ سہم جائیں اوراپنے دروازے بندکرکے گھروں میں دبک کررہ جائیں اوررانٹس آجانے کے خوف سے مجاہدین کے لئے کوئی بھی اپنادروازہ کھول نہ سکے اوروہ العطش العطش کرتے ہوئے شہیدہوجائیں ۔لیکن یہ پہلاموقع نہیں بلکہ 1970میں کشمیرکے کئی علاقوں میں شبانہ آتشزنی کی گئی جس میں لوگوں کے مکانات،گائو خانے اورصحنوں میںجمع فصلوں کورات کی اندھیری چھاجانے پرآگ لگاکربھسم کیاجاتاتھا ۔اس کے بعد 1983میں ایک اورمہیب سلسلہ شروع جس کے دوران کئی علاقوں میں کمسن بچوں کے اغوا کی وارداتیں ہوئیںجبکہ1993کے بھوت نام کی ایک مخلوق نمودارہوئی جس نے کشمیرمیں اودھم مچادی۔ماضی قریب کی بات کریںتو2017 خواتین کے بال کاٹنے والے شرمناک واقعات پیش آئے لیکن ہرموقع پربھارت کی یہ تمام سازشیں ناکام ہوئیں اوربھارتی فوج نامرادہوئی ۔
کیونکہ بہت جلدپتاچلاکہ ان اوچھے ہتھکنڈوںکا ارتکاب کرنے والے بھارتی فوجی اہلکار تھے جوکئی جگہوں سے رنگے ہاتھوں پکڑے بھی گئے۔جس سے پیش آمدہ ان دلخراش واقعات کے پس پردہ بھارتی فوج کے مظالم کی ایک نئی داستان الم نشرح ہوئی کہ یہ سارا مہیب اورشرمناک سلسلہ اسلامیان جموںوکشمیر کو اپنی منصفانہ اورحق پرمبنی آزادی کی جدوجہد سے دلبرداشتہ اوراس سے دستبردار کرانے کی ایک منظم ناپاک کوشش تھی ،ملت اسلامیہ جموںو کشمیرعرصہ درازسے اپنے سیاسی مقصد کے حصول کے ضمن میںہر سطح کی قربانیاںپیش کرتے جارہے ہیں ، لیکن بھارت انہیں اپنے چٹان موقف سے ہٹانے کے لئے تمام صدمہ خیز حربے اور ہتھکنڈے استعمال کررہاہے۔
1993میںقابض بھارتی فوج کی طرف سے’’ بھوت آپریشن‘‘ کے نام سے اسلامیان جموںوکشمیرکوہراسان کرنے کی ایک خوفناک مہم چلائی گئی ۔ہوایوں کہ ایک نادیدہ مخلوق نے بھوت بن کرمقبوضہ کشمیرکے طول اعرض میں خوف و دہشت مچائی تھی۔ یہ مخلوق نقاب اور سیاہ لباس میں ملبوس رات کے اندھیرے میں بستیوں میں نمودار ہوکر ڈرانے کا کام کرتی تھی۔ ان واقعات میں بھوت کی دہشت اور ان کو پکڑنے کی کوشش میں کئی افراد کی جانیں بھی چلی گئیں۔ کشمیرکی تاریخ کے خونین اوراق میں یہ ثبت ہواہوگاکہ بھوت آپریشن کے دوران سرینگر کے مہجور نگر میں رات کے اندھیرے میں مقامی نوجوانوں نے بستی میں نمودار ہوئے بھوتوں کا تعاقب کیا تو ان میں سے ایک نے مقامی اسکول میں پناہ لی۔ ہجوم نے اسکول کو گھیرے میں لیا۔ چند نوجوانوں نے جرات کا مظاہرہ کرکے جونہی اسکول میں گھسنے کی کوشش کی،توہوائی فائرنگ ہوئی۔جس پران نوجوانوں نے آگے بڑھنے سے قدم روک لیئے اگلے دن فوج نے پورے علاقہ کا فوجی محاصرہ ہوا،اور46افراد کو حراست میں لیاگیا،جن میں بیشتر وہ نوجوان تھے، جنہوں نے بھوت کو پکڑنے کو کوشش کی تھی یا لوگوں کو تعاقب کرنے کی ترغیب دی تھی، حراست میں ہی تھے۔
لیکن بہت جلد قابض بھارتی فوج کے اس آپریشن کابھانڈاپیچ چوہراہے اس وقت پھوٹ پڑاکہ جب گاندر بل میں عبد العزیز نامی شہری کے ساتھ پیش آئے واقعے نے بالآخر بھوت کا راز فاش کیا اور اسی کے ساتھ بھارتی فوج کی طرف سے اسلامیان کشمیرکوہراسان کرانے کایہ مذموم اورشرمناک آپریشن اپنے انجام کو پہنچا۔ رات کے اندھیرے میں کھیتوں میں پانی دینے کے بعد عبد العزیز گھر لوٹ رہا تھا، کہ نقاب اور سیاہ لباس میں ملبوس بھوت نے اسپر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ بھاگنے کی را ہیں مسدود دیکھ کر عبد العزیز نے اپنے دفاع میں بیلچہ سے بھوت کے سر پر وار کرکے اسکو زمین پر گرادیا۔ عبدالعزیزنے جرات مندی سے کام لیکر زمین پرگرے ہوئے بھوت کا نقاب اتارا تو معلوم ہو ا کہ بھوت کوئی اور نہیں بلکہ یہ قابض بھارتی فوج (BSF) کا اہلکار کلدیپ سنگھ سروس نمبر88688127ہے۔ اسکو فورا پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔قد دراز کرنے اور مکانوں سے چھلانگیں لگانے کیلئے اس اہلکار نے خاصے اونچے مخصوص اسپرنگ لگے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ گاندر بل کے تھانہ میں اسکی ایف آئی آر ابھی بھی درج ہے۔ اگلے دن علاقے میںقائم بی ایس ایف کیمپ کا افسر اپنے ایک جھتے کے ساتھ تھانے پہنچا، پولیس اسٹیشن گاندربل سے اپنے ساتھی اہلکار کو چھڑوایا بعد میں عبد العزیز کے گھر پر دھاوا بو ل کر افراد خانہ کو حراست میں لیا۔ چند روز بعد عبد العزیز کو رہا کر دیا گیا،مگر اسکا بیٹا کئی ماہ تک بی ایس ایف کی حراست میں رہا۔
1970کی آگ زنی ہو یا 1983میں بچوں کے اغوا کی وارداتیں یا 1993کے بھوت یا اب خواتین کے بال کاٹنے والے واقعات ،یاپھرآج چڑیل ’’رانٹس آپریشن‘‘ہو یہ بات طے ہے کہ یہ تمام کے تمام بھارتی حربے اوراس کے اوچھے ہتھکنڈے بالآخراس کے گلے پڑگئے اورہرموقع پریہ بات مترشح ہوگئی کہ مقبوضہ کشمیر تو پوری طرح قابض بھارتی فوج کے نرغے میں ہے۔قاتل فوج کی موجودگی میں یہاںغموں ،الموں، المیوں اورستموں کی ایک طویل داستان ہے۔ رانٹس یاچڑیل کاتازہ واقعہ بھی اسی شرمناک سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے ۔ مگر یہ ایجنسیا ں بھول جاتی ہیں کہ کشمیرکی نئی پود جس نے نوے سے آنکھ کھولی ہے اور نامساعد حالات کے بھنورمیں پلی بڑھی ہے، حالات کے جبر سے سمجھوتہ کر کے خاموش رہنا ان کا وطیرہ نہیں ۔ اور نہ ہی یہ اپنے گرد وپیش ظلم و جبر کی مہیب داستانوں کو تماشائی کی نظر سے دیکھ کر آگے بڑھنے کے روادار ہیں بلکہ یہ بے انصافی کرنے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حساب مانگنے کا فن جانتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیرکی تاریخ رقم کرنے والے مورخ کا قلم بھی لہو لہو ہے، شرمندگی کی سیاہی ورق ورق پھیلی ہوئی ہے، وہ کشمیر کے دردِ پنہاں کے بارے میں لکھے توکیا لکھے ؟ زبان تھرتھراتی ہے ، زبان لڑکھڑاتی ہے، ضمیر شرماتا ہے۔ اگر سچ لکھتا ہے تو خود کو جرم کے کٹہرے میں کھڑا پاتا ہے۔ اگر سچ نہیں لکھتا تو ذات کے آئینے کے ٹوٹ پھوٹ جانے کا خدشہ شب و روز کا چین چھین لیتا ہے۔کبھی کبھی اچانک رونما ہونے والی کوئی انہونی زندگی کی آنکھ میں خار بن کر چبھ جاتی ہے جس سے اذیتوں کی کرچیاں نازک احساس کو لامتناہی دردو کرب سے دوچار کر دیتی ہیں۔ انسان لاکھ کوشش کرے کہ ادھر ادھر کی چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے مگر قلب و نگاہ میں ٹھہری بے بسی کی تصویر ہر شے میں منعکس ہو کر ماحول کو اداسی سے بھر دیتی ہے۔کشمیرمیں ایک کے بعدایک نئی خوفناک صورت حال منصہ شہود پر آکر کشمیری مسلمانوں کے اجتماعی دکھ اور غم کو دوچند کر تی جارہی ہے ، حالات کے تعلق سے اداس سوچ کی پرواز دیوانگی کی دیواروں سے سر ٹکرا کر زخمی ہو جاتی ہے۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں ،کوئی ثانیہ ایسا نہیں جو حالات کے جبر وتشدد کا شکار نہ ہو تا ہو۔
مقبوضہ کشمیرکے غموں ،الموںالمیوں اورستموں کی داستان بہت طویل ہے،رنگ اورنوعیت بدل بدل کرستم ڈھائے جارہے ہیں۔شبانہ چیخیںاسی شرمناک سلسلے کی یہ ایک کڑی ہے جس سے عوام الناس میں تشویش کی لہراور سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔اس طرح کی توہین اور غیر اخلاقی حرکت سے خواتین میں عدم تحفظ اور ہراسانی کا ماحول پایاجانا فطری بات ہے۔
شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کھوکھلی ہنسی سے کوئی سب اچھا کا پیغام بھی دے لیکن روح اس تکیہ کلام کا ساتھ نہیں اور دل پرپتھر تیز بارش کی طرح برستے ہیں۔وہ جب آئینے میں جھانکتے ہیں تو چاہے اپنے چہرے مہرے کوکھینچ تان کردرست بھی کریں مگر اس کے باوجودان کے چہرے اداس ہوتے ہیں ۔ ان کاوجود،ان کی ذات سوال کرتی ہے کہ اب کس قیمتی شئے کی قربانی دیناباقی ہے،یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ان کے پاس موجود ہی نہیں۔ وہ کیا کریں؟ حیرانی و پریشانی کے عالم میں ہیں کیوں کہ معاشرے کا ہر فرد اجتماعی تظلم کاشکارہے۔ وہ جتناچیخیں ،چلائیں آہ وزاری کریں مگر ان کے خلاف درندہ صفت حالات کی خزاں آلودہ رت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اب اس نئے تازیانہ عبرت سے وہ سب کے سب اپنی اپنی چار دیواری تک حفاظتی قلعے بنا کر محصور ہو نے کے باوصف محفوظ نہیں ، جب کہ ان کے گھروں کے باہر دنیا نہیں بلکہ ان کے خلاف بھارت کی اذیت پسند سازشوںاور گندے منصو بوں کا ایک جنگل ہے۔اس طرح دنیا کاخوبصورت ترین علاقہ برسوںسے ایسا دہشت ناکیوں سے بنجر اور غیر آباد ہو گیا ہے کہ جہاں اخلاق دم توڑ چکے ہیں، انسانیت مر رہی ہے ، انصاف پامال ہورہاہے اور بھارت جس کو اس انسانی بستی کی لرزتی چیخوں، سسکیوں اور آہوں کی لت پڑی ہے وہ احساسات سے عاری ہو کر نت نئے مذمو م حربے آزما رہاہے۔
فیس بک کھنگالئے توکشمیرسے متعلق ہر پوسٹ آپ کی ذہنی اذیت بڑھا کر دم لے گی ۔ زندگی سے بھرا، دوستوں میں گھرا، خوشیوں کے رنگوں میں رنگا ہوا خوبرو نوجوان جن کی آنکھیں بہت دور تک دیکھنے کی قدرت رکھتی تھیں، موج مستی کی عمر میں ان پر زندگی کی یہ تلخ وتند سچائیاں نازل ہو ں تو وہ کن نفسیاتی صدموں کی آغوش میں پلیں بڑھیں گے۔ کیا انہیں یہ واقعات قلب وذہن پر کچو کے نہیں ماریں گے کہ ان کی ماں بہن کی چوٹی کاٹ کر تذلیل و تحقیر کی گئی ؟
کشمیرکی وہ پود جس نے نوے کی دہائی میں آنکھ کھولی اور نامساعد حالات کے بھنورمیں پلی بڑھی، وہ آج کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں ،اس کا اندازہ ہر کس وناکس کوہے ۔ آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دورمیں یہ بچے حالات کی کسک دیکھتے ہیں ، حالات پر سوچتے ہیں ، سوال اٹھاتے ہیں، استحصال اور بے انصافی کو قبول نہیں کرتے، ظلم کے آگے سرنگوں ہونے کو تیار نہیں ہوتے، حالات کے جبر سے سمجھوتہ کر کے خاموش رہنا ان کا وطیرہ نہیں،ا ور نہ ہی یہ اپنے گرد وپیش ظلم و جبر کی مہیب داستانوں کو تماشائی کی نظر سے دیکھ کر آگے بڑھنے کے روادار ہیں بلکہ یہ بے انصافی کرنے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حساب مانگنے کا فن جانتے ہیں، انہوں نے انسانی حقو ق کی پامالیوں کے درد انگیزیوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جب وقت کی چیخیں نکل گئیں ۔
تین عشرے بیت گئے ہیں اس دوران کوئی دن ایسانہیں گذراکہ اپناپیدائشی حق مانگنے کی پاداش میں سلامیان جموںوکشمیرکونہایت ہی بے دردی سے نہ پیٹا گیاہو، گھسیٹا نہ گیا، گیند کی طرح زمین پر پٹخا نہ دیاگیاہو، ننگا کر کے بے عزت نہ کیا گیا۔ یہ سارے خونین اورشرمناک مناظر ان کے جذبات کو مجروح ہی نہیں کر گئے بلکہ ان کے رگ وپے میں انتقام کی آگ بھی بھر گئے جس کا کسی نہ کسی صورت نئی پود میں اظہار ہو رہاہے ۔ خطہ کشمیر کا چپہ چپہ قابض بھارتی فوج اور اسکی ایجنسیوں کے محاصرے میںہے ،ہر سو فوجیوںکے ناکے لگے ہوئے ہیں۔دوردراز دیہات میں دن ڈھلے ہی لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں،فوجی اہلکارہی ہیں جوکیمپوں سے اس طرح کی خوفناک چیخیں اورصدائیںبلندکرنے کے مذموم اورشرمناک حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جن کامقصدکشمیری عوام کے دلوں اور ذہنوں کے اندر خوف پیدا کرناہے لیکن پہلے آزمودہ ناپاک حربوں کی طرح یہ شرمناک حربہ بھی بہت جلد ہوا میں تحلیل ہوا ،اورپتہ چل گیاکہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں خوف کاعالم قائم چاہتاہے ۔ تاکہ تنگ آکرکشمیری عوام بھارت کے سامنے سپراندازہوجائیں لیکن ایں خیال است ومحال است وجنون۔

You might also like