Baseerat Online News Portal

مجلس اتحادالمسلمین یوپی میں پھر پنچایت انتخابات لڑے گی

لکھنؤ14جنوری(بی این ایس )
یوگی کے سابق وزیرراج بھرکے ساتھ اویسی اترپردیش کی سیاست میں آگئے ہیں جس طرح کشواہاکے لیے انتخابی تشہیرسے مسلم ووٹ بہارمیں تقسیم ہوئے اوربعض جگہوں پراین ڈی اے کی جیت ہوئی۔اسی طرح کہانہیں جاسکتاکہ جیتنے کے بعدراج بھرپھریوگی کابینہ میں چلے جائیں گے،جیساکہ اویسی کے وزیراعلیٰ امیدوارکشواہاکے این ڈی اے میں جانے کی قیاس آرائی ہے۔بہارمیں مسلم ووٹ توجوش میں کشواہااوربی ایس پی کوبعض جگہوں پر مل گئے لیکن کشواہااوردلت ووٹ مجلس کوملے ہیں،یہ کہانہیں جاسکتا۔اتر پردیش کی سیاسی نبض کو پکڑنے کے لیے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی اور اوم پرکاش راج بھرکی سہیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی آئندہ پنچایت انتخابات لڑ سکتی ہے۔ اوم پرکاش راج بھرنے کہا ہے کہ امکان ہے کہ اویسی کی پارٹی امیدوار پنچایت انتخابات میں اتحاد کے تحت انتخابی میدان میں اترے گی۔ اگرچہ اویسی یوپی میں پنچایت انتخابات کے ذریعے سنہ 2015 میں ریاست میں داخل ہوئے لیکن پانچ سالوں میں ریاست کا سیاسی مزاج کافی حد تک بدل گیا ہے۔ اگر یوگی کو اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے تو اویسی کو راج بھر کی شکل میں ایک ساتھی مل گیا ہے۔ اویسی کی پارٹی سمیت اوم پرکاش راج بھر کی سربراہی میں چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کی شراکت کی قرارداد تشکیل دی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یوپی کے پنچایت انتخابات کو ٹیسٹ سمجھا جارہا ہے ، اسی بنا پر اویسی اورراج بھر 2022 کے اسمبلی انتخابات کی بنیاد رکھیں گے۔

You might also like