Baseerat Online News Portal

مفکراسلام حضرت مولانا علی میاںؒ اوربھارت کے سیاسی مسائل. پانچویں قسط

 

ؓ محمدانتخاب ندوی

دارالعلوم فیض محمدی مہراج گنج گورکھپوریوپی

 

آزادی سے پہلے مسلمانوں کے پاس دو طرح کی قیادت موجود تھی ۔ ایک سیاسی قیادت اور دوسری مذہبی قیادت۔ 1947 کے بعد سیاسی قیادت پوری طرح سے ختم ہوگئی ۔ ہندوستان کا مسلمان مذہبی قیادت کے زیر اہتمام زندگی گزارنے لگا ۔ مسلم تنظیموں نے مسلمانوں کا مسیحا بننے کا دعویٰ کیا اور اس کا اثر مسلم سماج پر آج بھی صاف طور سے دیکھا جارہا ہے ، لیکن مسلمانوں کو کیا ملا ۔ جمیعت علما ، جماعت اسلامی ، امارت شرعیہ ، ادارہ شرعیہ ، ملی کونسل وغیرہ اس کے علاوہ مذہبی گروپ جیسے سنی ، شیعہ ، وہابی ، دیوبندی ، بریلوی ، تبلیغی جماعت ۔ مسلمانوں کی تنظیم یا مسلمانوں کا مذہبی گروپ الگ الگ طریقہ سے مسلمانوں کے مسئلہ پر اپنی آواز اٹھاتا رہا ۔ کسی کو تھوڑی کامیابی ملی اور کسی کو نہیں ملی ۔ کسی نے مسلمانوں کو دکھا کر سیاسی فائدہ حاصل کیا تو کسی نے مذہب کا نعرہ دیکر سماج میں اپنی لیڈرشپ قائم کی ۔ سب کچھ ہوا ، لیکن مسلمانوں کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ ان تنظیموں نے مسلمانوں کو حکومت پر منحصر کرنے کا راستہ ہموار کیا ۔ کوئی بھی کام ہو ، حکومت ذمہ دار ہے۔ مسلمان خود کھڑا ہوکر اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش میں کافی پیچھے چھوٹتا چلا گیا۔اور صورت حال ایں جارسد کہ مسلمانوں سے حب وطنی کا ثبوت مانگا جارہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان بازیچہ اطفال بن چکے ہیں جنھیں جو بھی جس وقت بھی اور جسطرح سے بھی چاہے Useکرسکتا ہے تو موقع ہر ہمیں کرنا چاہیے تو آییے آپ سامنے حضور مفکر اسلام کی چشم کشا تحریر پیش کرتے

*آسان حل*

حضرت مولانا نے فرمایا کہ

مسلمان اس ملک میں اپنا سیاسی وزن ثابت کرنے کے لیے اور اس حقیقت کے اظہار کے لیے کہ وہ پاس میں فیصلہ کن ثابت کا درجہ رکھتے ہیں کسی سیاسی پارٹی یا حکمران جماعت کے پابند رہیں اور اپنے حق رائے دہندگی کا آزادانہ استعمال کریں کیونکہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل اور قسمت مستقل طور پر کانگریس سے وابستہ ہے اور مسلمانوں کے ووٹ اسی کی جیب میں پڑے ہوئے ہیں،ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہوجاۓ کہ مسلمانوں نے کسی جماعت کے نام خط غلامی نہیں لکھ دیا ہے،اور انھیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ جس طرح ان میں نفع پہونچانے کی صلاحیت ہے، ضرر پہونچانے کی بھی صلاحیت ہے (چاہے وہ اپنی شرافت سے کس وقت اس کا ثبوت نہ دیں) تاکہ کوئ جماعت ان کو صرف نفع کا ذریعہ سمجھ کر ان کے حقوق ومسائل سے چشم پوشی نہ کرے میں اسوقت اکثر اقبال کے یہ دوشعر پڑھتا تھا؎

تمیز خاروگل سے آشکارا نسیم صبح کی روشن ضمیری

حفاظت پھول کی ممکن نہیں

اگر کانٹے میں ہو خوۓحریری

*ملاحظہ* کاروان زندگی ج٢ص٩٠

آپ مزید لکھتے ہیں کہ

کسی سیاسی پارٹی یا قیادت کا بلاترجیح واستحقاق کا بلا ترجیح واستحقاق کے مدت دراز تک منصب قیادت پر فائز رہنا اور ملک کے نظم ونسق پر حاوی اور قابض رہنا بہت سی خرابیوں کا باعث ہوسکتاہے،ایسی اجارہ داری (MONOPOLY) کی شکل میں اس جمہوری حکومت اور سیاسی اور آئینی حکمراں جماعت میں وہ معائب اور کمزویاں پیدا ہوسکتی ہیں، جوزمانہ سابق میں طویل المیعاد خاندانی وموروثی سلطنطوں اور حکمراں خاندانوں میں پیدا ہوئیں،اور جنکی تفصیلات اور مثالیں ہر ملک کی تاریخ میں موجود ہیں،یہ فطرت انسانی ہے،جس سے بچنااور جس پر غالب آنا تقریبا خلاف فطرت اور بعید از قیاس واقعہ ہے۔

*بحوالہ۔کاروان زندگی ج ٤ص١٥٢*

*مسلمانان ہند کے لئے ایک اہم پیغام*

مفکراسلامؒ فرماتے ہیں کہ

“مسلمان قوم کا یہ امتیاز اور اس ملک کا جمہوری نظام،پھر مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی،یہ ساری باتیں مواقع فراہم کرتی ہیں کہ ہم یہاں کے نظم ونسق پر اثر انداز ہوں، یہاں قانون بنانے میں ہمارا حصہ ہو سکتا ہے، پھر اس ملک کو جمہوری ہونے کی وجہ سے اس ملک کی قیادت کا منصب حاصل کر سکتے ہیں، اگر ہم اپنے کو اخلاقی طور پر، باطنی طور پر، ذہنی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی ممتاز وفائق ثابت کردیں، اس ملک کی قیادت کے ہم طالب نہیں ہوں گے، ملک کی قیادت خود ہماری طالب ہوگی، ہمیں سورج کا چراغ لے کر ڈھونڈے گی، یہاں کے خاک کے ذرہ ذرہ، درخت کے پتہ پتہ سے آواز آئے گی کہ اس ملک کو بچانے والے کہاں ہیں؟آئیں اور اس ملک کو بچائیں۔ آپ کی حیثیت نہیں ہے کہ آپ کو کچھ آسانیاں چاہیں، آپ کو کچھ آسامیاں چاہیں،آپ ملک کے نجات دہندہ ہیں۔آپ اس ملک کے آخری امید ہیں۔اس ملک کے باشندوں کو ہم عدل کا پیغام دیں،عقل سلیم کا پیغام دیں،خدا ترسی اور دوستی کا پیغام دیں، اور اسمیں اسکا لحاظ رکھیں کہ ہمارا وہ پیغام اسلامی عقیدہ اور ایمانی جذبہ کے ساتھ مربوط اور جڑا ہوا ہو،

بحوالہ مقالات مفکر اسلام (ج٢ ص٣٣٨)

You might also like