Baseerat Online News Portal

“ہم سپریم کورٹ نہیں جائیں گے”-

 

 

 

محمد صابر حسین ندوی

[email protected]

7987972043

 

 

 

ایم ودود ساجد صاحب (دہلی) لکھتے ہیں” کسانوں کے ایک نمایاں لیڈر گرنام سنگھ چڈھونی نے کسانوں کا منصوبہ بڑی صاف گوئی سے بتادیا ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ٢٦/ جنوری تک حکومت نے زراعت اور کسانوں سے متعلق تینوں متنازعہ قوانین واپس نہ لئے تو ہم پارلیمنٹ کی طرف بڑھیں گے اور وہیں احتجاج پر بیٹھ جائیں گے۔ (صحافی) اجیت انجم کو انہوں نے ایک گھنٹہ پہلے ایک مختصر انٹرویو دیا ہے؛ لیکن اس مختصر انٹرویو میں انہوں نے بڑی “خوفناک” تفصیلات بیان کی ہیں ۔۔ انہوں نے اپنی بات یہاں سے شروع کی کہ گرونانک فارسی جانتے تھے اور وہ (شیخ سعدی کا یہ قول) دوہراتے تھے کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد”..انہوں نے کہا ہے کہ حکومت ہمارا وقت ضائع کر رہی ہے۔۔ وہ ہمارے عزائم کا غلط اندازہ لگائے بیٹھی ہے۔۔ ہم ٢٦/ جنوری کو اپنی پریڈ کرتے ہوئے دہلی میں داخل ہوں گے۔۔۔ ٧٠/ لوگ ہمارے مرچکے ہیں ۔۔۔ اگر وہ گولیاں چلاکر مزید ٧٠/ مارنا چاہتے ہیں تو ہم اس کیلئے تیار ہیں ۔۔ انہوں نے کہا کہ دہلی ہم سب کی ہے اور یہ کہ بی جے پی کو ووٹ دے کر ہم نے بہت بڑا گناہ کردیا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس حکومت کے خلاف آج تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے؛ لہذا ہم سپریم کورٹ نہیں جائیں گے بلکہ ہم پارلیمنٹ میں دھرنا دیں گے”- سینئر صحافی پونیہ پرسون واجپائی نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ معاملہ اب سنگین ہوتا ہوا نظر آتا ہے، ٨/تاریخ کو وگویان بھون سے نکلتے ہوئے کسان رہنما نے صاف صاف کہا کہ سپریم کورٹ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی بھی نہیں رہ گئی ہے، پہلے جب کبھی کوئی مسئلہ الجھتا تھا تو یہ کہا جاتا تھا کہ کورٹ تو ہے ہی؛ بالخصوص عدالت عظمیٰ تو ہے، لیکن ادھر خود سپریم کورٹ نے اپنی اہمیت مسخ کی ہے، گزشتہ چھ سالوں سے لگاتار ایسے فیصلے دئے گئے ہیں جس میں رواں حکومت کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی فائدہ ہی رہا ہے، اگر کبھی کوئی مخالف فیصلہ آیا بھی تو اس نے حکومت کا کوئی نقصان نہ کیا اور نہ ہی اسے یہ احساس دلاسکی کہ برتری عدالت کو ہی حاصل ہے؛ کیوں کہ مقصود ہمیشہ حل ہوتا رہا ہے، یہ مسئلہ اس وقت اور نازکی پکڑ گیا تھا جب جسٹس رنجن گگوئی نے رام مندر، رافیل، کشمیر کی خصوصی رعایت ہونے کے خلاف اور شاہین باغ کے تعلق سے متعدد پٹیشن کے اندر سرکار کے حق میں فیصلے دینے کے بعد کچھ ہی مہینہ کے اندر بی جے پی کی مہربانی سے راجیہ سبھا پہنچ گئے تھے، راجیہ سبھا جاتے ہوئے جب ان سے میڈیا نے بات چیت کی تو انہوں نے کہا تھا؛ کہ اب موقع ہے کہ سرکار اور عدالت عظمیٰ ایک ساتھ کام کرے، اور وہ اس سبھا میں اس لئے جارہے ہیں کہ سپریم کورٹ کی نمائندگی کریں گے.

واقعہ یہ ہے کہ دستور اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ عدالت عظمیٰ اور سرکار ایک ساتھ کام کریں؛ بلکہ جمہوریت میں یہ دونوں ادارے مختلف ہیں، ان میں کورٹ کو بالادستی حاصل ہے اور وہ اس لئے کہ جب کہیں سرکار عوام کا حق مارے، وہ اپنے قدم غلط رکھے اور غیر مناسب قانون بنائے یا عوام کی بات نہ سنے تو عدالت عظمیٰ خود ان کے درمیان آکر قانون کی وضاحت کرے، ضرورت ہو تو سرکار کو نوٹس دے اور جواب طلب کرے؛ لیکن سبھی جانتے ہیں کہ شاہین باغ تین مہینے تک سراپا احتجاج بنا رہا، مگر سپریم کورٹ نے سرکار کو بچانے کی کوشش کرتی رہی، اس نے مسئلہ کو حل کرنے کی سعی نہ کی، اسی طرح آج کسانی پریشان ہیں، سخت ترین ٹھنڈی، بارش، ہوا اور بے چارگی میں شب و روز کر رہے ہیں، وہ زرعی قوانین کی واپسی چاہتے ہیں؛ لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں ہے، متعدد مشاورتی نشستوں کے بعد بھی کوئی حل نہیں نکل رہا ہے، ستر سے زائد افراد مارے جانے کے بعد بھی عدالت نے اب تک حکومت کو ایک نوٹس تک جاری نہیں کیا ہے؛ بلکہ ایسا بھی نہیں کہ احتجاج ہونے تک قانون پر روک لگادی گئی ہو، مستزاد یہ کہ وہ مزید سرکار کو چھوٹ دے رہی ہے، ان کی ہاں میں ہاں ملارہی ہے، اور وہ تمام مواقع فراہم کر رہی ہے جس سے سرکار اس احتجاج کو ختم کرنے کا نسخہ تلاش کرسکے؛ چنانچہ سرکار ایک طرف بات چیت کرنے پر راضی ہے، تو دوسری طرف ملک بھر کے دیگر کسانی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک دوسری تحریک اٹھانے کی فکر میں ہے؛ بلکہ موجودہ کسانی تحریک میں موجود جماعتوں کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ ناکام ہوگئے، ایسے میں خطرہ بڑھتا جارہا ہے کہ اگر یہی حال رہا تو سرکار اور کسان آر پار بھی ہوسکتے ہیں، اور عدالت ایک تماشائی بن کر رہ جائے گی، اس کی ساخت تو پہلے ہی نہیں بچی اب اور ذلت اٹھائے گی، شاید ملک میں یہ پہلا موقع ہے کہ اہل دانش کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ بھی نہیں جائیں گے، اب معاملہ جو بھی ہو وہ سرکار اور عوام کے درمیان ہے، اس کا مطلب صاف ہے کہ انارکی پھیلے گی، بے چینی عام ہوگی قتل و غارتگری کا بھی خدشہ ہے، اس موقع پر مسلمانوں کے وہ نادان جبہ دستار والے ملا بھی یار آرہے ہیں؛ جنہوں نے پوری ملت کو سپریم کورٹ کے حوالے کردیا اور وہ بڑی خوشی کے ساتھ اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم ختم کرتے پائے گئے؛ حتی کہ اب پوری قوم لٹی پٹی صورتحال میں پہونچ گئی.

 

 

 

You might also like