Baseerat Online News Portal

111 شراب اڈوں کے ساتھ جرائم میں بھی پنچایت کو ٹاپ پر لے جانا چاہتے ہیں ایم پی اشوک یادوکا پریوار: نظرعالم

بجلی گاؤں پہنچ صفی کے اہل خانہ سے ملے بیداری کارواں کے صدرنظرعالم، انصاف ملنے تک لڑائی لڑنے کا دلایا یقین
دربھنگہ:۱۳؍جنوری(بی این ایس) گرامین اسمبلی حلقہ کے بجلی گاؤں باشندہصفی کے اہل خانہ سے ملنے پہنچے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا کہ دربھنگہ والوں کے لئے سال 2020 سے بھی زیادہ بدتر رنگ دکھانے لگا ہے سال 2021۔ کچھ دن پہلے ہی دربھنگہ گرامین کے بجلی گاؤں باشندہ محمدصفی کا قتل کچھ شرپسند عناصر نے بڑی بے دردی سے کردیا تھا۔ پولیس انتظامیہ کے ذریعہ شروعاتی ڈھل مل رویہ اپنانے کے بعد تین شاطرجرائم پیشوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ مسٹرنظرعالم نے بتایا کہ اصل ملزم مقامی مالے نیتا سرج نارائن شرما کا اپنا بھتیجا ہے اور اس پنچایت کی مکھیا مدھوبنی پارلیمانی حلقہ کے سابق ایم پی حکمدیو نارائن یادو کی بہو اور موجودہ مدھوبنی ایم پی اشوک یادو کے بھائی اودھیش یادو کی اہلیہ ہے۔ صفی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مکھیائن نے اب تک ہمارے گھر آکر حال چال تک جاننے کی ضرورت نہیں سمجھی ہے۔ گاؤں والوں سے ملی جانکاری کے مطابق مالے نیتا سرج نارائن شرما جس کا بھتیجا اصل ملزم بتایا جاتا ہے وہ اپنے قاتل بھتیجا کو بچانے کے لئے دربھنگہ پولیس انتظامیہ پر دباؤ بنانے کی لگاتار کوشش میں لگا ہے۔ نظرعالم نے بتایا کہ اس معاملے پر ہماری پوری نگاہ ہے، ہم کسی بھی قیمت پراصل ملزم کو بچانے نہیں دیں گے۔ نظرعالم نے کہا کہ بجلی گاؤں میں نظم و نسق اور قانون کی حالت بد سے بدتر بنی ہوئی ہے۔ یہاں آنے پر پتہ چلا کہ یہاں 111سے زیادہ شراب کے اڈّے ایم پی اشوک یادو جی کے ناک کے نیچے کھل عام چل رہے ہیں اور جب بھی پولیس چھاپہ ماری کرنے آتی ہے تو یہاں تعینات پولیس کے چوکیدار ہی شراب مافیاؤں کو خبرکرکے چوکنا کردیتا ہے۔ شراب مافیاؤں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ انہیں پولیس کا کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے اُلٹا یہ لوگ مقامی لوگوں کو بھڑکاکر پولیس کے سامنے کردیتے ہیں تاکہ پولیس اپنی کارروائی نہیں کرسکے۔ حد تو یہ ہے کہ اس قتل میں وہ بھی لڑکا گرفتار ہے جو شراب بیچنے والا ہے جس نے یہ قبول کیا ہے کہ صفی کے قتل سے قبل قاتل اس کے یہاں سے شراب خریدا تھا۔جرائم کے آگے ذیرو ٹالرنس کی بات کرنے والے نتیش کمار کی پولیس کے اس رویے سے لگتا ہے کہ دربھنگہ پولیس نے حکومت کو بدنام کرنے کی سپاری لے رکھی ہے۔صفی کے اہل خانہ کی ایک ہی مانگ ہے کہ ملزم کو پھانسی کی سزا دی جائے اس سے کم ہمیں منظور نہیں۔ مقامی سرپنچ حافظ نصیر صاحب اور ان کے صاحبزادے اس معاملے میں پیش پیش ہیں اور صفی کے پریوار کو پورا یقین ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہوگا۔ سرپنچ صاحب سے ملنے پر انہوں نے بتایا کہ ہرحال میں ملزم کو بخشا نہیں جائے گا اور نہ ہی کسی بے قصور کو پھنسنے دیا جائے گا۔ نظرعالم نے آگے کہا کہ گاؤں میں اگر اسی طرح سے شراب اور نشہ کا دھندا چلتا رہا تو جرائم میں بھی یہ پنچایت ٹاپ پر پہنچ جائے گا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے یہ مانگ کی ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر لیتے ہوئے گاؤں کو شراب سے چھٹکارا دلائے اور صفی کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قاتل کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ دُکھ کی اس گھری میں ہماری تنظیم بیداری کارواں صفی کے اہل خانہ کے ساتھ ہے اور ہرممکن مدد دینے کے لئے ہمیں ساتھ کھڑا رہے گا۔ وفد میں شامل محمدنورعین، ہیرانظامی، سونو منڈل، متھلیش یادو، قدوس ساگر وغیرہ شامل تھے۔

You might also like