Baseerat Online News Portal

قائد کی یاد گار تقریر ! (قسط ؍۲۲ )

ش ۔م ۔احمد ۔کشمیر

زبان ِ صلح بھی ہوئی بے اثر
مسلم کا نفرنس کا سہ روزہ سالانہ اجلاس مسلم پارک جامع مسجد سری نگر کے احاطے میں ۱۶ تا ۱۸ جون ۱۹۴۴منعقد ہونا تھا۔ا جلاس کو کامیاب بنانے یا صحیح تر الفاظ میں اپنی عوامی قوت کا مظاہر ہ کر نے کے سلسلے میں تنظیم نے وسیع پیمانے پر زورو شور سے سے تیاریاں کی تھیں۔ ان کے نتیجے میں ریاست کے طول وعرض سے مسلم کانفرنس کے وابستگان جوق در جوق سالانہ اجلا س میںشریک ہوئے ۔ اُن کا جوش وخروش دیدنی تھا ۔ قائد اعظم جناح سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں اسٹیج پر براجماں ہوئے تو تمام لوگوں کی نظریں اُن کے نحیف ونزار وجود اور مسکراتے چہرےپر مرکوز تھیں ۔ حق یہ ہے کہ وہ تقریب کے میر مجلس تھے اور تمام نگاہوں کے لئے ایک واحد نکتہ ٔ اتصال۔ اُس دور کے عینی گواہوں کے مطابق لوگوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر قائد کو سننے اور دیکھنے کے لئے جلسہ گاہ میں بے تاب و بے قرار تھا ۔ جامع مسجد میںایک جشن اور میلے کا سا سماں برپا تھا ، یہاں تک کہ مسلم پارک اس بڑے مجمع کو سمانے میں ناکافی ہورہا تھا، ا س لئے لوگ دروبام ، پیڑوں درختوں اور چھتوں پر چڑھ گئے۔ نوہٹہ اور گوجوارہ سڑک پہلے ہی لوگوں کے جم غفیر سے بھری پڑی تھی۔ عام لوگوں کے علاوہ ایک لاکھ نفوس سے زائد مندوبین اور شر کا نے سالانہ اجلاس کی رونقیں بڑھائیںاور مسلم کانفرنس کی تاریخ میں جلسے کو اپنی نوعیت کی یادگار ایونٹ بنا چکاتھا ۔ مسلم کانفرنس کے زبردست حریف شیخ محمد عبداللہ اپنے قصۂ حیات میں شرکائے اجلاس کی تعداد صرف بیس پچیس ہزار بتا کر شاید قاری کو اپنی آبائی تنظیم کی عدم مقبولیت کا قائل کر نا چاہتے تھےمگر یہ اُن کا ذاتی ظن و تخمین تھا جب کہ تاریخ ِ کشمیرشرکا ئے اجلاس کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتاتی ہے ۔ اجلا س کی صدارت چودھری غلام عباس نے کی جب کہ ایوان ِ صدارت میں بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح کے ہمراہ میرواعظ ِکشمیر محمد یوسف شاہ، مولوی محمد امین(مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کے والد بزرگوار) اور ریاست بھرسے آئے اکابرین ِکا نفرنس اور تنظیمی عہدیدار موجود تھے ۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور نعت شریف سے ہو ا۔اس کے بعد مولوی محمد امین صاحب نے خطبہ ٔ استقبالیہ پیش کیاجس میں قائد کو خوش آمدیدکہنے کے علاوہ مندوبین اور شرکا ئے اجلاس کا رسمی طور استقبال کیا گیا ۔ چودھری صاحب نے خطبہ ٔصدارت کو اپنی تقریر دل پذیر کی صورت میں پیش کیا۔اس کے بعد اجلاس کے مرکزی کردار اور عوامی کشش کے محرک قائد اعظم اُٹھ کھڑے ہوئے اور مائک سنبھالی۔ انہوں نے گرم جوشانہ تالیوں کی گونج میں اپنا خطاب شروع کیا۔ اپنی تاریخی تقریر کے آغاز میں جناح صاحب نے اس امر واقع کا بلا تکلف اظہار کیا کہ ۱۹۳۱ میں بیداری ٔ کشمیر کی جوزوردار لہر اُٹھی تھی ،وہ اب ایک سمندر میں بدل چکی تھی اور مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں لوگوں کی یہ بھاری تعداد بھی اُس عظیم الشان جذبے کا احاطہ کر نے میں ناکافی تھی جو کشمیر یوں کی سیاسی بیداری کی عکاس ہو سکتی ۔ قائد نے مسلم کانفرنس کے شانے تھپتھپاتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں کہا :
’’مجھ سے ملنے والے ۹۹؍فیصد لوگوں نے رائے ظاہر کی کہ یہاں مسلمانوںکی جماعت ہے جس کانام مسلم کانفرنس ہے۔ صدر صاحب یہ ہے مسلمانوں کی آواز ،اب آپ کاکام اسے سنبھالنا۔۔۔ کچھ بھائیوں کی رائے ہے کہ مسلمانوں کو نیشنل کا نفرنس میں شامل ہونا چاہیے ، میں نے اُن کی دلیل بھی سن لی ، میرا کام کسی کو دبا نا نہیں ہے کیونکہ جو آپ کا سوال ہے وہ برٹش انڈیا سے جدا ہے، پھر بھی ایک مسلمان بھائی کی طرح میرا فرض ہے کہ ہر بھائی کی رائے سننا اور اسے نصیحت کر نا اور ہدایت دینا ہے۔ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ ا س میں کامیاب ہو جا ئیں گے۔ نیشنل کانفرنس تقریباً آٹھ سال پہلے ۱۹۳۸ میں وجود میں آئی، میں نے دریافت کیااس میں ہندو اور سکھ کتنے ہیں، جواب ملا کہ چند سکھ اور کچھ ہندو، پھر سوائے مسلمان کے وہاں رہاکون ؟ جواب ملتا ہے کہ نہ بھی ہو تو بھی دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آٹھ سال سے ا س دروازےسے ہندو اور سکھ داخل نہ ہوئے تواس کا سبب کیا ہے ، یہ غلطی ہے( یہاں ’’غلطی ‘‘ سے مراد نیشنل کا نفرنس کا قیام ہے ) جس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے دوفرقے ہوگئے ہیں ۔ جو ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہو لو۔ بہت سوچ اور غور وفکر کے بعد آخر یہ جواب ملتا ہے کہ ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر میں فرقہ پرستی نہیں ہے ۔ انڈین نیشنل کانگریس بھی برطانوی علاقہ میں سارے ہندوستان کی دعویدار تھی مگر یہ بات سچی نہیں تھی۔ اس نے یہی رویہ اپنا رکھا اور جھوٹا پروپگنڈاکیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ جو مسلمان، عیسائی، سکھ وغیرہ اس میں شامل ہوئے تھے، الگ ہونے لگے۔ ہر سوال پر ہندو اکثریت نے اقلیت کے فائدے کی چیز کو ٹھکرایا۔ کیا آپ جموں وکشمیر میں یہی فریب بازی کرنا چاہتے ہیں کہ ہر بات میں مسلمان اکثریت اقلیت کو پامال کرتے پھرے ، یہ کبھی نہیں ہوسکتا اور نہ آپ اس سے ہندوؤں اور سکھوں کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں ۔ صاف کہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم سب کے ترجمان نہیں ہیں ۔۔۔ چند دن ہوئے کہ ہندو کانفرنس ( مرادہندو مہا سبھا) ہوئی اور ۲۷ ؍مئی کو چاند کرن شاردا کی تقریر ہوئی( بلیغ اشارہ ہے ہندوسبھا کے نائب صدر چاند کرن شاردا کی طرف جو قبل ا زیں اسلام آباد کشمیر میں آکر پنڈتوں کو یہ بھاشن دے چکا تھا :’’ آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان اَکھنڈ ہے، مسلمان اس دیش کو ٹکڑے ٹکڑے کر نا چاہتے ہیں مگر کیا ہم اپنی ماں کے ٹکڑے ہونے دیں گے؟ ہر ہندو جو بھارت ماتا میں رہائش رکھتا ہے ،ایسا نہیں ہونے دے گا۔ آپ لوگ ڈرتے ہیں کہ ہم اقلیت میں ہیں لیکن آپ کو غور کرنا چاہیے کہ ایک رنجیت سنگھ نے اپنی تلوار کے زور سے یہ ملک حاصل کیا ہے اور آج یہاں کا حکمران ( مراد مہاراجہ ہر ی سنگھ) ہمارا ہندو ہے اور یہ ایک خالص ہندو ریاست ہے۔ کیا اپنی حکومت سے کوئی ڈرتا ہے؟ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری آبادی ۷۵ فی صد ہے اور مرکزی حکومت میں ہماری نمائندگی ۷۵ فی صد ہوگی۔ اس لحاظ سے آپ اقلیت میں نہیںاکثر یت میں ہیں اور راج ہمیشہ آپ کا ہوگا۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوگی تو ہم اپنے خون کا آخری قطرہ بہادیں گے، ہم وہ ہیں جنہوں نے تلوار کے زور سے مغل سلطنت کا خاتمہ کردیا اور جن کے نام سے پٹھان بچے آج تک ڈرتے ہیں ۔ کشمیر میں چند ایک ہندو اپنے آپ کو نیشنلسٹ جتلاتے ہیں، اُن کو واپس آنا چاہیےکیونکہ جناح صاحب جو کچھ ہندوستان میں کر رہے ہیں ، عبداللہ صاحب بھی کشمیر میں وہ عملی صورت میں کر تے ہیں) ۔ جو بھائی سمجھتے ہوں کہ وہ بڑے ہوشیار ہیں تو یہ بہت بڑی بھول ہے۔ آپ کے سامنے انڈیں نیشنل کانگریس کی مثال ہے ، اُس نے چالیس سال تک کوشش کی، میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس کے ساتھ کوئی نہیں ، نہ اچھوت نہ سکھ نہ مسلمان، اس سے جو نقصان ہندوستان کو ہوا ،وہ ہمارے سامنے ہے۔ آپ کشمیر میں اسے دہرائیں گے تو نقصان اُٹھائیں گے۔ ہماری نہ ہندو سے دشمنی ہے نہ سکھ سے، ہم انصاف چاہتے ہیں ، ہندو کے مذہب اور فلسفہ یا سکھ کے کلچر کو عزت سے دیکھتے ہیں ۔ آپ اپنی جماعت کو مضبوط کیجئے اور پھر ہم سب بیٹھ کر فیصلہ کریں ۔ ا س کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیںہے ۔ فیصلہ آپ کریں گے، آپ کسی ایک سوال کو ٹھائیں مثلاً علم وتعلیم جس میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ اگر آپ نے یہ سوال اٹھایا کہ ہماری مرضی سے بچوں کا نصاب منتخب کیا جائے اور ہماری تاریخ اور کلچر کو پڑھا جائے، کیا ہندو قبول کرے گا ؟ کبھی نہیں ، اس کا قصور نہیں، ان کے بچوں کوہندوروایات کے مطابق تعلیم دی جائے، اگر آپ نے کوئی مخلوط کوشش کی تو اس میں جھگڑے ہوں گے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندو اورسکھ بلا روک ٹوک اپنے بچوں کو اپنے خیالات کے مطابق تعلیم دیں۔۔۔ مسلمانو! اٹھو ، جاگو اور کوشش کرو اور اس مردہ قوم کے ہر شعبہ میں زندگی کی رمق پیدا کر نے کا ایک ہی راستہ ہے، وہ ہے ایک جھنڈے کے نیچے ایک نصب العین لو لے کرہم خیال وہم نوا ہونا ۔۔۔ اگر آپ ذمہ دار حکومت چاہتے ہیں تو سرگرم ِ عمل ہوجائیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہندو اور سکھ آپ سے صلح کرلیں گے اور مہاراجہ ذمہ دار حکومت دیں گے ۔ برطانوی ہند میں ہماری حیثیت دوسری ہے۔ مسلما نان ِ کشمیر اگر پاکستان کی اخلاقی حمایت کر تے ہیں تو اس میں ہرج ہی کیا ہے؟ ہم پاکستان ضرور حاصل کریں گے۔ تُرکی، ایران، افغانستان کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہیں اور ہم ایک دوسرے کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں ۔‘‘
جناح صاحب نے مسلم کا نفرنس کے پنڈال سے جو کچھ بھی کہا، اُس میں دوقومی نظریہ کی وکالت ضرور ہے مگر نہ کہیں لفاظیت، نہ جذباتیت ، نہ زمینی حقیقتوں سے اعراض ہے ،نہ اپنے حامیوں کی جھوٹی مدح سرائی ،نہ مخالفین کی بے جا تنقید ، بجز اس بات کے کہ بانی ٔپاکستان نے بغیر کسی حیل وحجت کے مسلم کانفرنس کے ساتھ اپنا ئیت اور ہم آہنگی خم ٹھونک کر جتلائی اور نیشنل کا نفرنس کے سیاسی نظریات کو کھلم کھلا رد کیا۔ اپنے ایک ایک دعوے میں دلیل وبر ہان کا رَس گھولتے ہوئے قائد نے جہاں اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیا ، وہیں اپنی سیاسی بصیرت ، حق شناسی اورناصحانہ درد مندی کا بھی بھرپور مظاہر ہ کیا ۔ کشمیرکی مسلم قیادت کو بہ حیثیت مجموعی یہ فہمائش کرنا ان کی حساسیت کی واضح مثال؛ تھی کہ یہ اپنی بے یارو مددگار قوم کے درد کا اصل درماں بنیں۔ انہوں نے اپنے عقیدے اور محسوسا ت کو ذرہ برابر بھی نہ چھپایا۔ یہ اُن کے ذاتی خلوص کا ہی ثبوت تھا کہ مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں جب مسلم سٹوڈنٹس یونین نے قائد کواپنا روایتی سپاس نامہ پیش کیا تو موصوف نے انہیں سیاست کے بکھیڑوں سے دوررَ ہ کر قوم میں تعلیم وتعلم کا اُجا لا کر نے کے لئے نائٹ اسکول قائم کر نے کی صلاح دی تاکہ ناخواندگی اور جہالت سے لڑنے کی قوت قوم کوفراہم ہو ۔ شیخ محمد عبداللہ نے قائد کی اس یادگار تقریر کو اپنے خلاف اعلان ِ جنگ سمجھا اور جلتی پر تیل ڈالنے کے لئے اجلاس میں کئی ایک مقررین نے بھی نیشنل کا نفرنس کے خلاف الفاظ کی جنگ چھیڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑکر دل کی بھڑاس نکالی۔(جاری)
نوٹ: ش م احمد کشمیر کے آزادصحافی ہیں

You might also like