Baseerat Online News Portal

ممبرا، اورنگ آبادداعش معاملہ میں نیاموڑ ،دفاع کے مو قف سے استغاثہ میں کھلبلی

ممبئی: 12 ؍ جنوری ( پریس ریلیز ) ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں کا مقدمہ اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں برق رفتاری سے جاری ہے آج یہاں این آئی اے عدالت کے خصوصی جج بھونسلے صاحب کے رو برو ممبرا اور رنگ آباد داعش معاملہ میںدفاع کے موقف کی وجہ سے استغاثہ میں کھلبلی مچ گئی اور کیس میں نیا موڑ پیدا ہو گیا جب دفاع نے عدالت کو بتایا کہ جملہ9 ؍ ملز مین میں سے8 ؍ بالغ ہیں جب کہ ایک ملزم تقی سراج الدین نا بالغ ہے، اس لئے یہ کیس اس عدالت میں نہیں چلایا جا سکتا ہے ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبرا، اور اورنگ آباد معاملے میںملز مین پر یہ الزام لگایا ہےکہ انہوں نے اگست 2018 میں سازش رچی تھی ۔دفاع نےکہا کہ سازش رچنے کاجو گناہ ہوا ہے ،اگر وہ 2018 میں انجام دیا گیا ہے تو اس وقت تقی سراج الدین نا بالغ تھا گویا اس سے جو حرکت ہوئی ہے وہ نا بالغ ہونے کی عمر میں ہوئی ہے اس لئے اس عدالت کو تقی سراج الدین کا کیس چلانے کا اختیار نہیں ہے اس کا کیس بچوں کی عدالت میں چلانا چاہئے دفاع کے اس موقف کی وجہ سے استغاثہ کو بڑا جھٹکا لگا ہے،عدالت نے استغاثہ سے اس بارے میں جواب طلب کیا ہےاور حتمی بحث کے لئے 20؍ جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔
واضح رہے کہ ممبرا، اور اورنگ آباد سے گرفتار کئے گئے9؍ مسلم نوجوان مظہر عبد الرشید ،محسن سراج الدین خان ،سلمان سراج الدین خان ،تقی سراج الدین خان ،سر فراز عبد الحق عثمانی،طلحہ حنیف پوترک ،فہد اشتیاق انصاری ،ضمان نواب قطو پاڑاور مشاہدکو اس کیس میں سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے اور پورے ہی معاملےمیں بڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے۔اس کیس کی پیروی کرنے والے سینئر کریمنل ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ اس کیس میں کئی ایسے نکات سامنے آئے ہیں جس سے جھوٹ کا پردہ ہٹ رہا ہے اور دن بدن سچائی سامنے آرہی ہے ۔

You might also like