Baseerat Online News Portal

سی اے اے کے بہانے دہلی اور لکھنو میں ہوئے فسادات میں لگا سنگاپور کاپیسہ؟

فسادبھڑکانے کے الزام میں گرفتاراسٹوڈنٹ لیڈر عمرخالد کا اعتراف :کرائم برانچ کامضحکہ خیز دعویٰ
نئی دہلی، 11 جنوری (بی این ایس )
دہلی اور لکھنؤ میں سی اے اے کولے کرہوئے فسادمیں سنگاپور اور دوسری جگہوں سے آیا پیسہ لگاتھا۔ یہ اعتراف دہلی فسادات میں گرفتار ملزم خالد نے کیا ہے۔ خالد نے تحریری طور پر یہ بھی قبول کیا ہے کہ فسادات کیلئے رقم اکائونٹ کے ذریعے لکھنؤ کی صدف ظفر کوبھی بھیجی گئی تھی۔ صدف کو لکھنؤ پولیس نے فسادات کے الزام میں گرفتار کیا تھا ، تاہم صدف نے ایسی کوئی رقم ملنے سے انکار کیا ہے اور تفتیشی ایجنسیوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔سی اے اے کے حوالے سے دہلی اور لکھنؤ میں بہت ہنگامہ مچاتھا۔ دہلی اور یوپی پولیس نے فسادات کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان میں عمر خالد بھی ایک تھے۔ جب دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے خالد سے پوچھ گچھ شروع کی تو بہت سارے اہم انکشافات کادعویٰ کیاگیا۔ خالد کے اعترافیہ بیان کے مطابق میں نیو ایجوکیشن ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام سے میرا ایک این جی او بھی ہے اور میں حکومت سے لڑنے کے لئے لوگوں سے چندہ بھی لیتا ہوں۔ سنگا پور کی ایک آئی ٹی کمپنی میں کام کرنے والے نسیم عبد الکریم، مجھے ہر مہینے چندہ دیتاہے۔ جنوری میں میں نے 25 ہزار روپے صدف ظفر کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے، جواس نے اس رقم کااستعمال لکھنؤ میں مظاہرے اور فسادات کے لئے کیاتھا۔دہلی فسادات کے ملزم خالد کے اس اعتراف جرم کے بعد صدف ظفر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں کیونکہ خالد کے بیان کے بعد اب لکھنؤ پولیس اور ای ڈی صدف ظفر سے پوچھ گچھ کرسکتی ہے۔ صدف ظفر کو یوپی میں کانگریس کا رکن بتایا جاتا ہے اور انہیں لکھنؤ فسادات کے الزام میں پولیس نے 19 دسمبر 2019 کو گرفتار کیا تھا اور عدالت نے انہیں 7 جنوری 2020 کو ضمانت پر رہا کیا تھا۔ خود پرینکا گاندھی نے بھی صدف کی گرفتاری کولے کر ٹویٹ کیا تھا اور اتر پردیش کی خواتین کانگریس نے بھی اس کے معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا تھا، لیکن خالد کے اعتراف کے بعد اب صدف ایک بار پھر سوالوں کے دائرے میں آگئی ہے، تاہم جب صدف سے اس بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ پہلے میڈیا پر سوالات اٹھاتے ہیں اور پھر وضاحت دیتی ہیں۔ صدف کے مطابق ان پر عائد تمام الزامات جھوٹے ہیں اور وہ تفتیشی ایجنسیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔

You might also like