Baseerat Online News Portal

اپنی نئی کتاب میں ’اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی‘ پراپناالگ نظریہ پیش کریں گے سابق چیف الیکشن کمشنر قریشی

نئی دہلی، 12 جنوری (بی این ایس )
ہندوستان کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی اگلے مہینے مارکیٹ میں آنے والی اپنی کتاب میں ہندوستان کی آبادی اور آبادکاری کو مذہبی بنیادوں پر خاص بنا رہے ہیں اور اس نظریہ پرلگام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی ممنوع ہے۔ کتاب کے ناشر ہارپاکولنس انڈیا نے بتایا ہے کہ ’دی پاپولیشن متھ: اسلام، خاندانی منصوبہ بندی اور سیاست میں ہندوستان‘ (آبادی کا افسانہ: اسلام، خاندانی منصوبہ بندی اور سیاست میں ہندوستان) نامی کتاب میں آبادی کے اعدادوشمار، قومی اور بین الاقوامی رپورٹ کی بنیاد پر ہم مسلم آبادی میں اضافہ کا تفصیلی تجزیہ پیش کریں گے۔مصنفین ان سوچ کے ازالے کے لئے اپنی کتاب میں موجود حقائق کو لارہے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کس طرح تمام برادریوں کے مفاد میں ہے۔ یہ کتاب 15 فروری کو مارکیٹ میں آئے گی۔ اس میں قرآن و حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کس طرح اسلام دنیا کے قدیم چند مذاہب میں سے ایک ہے جس نے چھوٹے خاندان کی وکالت کی ہے، اس لئے بیشتر اسلامی ممالک آبادی کی پالیسیاں رکھتے ہیں۔ قریشی نے دلیل دی ہے کہ کئی دہائیوں سے ہندوستانیوں سے اس پروپیگنڈے کے ساتھ کھلایا گیا ہے کہ مسلمان ہندوؤں پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کے لئے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور اسی طرح مسلمان سیاسی اقتدار پر قابض ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس نظریہ کو تقویت دینے کے لئے مسلمانوں کی طرف توہین آمیز نعرے جیسے’ ہم پانچ، ہمارے پچیس‘یا’ہم چار، ہمارے چالیس‘کو بار بار اعلی سیاسی سطح پر دہرایا گیاہے۔دوسری طرف بہت سارے مسلمان یہ بھی مانتے ہیں کہ اسلام بھی خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف ہے۔ قریشی نے کہاکہ یہ کتاب ان دونوں نظریات اور دیگر غلط فہمیوں کودور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کتاب آبادیاتی، مذہبی، انتظامی، پالیسی اور نظام تعلیم اور آبادی سے متعلق ہے۔قریشی 1971 میں ہندوستانی انتظامی خدمات میں شامل ہوئے تھے اور بعد میں انہیں ملک کا 17 واں چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔

You might also like