Baseerat Online News Portal

مجرمانہ واردات پر بہار پولس سربراہ کو نتیش کی پھٹکار

بہار پولیس کے حوصلے کو کمزور نہ کریں میڈیا کے لوگ
پٹنہ، 15 جنوری (بی این ایس )
بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بہار میں بڑھتے ہوئے مجرمانہ واردات پر بہار پولس سربراہ کو پھٹکار لگائی ہیں اور انہوں نے اخباری نمائندوں میڈیا کے لوگوں سے فون پر رابطہ نہ کرنے پر ان کی سرزنش کی ہیاورمستقبل میں اخبار والوں سے رابطہ ضرور کریں اور آئندہ اس طرح کی شکایت مجھے نہ ملے۔وزیراعلی نے کہاکہ حکومت جرائم پر کنٹرول کیلئے پوری طرح سے مستعد ہے اور مجرم کوئی بھی ہوں بخشے نہیں جائیںگے۔انہوں نیان خیالات کااظہارآج پٹنہ کے آر، بلاک سے دیگھا کے مابین 379.57 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار 6.7 کیلومیٹر طویل سڑک جس کانام سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے نام پر ’’اٹل پتھ‘‘ رکھا گیا ہے کا افتتاح کرنے کے بعد ریاست میں بڑھتے مجرمانہ واقعات سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ حکومت جرائم پر کنٹرول کیلئے پوری طرح سے مستعد ہے۔ جرائم میں ملوث چاہے جو بھی ہوں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ پٹنہ میں انڈیگو ایئر لائنس کے اسٹیشن مینیجر روپیش کمار سنگھ کے قتل کے معاملے میں پولیس تمام نکات پر جانچ کر رہی ہے اور بدمعاش جلد ہی پکڑے جائیںگے۔ اس قتل معاملہ میں ملوث ملزم کا اسپیڈی ٹرائل کرا کر اسے سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے خود اس معاملے میں پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) سے بات کی ہے اور بدمعاشوں کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے کہاکہ جرائم پیشہ کسی سے اجازت لیکر جرم نہیں کرتا ہے۔ قتل کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔پولیس ان وجوہات کو تلاش کر رہی ہے اور اس میں جو بھی جرائم پیشہ ملوث ہوگا اسے بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جرائم کے جو بھی واقعات ہوئے ہیں وہ افسوسناک ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا جرائم پر کنٹرول نہیںہے۔ پولیس کی مستعدی کا ہی نتیجہ ہے کہ بہار جرائم کے معاملے میں ملک میں 23 ویں نمبر پر ہے۔آپ لوگ پولس کے حوصلے کو کمزور نہ کریں،پولس اپنا کام کررہی ہے۔
نامہ نگاروں نے جب جرائم کے معاملے پر حکومت سوالات پوچھنے شروع کئے تو وزیراعلیٰ کی آواز تھوڑی بلند ہو گئی اور انہوں نے سوال کرنے والے صحافی سے کہاکہ ’’ہم جانتے ہیں کہ آپ کس کے حامی ہیں۔ آپ کا سوال غلط ہے اس طرح سے پولیس کو ڈیمو لائز نہیں کرسکتے ہیں۔ پولیس کام کر رہی ہے اور اگر وہ صحیح طریقے سے کام نہیں کرتی ہے تو اس پر کاروائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’میاں۔ بیوی‘‘ (لالو۔ رابڑی) کے پندرہ سال کی مدت کار میں جرائم کی کیا صورتحال تھی اس کو بھی مد نظر رکھ کر بات کی جائے۔ سال 2005 کے پہلے جو ریاست کی صورتحال تھی وہ آج نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ سے جب صحافیوں نے کہاکہ بہار پولس کے سربراہ کسی کا فون نہیں اٹھاتے ہیں۔ آخر جانکاری کس سے لی جائے اور کسے دی جائے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے فی الفور بہار پولس سربراہ سے فون کر کے کہاکہ میڈیا سے منسلک افراد کا فون اٹھائیں اور ان کا جواب ضرور دیں۔اگر مصروفیت کے سبب آپ فون نہیں اٹھاتے ہیں تو کسی ذمہ دار افسر کو اس کام کیلئے تعینات کریں اور میڈیا سے منسلک لوگوں کے فون وہ ضرور رسیو کریں اور نمبر نوٹ کریں پھر آپ اس نمبر پر اخباری نمائندوں سے رابطہ کریں۔مستقبل میں اس طرح کی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ وزیراعلی کی ہدایت پر ڈی جی پی بہار نے اپنا رابطہ نمبر 9431602302اور لینڈ نمبر 06122294301پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس نمبرپر 24گھنٹے افسر کے تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

You might also like