Baseerat Online News Portal

اپنی پسند سے شریک حیات کے انتخاب کا حق ،تبدیلی مذہب کے لیے ایک ماہ قبل نوٹس ضروری نہیں

الہ آبادہائی کورٹ کااہم فیصلہ ،بین مذہبی شادی پراعتراض حق رازداری وآزادی کے خلاف
الہ آباد14جنوری(بی این ایس )
اترپردیش کے الہ آبادہائی کورٹ نے تبدیلی مذہب اورشادی سے متعلق مسئلے سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیاہے جس سے ان عناصرکوبڑاجھٹکالگاہے جوتبدیلی مذہب کے نام پرمبینہ لوجہادکاشوشہ چھوڑکرماحول خراب کررہے ہیں۔ہائی کورٹ کے مطابق اب اگر کوئی بین مذہبی شادی کرلیتا ہے تو پھر ایکٹ کے مطابق انہیں 30 دن قبل نوٹس دینے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اس عمل کو اختیاری سمجھا جائے گا۔ ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے کل سنجیدہ تبصرے کیے۔ وہ بھی جب ریاست میں مبینہ لو جہاد کا معاملہ گرم ہے اور حکومت نے بھی اس کے بارے میں متنازعہ قانون بنایا ہے۔ ہائی کورٹ کے مطابق بین مذہبی شادی سے پہلے نوٹس یا شادی پر اعتراض کرنا سراسر غلط ہے۔ ایسا کرنا کسی شخص کی آزادی،رازداری کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی بالغ کو اپنی پسند کے مطابق شریک حیات منتخب کرنے کاحق ہے۔خاندان،معاشرے یاحکومت کی مداخلت سے شخص کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔اگر شادی شدہ جوڑا نہیں چاہتاہے کہ ان کی کوئی معلومات عام ہوں تو ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا نوجوان نسل کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ہائی کورٹ نے کہاہے کہ کسی اعتراض کی تلاش نہیں کی جانی چاہیے لیکن دونوں فریق شخص کی شناخت ، عمر اور دیگر اہم چیزوں کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

You might also like