Baseerat Online News Portal

مالوہ کامرد قلندر؛ مولانا اشفاق احمد رحمانی

 

 

بقلم :

مفتی محمداشرف قاسمی، مہدپور، اجین۔

 

سیرکی، پھول چنے، خرم و دل شاد رہے

باغباں! ہم تو چلے گلشن ترا آباد رہے

 

کووڈ19 کے موقع پر لاک ڈاؤن اور پھر انلاک کے دوران بے شمار افراد اس دنیائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گئے،جس پر فطری تقاضوں کے تحت اگر ان کے متعلقین نے اظہار رنج و افسوس کیا تو کچھ لوگوں نے ان کے پسماندگان کے لیے کلمات صبر لکھ کر پسماندگان کی اشک سوئی کی کوشش کی۔

لیکن ان مرحومین میں ایک تعداد ایسی بھی ہے، جن کی وفات پر صرف ان کے اہل خانہ ہی حزن و ملال کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ بڑی تعداد میں عام افراد ملت کے لوگوں کو بھی ان کے انتقال پر کافی صدمہ پہونچا ہے۔

ذاتی طور پر میرے ذہن میں یہ بات راسخ ہے کہ ملت اسلامیہ کو بروقت جن حالات کا سامنا ہے وہ اس میدان کار زار سے کم نہیں ہے جہاں دماغ کو صحیح وغلط استعمال کرکے فتح وشکست کی تاریخ بنائی جاتی ہے۔ جس طرح مسلح جنگ میں مرحومین و مقتولین اور شہداء کے انتقال پر نوحہ خوانی کے بجائے اعداء کے تیروں کو روکنے اور اپنے ترکش سے دشمن کو نشانہ بنانے کی سعی میں ادنی توقف وتساہل سے بھی احتراز کیاجاتا ہے، اسی طرح دماغی معرکہ میں بھی ہمیں کسی کے انتقال پر اپنا دماغی کام (یعنی اکیڈمک ورکس) چھوڑ کر نمائشی تعزیت وغیرہ میں نہیں مصروف ہوناچاہیے۔ چوں کہ اعداء اسلام پوری قوت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے دماغ کو استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اسلام کے دفاع اور اشاعت کے لیے ہمیں بھی اپنے دماغ کو مسلسل استعمال کرتے رہنا چاہیے۔

اسی فکر وخیال کے پیش نظر راقم الحروف نے اس سال ہزار سے بھی زائد صفحات سیاہ کیے، لیکن دنیا سے رخصت ہونے والے بے شمار لوگوں میں پانچ افراد کے علاوہ کسی پر بھی کوئی تعزیتی مضمون نہیں لکھا، یہ پانچوں افراد ایسے تھے جن سے کسی نہ کسی زاویہ سے راقم الحروف ذاتی طور پر جڑا ہوا تھا۔ ان پانچ افراد میں آج ایک چھٹے نام (مولانا اشفاق احمد رحمانی) کا اضافہ ہو رہا ہے۔

چوں کہ مولانا اشفاق احمد رحمانی سے راقم الحروف کے گہرے مراسم تھے، اور وہ ایک مثالی شخصیت کے مالک تھے، اس لیے ان کے انتقال پر بندہ کو قلبی رنج ہے، اور ساتھ ان کی تحریکی کوششیں موجودہ اور آئندہ تحریکی افراد کے لیے مشعل راہ و نمونۂ عمل ہیں ، اس لیے ان کی رحلت کے بعد بطور عقیدت ومحبت میں چند حروف و سطور سے صفحات قرطاس کو منقش کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔

 

*یتیمی اور متقیوں کی امامت*

 

مولانا اشفاق احمد رحمانی اصلا رتلام (ایم پی) کے رہنے والے تھے، بچپن ہی میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا، یتیمی کا درد لے کر قصبہ کھاچرود ضلع اجین (ایم پی) میں اپنے نانہال میں پلے اور بڑھے۔ غربت و افلاس اور زندگی کی صعوبتوں ومشکلات کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ اپنی جوانی کا بیشتر حصہ قصبہ مہدپور میں گذارا۔ یہاں ان کی جو زندگی گذری ہے اسے میں ذاتی طور پر قرآن کریم کی درج ذیل آیت کی عملی تفسیرسمجھتاہوں:

الذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ھبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿الفرقان: 74﴾

“اور (رحمن کے مقبول بندے) یہ دعا کرتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا. ” (الفرقان:74)

اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے مقبول بندوں کا ایک وصف یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ: “وہ اپنے کو اللہ تعالی سے متقیوں کا امام ومقتدا بنائے جانے کی دعا کرتے رہتے ہیں۔”

اس دعا سے قبل اولاد و ازواج کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اپنے لیے راحت بنانے کی دعا کرنے کا بھی بیان ہے، انسان کے اندر جس چیز کی طلب وخواہش ہوتی ہے اور وہ جس چیز کی اللہ تعالی سے سچے دل سے دعا کرتا ہے، اسباب کی دنیا میں مادی وسائل سے اسے حاصل کرنے کےلیے سعی و کوشش بھی کرتا ہے۔

متقیوں کا امام وپیشوا بنائے جانے کی دعا سے قبل اہل وعیال کی اصلاح وافادیت کی دعا کو بیان فرماکر اللہ تعالی نے پیروکار متقی جماعت کی تیاری کے لیے رہنمائی فرمائی ہے، کہ اگر تم اپنے بچوں اور ماتحتوں کی بہتر تعلیم وتربیت کرو گے تو وہ متقی بن کر جوان ہوں گے اور تم ان متقیوں کے رہبرو مقتدا اور امام بنو گے۔

جب ہم مولانا اشفاق احمد رحمانی کی زندگی اور کاوشوں کاجائزہ لیتے ہیں تو ان کی خدمات اور حصولیابیوں میں یہ چیز واضح طور پر دکھائی پڑتی ہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ دی،اور اپنے تربیت یافتہ بچوں کو دینی فکر ومنہج پر بڑا وکھڑا کیا۔ جسے خاص طور پر مہدپور میں ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ یہاں جو دینی وتحریکی مزاج کے حامل نوجوان نظر آتے ہیں، وہ دوسرے علماء کی محنتوں کے ساتھ مولانا مرحوم کی سعی بلیغ کا ثمرہ ہیں۔ غالبا اپنی قربانی اور سعی مسعود کی وجہ سے ایک مرتبہ موتی بازار مہدپور میں منعقد ہونے والے ایک عظیم الشان جلسے میں کہاتھاکہ:

“یہاں کی گلیوں میں،یہاں کی سڑکوں پر اور یہاں کی فضاؤں میں میری جوانی بکھری پڑی ہے، آج میرے بھؤوں کے بال بھی سفید ہوچکے ہیں، لیکن یہ بتاؤ کہ اعلی تعلیم کے لیے کتنے نوجوان باہر یونیورسٹیز میں گئے، اور دینی وملی خدمات کے جذبےسے کتنے آئی اے ایس، آئی پی ایس بنے؟”

 

*خود کفالتی اور حق گوئی*

 

جو لوگ دینی وملی خدمات میں لگے ہوں، اہل ایمان اثریاء واغنیاء کی طرف سے ان کی خانگی وذاتی ضروریات سے انہیں بے فکر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، معقول ماہانہ وظائف کا بند وبست ہونا چاہیے، لیکن دینی وملی معاملے میں تساہل وکوتاہی کی وجہ سے خدام دین معاشی لحاظ سے عموماً عسرت وافلاس میں گرفتار رہتے ہیں۔ علماء و خدام دین کی اس قسم کی حالت زار دیکھ کر کچھ مخلص افراد انہیں مختلف کاروبار اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اپنی رائے پر اسوۂ نبوی و آثارخلفائے اسلام بھی پیش کرتے ہیں، اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ایسی رائے دینے والے واضح طور پر چوک وتسامح کاخود شکار ہیں اور عوام وعلماء کی بھی نامناسب رہمنائی کرنے والے ہیں؛ کیوں کہ سنت یہ ہے کہ

جو لوگ ضرورت کے تحت دین وملت کی خدمات کے لیے اپنے کو وقف کردیں، انہیں تجارت یا کوئی اور کاروبار کے بجائے صرف اور صرف اپنے متعلقہ امور واعمال ہی کے لئے مشغول رہناچاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد کوئی معروف تجارت یاپیشہ نہیں اختیار فرمایا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد حضرت عمررضی الله عنہ کے مشورہ سے اپنی تجارت کوترک کردیا، اور بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر ہوا۔

اس لیے موجودہ دور میں بھی منہج نبوت و آثار صحابہ کے مطابق علماء وخدام دین وملت کو دین کی اشاعت وحفاظت کے لیے کسی شعبہ میں مصروفیت کی صورت میں تجارت یاکسی دوسرے پیشہ کہ طرف توجہ نہیں دینی چاہیے۔ان کی معاشی ضروریات کے تکافل کے لیے مسلم پنچایتوں اور دین دار اغنیاء واثریاء کو دست سخاوت بڑھاناضروری ہے۔

لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ جوخدامِ دین معاشی طورپرخود کفیل ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں؛ عموما وہ حق گوئی کے سلسلے میں مداہنت وکوتاہی کا شکارہوتے ہیں۔ اور جو علماء معاشی طور پرخود کفیل ہوتے ہیں یا اپنی کفالت کی صلاحیت سے بہرہ مند ہوتے ہیں وہ نسبتاً زیادہ حق گو وبےباک نظر آتے ہیں۔

مولانا اشفاق احمد رحمانی اس لحاظ سے بے شمار علماء، خطباء،مبلغین اور ائمۂ مساجد کے لیے نمونہ ہیں، مولانا نے مسجدوں میں بطور روزگار خدمات انجام نہیں دیں، بلکہ امامت و دوسری خدمات کے ساتھ ہی وہ اپنے دستی ہنر سے روزگار حاصل کرتے رہے، اور بعد میں حج وعمرہ ودیگر عالمی ٹورکاسلسلہ شروع کرکے اپنی معاشی ضروریات پوری کرتے رہے۔معاشی لحاظ سے خود کفیل ہونے کی وجہ سے مولانا نے اپنی سوچ وفکر کے مطابق ہمیشہ حق گوئی کا مظاہرہ کیا، اورکبھی کسی کمیٹی یاصاحبِ حیثیت شخص کے غلط تیور اور بگڑے مزاج کا لحاظ نہیں کیا۔ اسی لیے ان کے بیانات تملق سے پاک،خود اعتمادی، یقین اور وثوق سے بھرپور ہوتے تھے، جس سے سامعین کے دل ودماغ موصوف کا اسیر ہوجایا کرتے تھے۔ پوری زندگی اسی طرح اپنی تقریروں کے طلسم سے صرف مالوہ ہی میں نہیں؛ بلکہ راجستھان، مہاراشٹر، یوپی اور بہار جیسی ریاستوں میں بھی اپنا وسیع حلقۂ اثر قائم کرنے میں کامیاب رہے۔

یہی نہیں بلکہ مسلم مخالفت میں حکومتی اہلکاروں کی خلاف قانون اورغیر منصفانہ کارروائیوں کے خلاف بھی جرأت مندانہ گفتگو کرتے نظرآتے، حتی کہ اے ٹی ایس اور دیگرخفیہ تنظیموں کے افسران وحکام کو بھی بے گناہوں کی گرفتاری پر دعوتی انداز میں آخرت میں جواب دہی کی تلقین وتبلیغ کے ساتھ ان کی نامناسب کارروائی کو بغیر کسی لاگ و لپیٹ کے منطقی طور پر سمجھاتے وثابت کرتے تھے۔

 

*تنظمیں معاونت اور وسعتِ ظرفی*

 

آج ہمارے معاشرے میں جو گروہی، مسلکی، تنظیمی، ادارتی و شخصی محاذ آرائی دیکھنے میں آتی ہے وہ انتہائی درجہ افسوس ناک اور مستقبل کے لیے تباہ کن علامت ہے۔ مولانا اشفاق احمد صاحب رحمانی بنیادی طور پرجماعت اسلامی کے رکن یا ذمہ دار کی حیثیت سے اپنی دینی و دعوتی خدمات انجام دیتے تھے۔ جماعت اسلامی ویسے ہی وسیع المشربی کے اصول کے مطابق مسلمانوں کی مختلف جماعتوں میں اتحاد و مرافقت کی داعی ہے، لیکن جوطبقات اس جماعت کو نقد و تعاقب کا نشانہ بناتے ہیں ان کے تعلق سے جماعت اسلامی سے منسلک افراد کے اندر رنج و ملال اور ردعمل کااظہار فطری بات ہے۔ لیکن اس ادارہ میں سب سے بڑی اور حیرتناک بات یہ ہے کہ وہ علماء جو علمی انداز میں اس جماعت کی فروگذاشتوں پر تنقید کرتے ہیں انہیں بھی قابل طعن و تشنیع سمجھ کر ان کے خلاف بھی جماعت مذکورہ میں نامناسب تبصرے کیے جاتے ہیں۔ یہ ایسی عام اور مروج بات ہے کہ اس دعوی پر کسی حوالے یا شہادت کی ضرورت نہیں ہے، جماعت مذکورہ کی چند مجالس میں شرکت کرکے کوئی بھی اسے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ اور اپنے کانوں سے سن سکتا ہے۔ خاص طور علمائے مدارس، ائمۂ مساجد، تبلیغی جماعت تو ان کی طعن و تشنیع کے لیے مرغوب غذا ہیں۔

اس کے باوجود مولانا اشفاق احمد رحمانی مختلف طبقات و جماعتوں اور دینی و دعوتی اداروں کے تعلق سے انتہائی مثبت خیالات کا اظہار کرتے تھے۔

ایک مرتبہ ایک مجلس میں مدرسوں کے سلسلے میں مختلف کمزوریوں و کوتاہیوں کے تعلق سے شرکائے مجلس باہم گفتگو کررہے تھے۔ آخر میں مولانا اشفاق احمد رحمانی نے کہا:

“مدارس اپنی بے شمار کمزوریوں کے باوجود ایسے مقامات ومراکز ہیں جہاں سے سیدھا جنت میں جانے کا سامان حاصل ہوسکتا ہے۔

مدارس اور ارباب مدارس کی جو قربانیاں ہیں، عقلی و منطقی طور پر ان قربانیوں کا صلہ جنت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا. ”

مولانا کے اس جملے و تبصرے سے مدارس کے خلاف زازخائی کرنے والوں کی زبانیں بند ہوگئیں۔

اسی طرح ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کے تعلق سے اس کی خدمات اورحصولیابیوں پر حوصلہ افزاء تبصرہ فرمایا۔

میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ان کی مجلس میں کسی عالم کی حاضری کا انہیں علم ہواہو اور انہوں نے اپنی پیرانہ سالی و درازئ عمر کے باوجود اپنے یہاں وارد ہونے والے عالم کے اکرام میں کوتاہی کی ہو۔

“مسلم پرسنل لا بورڈ”، “اسلامک فقہ اکیڈمی”،”اجلاس تفہیم شریعت” وغیرہ پروگراموں میں شرکت سے انہیں کوئی بیر نہ تھا۔ جب کہ انہیں کے پلیٹ فارم سے تعلق رکھنے والے افراد مذکورہ بالا پروگراموں سے متعلق بہت ہی نامناسب تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

میری جائے امامت “مسجد قلندری” میں میری فرمائش پر کئی مرتبہ بیان کے لیے موصوف تشریف لائے،میری کئی کتابوں پر میری حوصلہ افزائی کی۔ ایک مرتبہ ہماری میزبانی میں ایک جلسہ میں مولانا عبد العلی فاروقی لکھنوی اور مولانا اشفاق رحمانی صاحبان نے ایک ساتھ ایک ہی اسٹیج پر خطاب کیا۔

(اس اجلاس کے تعلق سے میں نے “یاداشت لاک ڈاؤن” میں مختلف درسی کتب پر تبصرہ کرتے ہوئے نورانی قاعدہ کے ذیل میں کچھ باتیں لکھی ہیں۔)

 

*حدیث کے نام پر فقہ و فتاوی کا استخفاف کرنے والی جماعت اور مولانا کا موقف*

جماعت اسلامی کی وسیع المشربی کے اصول و معمول کی وجہ سے امت کے مختلف طبقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور امت کو باہم جوڑنے و مربوط ہونے و کرنے کا منصوبہ قابل ستائش ہے، اس منصوبہ و معمول کے مطابق جو طبقہ علماء سے بیر رکھتا ہے اسے بھی ملی تعمیر کے لیے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر جگہ ملی ہوئی ہے، لیکن وہ طبقہ عام افراد امت کو علماء واسلاف اور ائمہ متبوعین سے مخاصمت و بغاوت کی تبلیغ وتعلیم اور فقہ و فتاوی کے استخفاف واستہزا کو ہی دین کا اہم شعبہ سمجھتا اور حدیث کے نام پر امت میں اختلاف وانتشار کی برابر آبیاری کرتا ہے۔

مہدپور میں چوں کہ ایسے افراد مولانا اشفاق احمد رحمانی سے عقیدت و محبت کا دم بھرتے ہیں، اس لیے میں نے مناسب خیال کیا کہ مولانا سے اس تعلق سے سنجیدہ گفتگو کی جائے۔ اس سلسلے میں بطور متکلم ومیزبان جن صاحب کا انتخاب کیا گیا، دینی خدمات کے سلسلے میں اولا ہلکا سا ان کا خاندانی ذاتی پس منظر بیان کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

شہر مہدپور میں ایک دیندار، سمجھدار اور خوش حال مسلم برادری رہتی ہے۔ جو “ناگوری مسلم برادری” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس قوم سے تعلق رکھنے والے جناب حاجی چاند محمد صاحب مرحوم کا نام شہر و اطراف میں عزت سے پکارا جاتا ہے۔ یہاں کئی ایک بنیادی دینی کام ان کی طرف منسوب ہیں۔ مثلا تبلیغی جماعت نے انہیں کی کوششوں سے مہدپور و اطراف میں کام کرنا شروع کیا۔ اور اب ضلع بلکہ صوبہ میں تبلیغی جماعت کی خدمات کے لیے یہ شہر اچھے انداز میں یاد کیا جاتا ہے۔

اسی طرح یہاں ایک وسیع وعریض اور عالیشان دینی اقامتی مدرسہ ہے۔ اس مدرسہ کو بھی بنیادی طور پرحاجی چاند محمد صاحب نے ہی قائم کرایا تھا، مدرسہ کے اساسی اساتذہ وخدام صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے، بعد میں جب علاقہ کی بنیاد پر تعاون و تناصر کا ذہن بناتو اولین معماروں و مؤسسوں کو مدرسہ چھوڑ کر جانا پڑا؛ لیکن حاجی صاحب ان کے جانے کے بعد بھی ایک طرف مدرسہ کا برابر تعاون کرتے رہے دوسری جانب مدرسہ کی بنیادوں میں بہار کے جن مولویوں کاخون و پسینہ شامل تھا ان کی بھی خبر گیری کرتے رہے۔

یعنی علاقے میں تبلیغی جماعت کے اجراء واستحکام اور علماء وحفاظ کی تیاری کے لیے اقامتی مدرسہ کے قیام میں حاجی چاند محمد صاحب کا بنیادی کردار رہا ہے۔ بعد میں مہدپور میں جب حدیث کے نام پر مولانا اشفاق رحمانی صاحب کے نام لیوا حضرات ائمہ و اسلاف اور ائمۂ متبوعین سے بغاوت و نفس پرستی کی تعلیم وتبلیغ میں ہمہ تن مشغول ہوگئے، تو اس بڑے فتنے کی سرکوبی کے لیے آپ کے صاحبزادے ابوالحسن ناگوری آگے آئے، شہر مہدپور میں اس فتنے کے خلاف اس قدر توجہ و اعتماد کے ساتھ موصوف کے علاوہ کوئی ایک فرد بھی نہیں کھڑا ہوا۔ موصوف نے لوگوں سے دشمنیاں خریدیں۔ اور شہر میں رہنے والے علماء وحفاظ کو جوڑنے اور آگے بڑھانے کی حتی المقدور کوششیں کیں۔ (یہ اور بات ہے کہ مقامی و نئے فضلاء مدارس نے ذاتی و خانگی رنجشوں کی وجہ سے موصوف کے خلاف مایوس کن جملوں اور حوصلہ شکن تبصروں سے اپنے ہی دست و بازو کو کمزور کرنے کی ناسمجھی کی۔)

بہرحال ابوالحسن ناگوری نے مولانا اشفاق احمد صاحب رحمانی سے اس فتنے کے تعلق سے طویل گفتگو کی۔

دوران گفتگو ابوالحسن کے گھر والوں کی طرف سے خدامِ دین کے تعاون ومحبت کے تعلق سے مولانا اشفاق احمد رحمانی مرحوم نے کہا کہ:

“میں جب جیل گیا تو تمہاری دادی ہمارے بچوں کے لیے سبزی و دیگر ضروریات کا انتظام کرتی تھیں۔ تمہارے گھر والوں نے اس موقع پر ہمارا کافی تعاون کیا تھا۔”

اس فتنے کے تعلق سے کہا:

“مجھے مرنا ہے اور اللہ کے یہاں جواب دینا ہے۔ جو طبقہ حدیث کے نام پر فقہ و فتاوی کے خلاف نامناسب باتیں کرتا ہے، اس طبقہ کی طرف سے بھی فلاں فلاں مقامات سے فلاں فلاں رسالوں میں فتاوی جاری کیے جاتے ہیں، جب وہ فتاوی کتابی شکل میں مرتب ہوجائیں گے تو ان کانام حدیث کی کتاب نہیں ہوگا بلکہ وہ فتاوی ہی کے نام سے موسوم ہوں گے۔ اس لیے علمائے متقدمین کے فقہ و فتاوی کے تعلق سے حدیث کے نام سے جو فتنہ کھڑا کیاگیاہے وہ فتنہ دین و ملت کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے۔”

 

*مولانا اور جماعت اسلامی سے بندہ کی قربت*

 

ذاتی طورپر بندہ کو مولانا اشفاق احمد رحمانی سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، مولانا کی توجہ کی بنا پر جماعت اسلامی کے مختلف پروگراموں میں شریک ہوا۔ پہلے سے ہی میں مولا ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ کی متعدد کتب کا مطالعہ کرچکا تھا۔لیکن مولانا موصوف نے مجھے بتایا کہ: “مولانا مودودی علیہ الرحمہ یاجماعت اسلامی کی کتابوں کے مطالعہ کی خاص ترتیب اورنصاب ہے ، اگر اس ترتیب ونصاب کے مطابق مطالعہ کیاجائے تو کافی فائدہ ہوگا۔”

میں کثرت مصروفیت کی وجہ سے کسی ترتیب کی پابندی نہیں کرسکا۔لیکن جماعت اسلامی کے دعوتی و تحریکی منصوبوں اور کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی توفیق مجھےمولانا اشفاق رحمانی کی توجہ سے حاصل ہوئی۔

یہ لکھتے ہوئے کلیجہ منھ کو آتا ہے مورخہ 12جنوری2021ء کو مالوہ کا یہ مرد قلندر اس دار فانی سے کوچ کر گیا ۔

اناللہ وانا الیہ راجعون

آج مالوہ میں تحریکی حلقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں عقیدت مند شجر سایہ دار سے محروم ہوگئے۔ ع

اب ساری زندگی ہے کڑی دھوپ کاسفر

ایک شجر سایہ دار تھا وہ بھی گذر گیا

 

اللہ تعالی موصوف کی بال بال مغفرت فرمائے اور اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے۔ع

آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

 

کتبہ:

محمد اشرف قاسمی

خادم الافتاء شہر مہدپور، اجین، ایم پی۔

14/01/2021ء

E. Mail.

[email protected]

You might also like