Baseerat Online News Portal

بغیرفائنل ٹرائل کے ویکسین کیوں؟کانگریس نے گھیرا

نئی دہلی13جنوری(بی این ایس )
ملک میں 16 جنوری سے کورونا ویکسین تیار کی جارہی ہے۔ ویکسین کی کھیپ مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہے۔ ادھر کانگریس نے ایک بار پھر ہنگامی استعمال کے لیے بھارت بائیوٹیک کی ویکسین کی منظوری پر سوالات اٹھائے ہیں۔اوریہ بھی سوال کیاہے کہ جب یہ صرف ہنگامی استعمال کے لیے منظورہوئی ہے توبڑے پیمانے پرویکسین کیوں دی جارہی ہے؟پھربغیرفائنل ٹرائل کے منظورکیوں کیاگیا؟ان سوالوں کاجواب نہ بی جے پی دے رہی ہے اورنہ سرکارکے پاس ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے اے این آئی کو بتایاہے کہ فیز 3 ٹرائل مکمل کیے بغیر اس ویکسین کو منظور نہیں کیاجاناچاہیے تھا۔ منیش تیواری نے کہاہے کہ ہندوستانی سور نہیں ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ فیز 3 ٹرائل مکمل کیے بغیر ویکسین کی منظوری سے اس کے اے پی ایف سی (افادیت) کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔منیش تیواری نے کہا ہے کہ ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لیے لائسنس ملا تھا۔ اب حکومت کہہ رہی ہے کہ آپ فیصلہ نہیں کریں گے کہ آپ کو کون سی ویکسین دی جائے گی۔ جب ویکسین کے فیز 3 ٹرائل مکمل نہیں ہوا تو اس کی افادیت کے بارے میں بہت سارے خدشات ہیں۔ حکومت کو اس وقت تک ویکسین آؤٹ نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ اس کی افادیت اور اعتماد پوری طرح سے ثابت نہ ہو اور فیز 3 ٹرائل مکمل ہوجائے۔حکومت کو اس طرح کام کرنا چاہیے کہ لوگوں کو (ویکسین کے حوالے سے) مکمل اعتماد حاصل ہو۔ آپ فیز 3 ٹرائل کی طرح ویکسین کو ختم نہیں کرسکتے۔ ہندوستانی سور نہیں ہیں۔

You might also like