Baseerat Online News Portal

حکومت- کسان تنظیموں کی9ویں میٹنگ بھی بے نتیجہ ختم، اگلی تاریخ 19 جنوری کی ملی

نئی دہلی، 15 جنوری (بی این ایس )
جمعہ کے روز تین مرکزی وزراء کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور میں مظاہرین کاشتکار تینوں متنازع زرعی قوانین کے واپس لینے کے اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے، جبکہ حکومت نے کسان لیڈران سے لچک پیدا کرنے کی اپیل کی اور قانون میں ضروری ترمیم کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس دور کے مذاکرات کے اختتام پر دونوں فریق نے فیصلہ کیا کہ اگلی میٹنگ 19 جنوری کو ہوگی۔ کسان لیڈر جوگندر سنگھ اوگراہان نے میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کسان تنظیموں نے حکومت سے تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے لیکن مرکز ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے 19 جنوری کو دوپہر 12 بجے دوبارہ میٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ اروگرہان نے کہا کہ اس میٹنگ کے دوران کسان تنظیموں کے لیڈران نے پنجاب میں ٹرانسپورٹرز پر این آئی چھاپوں کا معاملہ اٹھایا جو کسانوں کے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور نقل و حمل کی سہولیات مہیا کررہے ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے وقفے سمیت تقریبا 5 گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ میں کسان تنظیموں کا کہنا تھا کہ وہ تینوں زرعی قوانین پر تعطل کو دور کرنے کے لئے براہ راست بات چیت جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، ریلوے، تجارت اور وزیر خوراک پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت اور پنجاب سے رکن پارلیمنٹ سوم پرکاش نے وگیان بھون میں تقریبا 40 کسان تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ نویں دور کی بات چیت کی۔میٹنگ میں شریک آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی کی ممبر کویتا کورنگٹی نے کہاکہ حکومت اور کسان تنظیموں نے براہ راست بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

You might also like