Baseerat Online News Portal

باہمی رضامندی سے بنائے گئے جسمانی تعلقات کوسزاکے زمرے سے باہر کرنے والا فیصلہ مسلح افواج پرلاگو نہ ہو: مرکز

نئی دہلی،14جنوری(بی این ایس )
مرکز نے بدھ کے روز سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ بدکاری یا زنا کو تعزیرات ہند کے تحت دائرہ کار سے باہر کرنے سے متعلقہ سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کو مسلح افواج پرنافذ نہیں کیا جانا چاہئے۔ جسٹس آر ایف نریمن، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس کے ایم جوژف پر مشتمل بنچ نے مرکز کی درخواست پر اصل پی آئی ایل درخواست گزار جوزف شائن اور دیگر کو نوٹس جاری کیا، نیز پانچ رکنی آئینی بنچ تشکیل دینے کیلئے یہ معاملہ چیف جسٹس ایس بوبڑے کوبھیجا، کیونکہ وہی صورتحال کی وضاحت کر سکتی ہے۔بنچ نے اپنے حکم میں کہاکہ نوٹس جاری کیا جائے، چونکہ آئینی بنچ کے فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی ہے، اس لئے یہ مناسب ہوگا کہ چیف جسٹس اس معاملے کو پانچ ججوں کے بنچ کے سامنے درج کرنے کا حکم دیں۔ رجسٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ معاملہ ایک مناسب حکم کے لئے چیف جسٹس کے سامنے پیش کرے۔ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ مسلح افواج سے متعلق قواعد کے تحت بدکاری غیر اخلاقی سلوک ہے ،کورٹ مارشل ایک بنیاد ہے۔ مارشل اور اسی لئے مسلح افواج کو آئین بنچ کے 2018 کے فیصلے کے دائرہ کار سے خارج کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج میں اس فیصلے کے نفاذ کولے کر عدالت عظمیٰ سے وضاحت کی ضرورت ہے۔2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے زنا یابدکاری کے معاملے پر متفقہ فیصلے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 497 کو غیر آئینی قرار دیاتھا۔ بنچ نے کہا تھا کہ زنا کرنا کوئی جرم نہیں اورنہ ہی غیر آئینی ہے کیونکہ اس دفعہ سے خواتین کی ذاتی حیثیت کو ٹھیس پہنچتی ہے کیونکہ یہ دفعہ انہیں’شوہروں کی جاگیر‘ کی طرح مانتی ہے، تاہم عدالت نے واضح کیا تھا کہ ازدواجی تنازعات میں بدکاری طلاق کا ایک سبب بنے گی۔ مرکز نے جوزف شائن کی نمٹاراکی جاچکی دائر درخواست میں اپنی آخری درخواست میںعدالت سے وضاحت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
مرکز نے یہ ہدایت دینے کی اپیل کی ہے کہ یہ فیصلہ مسلح افواج کو کنٹرول کرنے والے خصوصی قوانین اور قواعد پر لاگو نہیں ہوگا۔مسلح افواج میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لئے جب افراد بغیر شادی کے جسمانی تعلقات میں ملوث ہوتے ہیں تو کاروائی کی جاتی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب جوان اور افسران کو غیر آباد علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے تو ان کے اہل خانہ کی بیس کیمپ میں دیگر افسران ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اورایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ان قوانین اور قواعد میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے ایسی کاروائی کرنے کاقانون موجود ہے۔
تعزیرات ہند کی دفعہ 497 کے مطابق اگر کوئی مرد یہ جانتا ہو کہ یہ خاتون کسی دوسرے مرد کی بیوی ہے اور وہ اس شخص کی رضامندی یاملی بھگت کے بغیر اس خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات بناتا ہے تو وہ اس جرم کا مرتکب کرکے زنااور عصمت دری کے زمرے میں نہیں آئے گا۔زنا کاری قابل سزا جرم تھا اور اس قانون میں پانچ سال قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا دی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اس دفعہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 497 من مانا اور قدیم قانون ہے، جو برابری اور مساوی مواقع کلئے خواتین کے حقوق کی پامالی کرتا ہے۔

You might also like