Baseerat Online News Portal

سعودی عرب:نیوم میں زیرتعمیرکاربن فری شہرکو’دا لائن‘ کانام دیا گیا

آن لائن نیوزڈیسک
سعودی شہریوں اور عہدیداروں نے نیوم میں کاربن فری شہر کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے۔اتوار کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے کاربن فری شہر کے بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس شہر کو ’دا لائن‘ کا نام دیا گیا ہے، یہ کاروباری مرکز نیوم میں بنے گا۔
اس کی تعمیر کا آغاز رواں برس کی پہلی سہہ ماہی میں ہوگا۔ اس میں دس لاکھ باشندوں کو رہنے کی اجازت ہوگی۔اس نئے شہر میں ’نہ گاڑیاں ہوں گی، نہ ہی گلیاں اور یہ کاربن کے اخراج سے پاک ہوگا۔ یہ شہر فطرت کے قریب ہوگا۔‘
ماہر معاشیات معازن السدیری کا عرب نیوز کے ساتھ گفتگو میں اس شہر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے لوگوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
’یہ تہذیب کا ایک نیا دور ہے۔ ایک شہر کے لیے ایک نیا ماڈل جو صاف ستھرا ہوگا، ترتیب کے مطابق اور اس میں کاربن کا اخراج بھی نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب پرانے تہذیب کے مقابلے میں ڈیٹا کی بنیاد پر نئی تہذیب کی جانب گامزن ہے۔ان کا کہنا تھا شہر کا یہ نیا ماڈل غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرے گا اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر مستقبل فراہم کرے گا۔
سعودی وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ الصواحہ نے نئے شہر سے متعلق ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب 21ویں صدی کے جدید طاقت کے طور پر تاریخ کی کتاب میں داخل ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شہر سبز اور کاربن سے پاک قدرتی توانائی حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے پیر کو العربیہ کو بتایا تھا کہ نیوم میں سبز ہائیڈروجن تیار کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ نیوم پروجیکٹ کے لیے سرمایہ کاری مملکت کے فنڈ، ملکی اور بین الاقوامی سرمایوں کاروں سے آئے گی۔
الاقتصادیہ نے رپورٹ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود 2020 کی تیسری سہہ ماہی میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں دو فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے جس میں لوگوں کو ترجیح دی گئی ہے جس میں معاشروں کی خدمت کے لیے ٹیکنالوجی کو معمور کیا جائے گا۔

You might also like