Baseerat Online News Portal

ناندیڑ اسلحہ ضبطی معاملہ:استغاثہ اور دفاعی وکلاء نے تحریری بحث خصوصی عدالت میں داخل کردی

مقدمہ آخری مراحل میں، انشاء اللہ ملزمین باعزت بری ہونگے: گلزار اعظمی
ممبئی: 13جنوری(بی این ایس)
مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کے مقدمہ میں سرکاری اور دفاعی گواہوں کے بیانات مکمل ہوجانے کے بعد آج جمعیۃ علماء (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزمین کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے خصوصی عدالت میں تحریری بحث داخل کردی جبکہ ایڈوکیٹ عبدالواہاب خان نے تحریر بحث داخل کرنے کے لیئے عدالت سے وقت طلب کیا جسے خصوصی جج نے منظور کرتے ہوئے 30 جنوری تک کی انہیں مہلت دی۔
اس سے قبل ایڈوکیٹ بخاری اور ایڈوکیٹ قدرت شیخ نے بھی عدالت میں تحریری بحث داخل کی تھی جبکہ سرکاری وکیل پرکاش شیٹی پہلے ہی عدالت میں این آئی اے کی جانب سے تحریری بحث داخل کرچکے ہیں۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ان ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ار شد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ دفاعی وکلاء زبانی بحث کرنے کے لیئے تیار ہیں لیکن عدالت کی جانب سے پہلے تحریری بحث اور پھر اگر ضرورت پڑی تو زبانی بحث کی اجازت دینے کا خصوصی جج نے حکم دیا تھا جس کے بعد دفاعی وکلاء نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل ہر ملزمین کے لیئے علیحدہ علیحدہ تحریری بحث عدالت میں داخل کردی ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ استغاثہ کے مطابق ریاستی انسدا ددہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس)نے ان ملزمین کو ۰۳/ اگست ۲۱۰۲ء کو ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے چار ریوالور سمیت دیگر ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن سرکاری گواہوں کی گواہی سے ایسا لگتا ہے کہ ان ملزمین کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت جعلی مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ اس معاملے میں گواہی دینے والے بیشتر آزاد گواہ اپنے سابقہ بیانوں سے منحرف ہوچکے ہیں اور پولس والوں کی گواہی بھی مشکوک رہی ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیۃ علماء نے وکلاء کی ایک ٹیم تیار کی جس میں ایڈوکیٹ عبدالواہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ،یڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ رازق شیخ،، ایڈوکیٹ ارشد شیخ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ان ملزمین کی گرفتاری کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا لیکن بعد میں جب جمعیۃ علماء ناندیڑ سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے ان نوجوانوں کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو معاملے کی تفتیش 2006مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمہ کی طرز پر این آئی اے کے سپرد کی گئی۔
استغاثہ کے مطابق ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔
اس معاملے میں اے ٹی ایس نے ملزمین محمد مزمل عبدالغفور، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر پر آرمس قانون کی دفعات25,3 اور یواے پی اے قانون کی دفعات 10،13،15، اور 16 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا فی الوقت ملزمین تلوجہ سینٹرل جیل میں مقید ہیں اور ان کے مقدمہ کی سماعت خصوصی این آئی اے جج ڈی ای کوٹھالیکر کررہے ہیں حالانکہ کہ کرونا کی وجہ سے ملزمین کو عدالت میں پیش نہیں کیاجارہا ہے لیکن اس کے باوجود دفاعی وکلاء نے تحریر ی بحث تیار کرکے عدالت میں داخل کردی ہے۔

You might also like