Baseerat Online News Portal

سلطنت مغلیہ کے حکمراں شاہ جہاں اوراورنگزیب کی مذہبی ہم آہنگی نہیں آرہی ہے راس !

این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں درج مندروںکی مرمت کرائے جانے کی بات ہضم نہیں کرپارہی ہیں سخت گیرتنظیمیں
نئی دہلی،14جنوری(بی این ایس )
این سی ای آر ٹی کی بارہویں جماعت میں پڑھائی جارہی تاریخ کی بنیاد پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔ بارہویں تاریخ کی کتاب میں’ تھیمز آف انڈین ہسٹری پارٹ ٹو‘ میں مغلوں کی طرف سے جنگ کے دوران مندروں کے انہدام اور اس کے بعد مندروں کی مرمت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں شیوانک ورما نے آر ٹی آئی کے ذریعہ این سی ای آر ٹی سے کچھ معلومات طلب کی تھی۔ ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے دو الفاظ میں کہا گیا کہ محکمہ کے ذریعہ طلب کی گئی معلومات کے حوالے سے فائل میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا این سی ای آر ٹی کی تاریخ کی کتابوں میں بے بنیاد تاریخ پڑھائی جارہی ہے؟۔ اس سلسلے میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر اندھو وشواناتھن نے ٹویٹ کیا ہے۔پچھلے سال دوسرے پیراگراف میں فراہم کردہ معلومات کے ماخذ سے این سی ای آر ٹی بارہویں جماعت کی تاریخ کتاب میں ہندوستانی ہسٹری پارٹ ٹو کے تھیمز کے صفحہ 234 پر پوچھا گیا تھا۔ اس پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ جب جنگ کے دوران مندروں کو مسمار کیا گیا تھاتو بعد میں شاہ جہاں اورنگزیب نے ان مندروں کی مرمت کے لئے گرانٹ جاری کیا تھا۔آر ٹی آئی میں دوسرا سوال یہ تھا کہ اورنگ زیب اور شاہ جہاں نے کتنے مندروں کی مرمت کرائی تھی۔ این سی ای آر ٹی نے دونوں سوالوں کا یکساں جواب دیا۔ 18 نومبر 2020 کو جاری کردہ خط کے مطابق بتایا گیا ہے کہ طلب کی گئی معلومات محکمہ کی فائلوں میں دستیاب نہیں ہے۔ خط پر محکمہ کے شعبہ اور پبلک انفارمیشن آفیسر پروفیسر گوری سریواستو کے دستخط ہیں۔آر ٹی آئی پر این سی آئی آر ٹی کے جواب کے بعد تاریخ کے بارے میں ٹویٹر پر ’مغل‘ ورڈٹرینڈہورہا ہے۔

You might also like