Baseerat Online News Portal

تحریک آزادی اور اردو ادب 

 

 

عارفہ مسعود عنبر

مرادآباد

 

اردو ادیب و شعراء جنگ آزادیِ وطن میں دوسری زبانوں کے ادیبوں و شاعروں سے کسی طرح پیچھے نہیں رہے ، تاریخ جنگ آزادی کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُردو ادیبوں اور شعراء اکرام نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وطن عزیز کو آزاد کرانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیں ،تحریک آزادی مختلف مراحل سے گزری اردو ادیبوں اور شاعروں نے ہر مرحلے پر اپنا کردار کامیابی سے ادا کیا ۔

اُردو شاعری میں ہمیں سامراجی طاقتوں کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار ملتا ہے ۔غزل جو معاملات حسن و عشق اور واردات قلبی کی ترجمانی سمجھی جاتی ہے اس میں بھی سلگتے ہوئے حالات کی آنچ محسوس ہوتی ہے۔ شاعرانہ رموز علائم کے پردے میں غزل گو شعراء نے اپنے عہد کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی ہے ،انہونے ظالم انگریزوں کو کبھی گلچیں کبھی، سیاد کا نام دے کر ان کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے ۔اور انکے ظلم اغو ستم کا تذکرہ کرکے ہندوستانیوں کے دلوں میں بغاوت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی چند اشعار بطور نمونہ پیش ہیں

 

ع: داغ گ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل

ہاتھ بھی دکھ گے دامن ترا دھوتے دھوتے

( آرزو )

 

ع۔ اگائیں باغ میں لالہ زمیں سے

ہوا خون شہیداں سے چمن سرخ

( تاباں )

 

ع:۔ یہ حسرت رہ گئی کس کس مزے سے زندگی کرتے

اگر ہوتا چمن اپنا ، گل اپنا، باغباں اپنا

‌ ( مظہر )

 

ع: صبا سے ہر سحر مجھ کو لہو کی باس آتی ہے

چمن میں آہ گلچیں نے کس بل بل کا دل تورا

( سودا )

 

ع: یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے

ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا

( میر )

 

ع: چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

( غالب )

 

ع:۔ دیدہ گریاں ہمارا نہر ہے

دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے

( میر)

 

ع:۔ دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے

جو شکل نظر آئ ،تصویر نظر آئ

(میر )

بعد کے شعراء کے یہاں یہ رد عمل اور شدید ہو گیا ہے اور ان کے یہاں باغیانہ جزبات کی لے ایک للکار میں تبدیل ہو گئی ہے۔چکبست ،حالی ،اکبر ،حسرت ،اقبال ،ظفر علی خاں جوش وغیرہ کے یہاں جنگ آزادی کے پس منظر میں جزبات کی شعلہ فشانی عروج پر نظر آتی ہے ۔۔

 

ع:۔ طلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے

نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے

(چکبست )

 

ع: ہے بد ترین۔ عزاب یہی اک شریف پر

یا رب کرائو نہ عطاعت کمین کی (محمد علی جوہر)

 

ع: بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے ایک جوےء کم آب

۔ اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی

(اقبال)

ع۔ جتنی بوندیں ہیں شہیدان وطن کے خون کی

قصر آزادی کی آرائش کا ساماں ہو گئیں

(ظفر علی خاں)

ع۔ ہم قول کے صادق ہیں اگر جان بھی جاتی

واللہ کبھی خدمت انگریز نہ کرتے

( حسرت موہانی)

اردو نظموں میں شعراء نے اور بھی زیادہ کھل کراپنے جذبات کا اظہار کیا ہے انہوں نے اپنے آتشی نغموں سے باشندگان ملک کے دلوں میں بغاوت کی آگ بھڑکانے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کامیاب ہوئے ظفر علی خان اور جوش کی شاعری نے جس طرح انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کو للکارا اس کی مثال شاید ہی کسی ہندستانی شاعری میں ملے۔ ان کے علاؤہ دوسرے نظم گو شعراء نے بھی اہل وطن کے دل میں جزبہ آزادی بیدار کرنے اور دشمنوں کو وطن چھوڑ کر بھاگنے کے لیے آواز بلند کی چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

ع۔ زندگی ان کی ہے،دیں ان کا ہے ،دنیا ان کی ہے

جن کی جانیں قوم کی عزت پہ قرباں ہو گئیں

 

ع۔ کس زباں سے کہ رہے ہو آج تم سوداگر

دہر میں انسانیت کے نام کو انچا کرو

 

ع۔ جب یہاں آے تھے تم سوداگری کے واسطے

نوع انسانی کے مستقبل سے تم واقف نہ تھے

 

ع متاح لوح قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خون دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے

 

اس ضمن میں علامہ شبلی نعمانی کی مشہور نظم ‘شہر آشوب اسلام’ اور مرثیہ مسجد کانپور کا ذکر میں ضروری سمجھتی ہوں جو اپنی جزباتیت اور شعلہ فشانی میں شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔

 

افسانوی ادب نے بھی تحریک آزادی کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے افسانہ نگاروں نے اپنے سیاسی ماحول سے متاثر ہو کر ایسے افسانے لکھے ہیں جن میں اس دور کی سیاسی ہیجانات اور اثرات بے حد نمایاں ہیں ،جزبہ حصول آزادی اور حصول آزادی سے دلوں کو روشناس کرانا ان افسانوں کا موضوع اور مقصد نظر آتا ہے ابتدائی دور کے افسانہ نگاروں میں پریم چند اور سلطان حیدر جوش کے یہاں کھوئ ہوئی آزادی کا ماتم اور غلامی کے خلاف جزبہ اے نفرت کا اظہار کثرت سے ملتا ہے۔ اس سلسلے میں پریم چند کے افسانے ‘آشیاں’ ‘برباد” ڈامل کا قیدی” “قاتل” “آخری تحفہ” “جیل”

“سہاگ کی ساڑی” بارات وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں ان افسانوں میں تحریک آزادی کے حوالے سے

مختلف پہلوؤں کا ذکر ہوا ہے ، بعد کے افسانہ ۔نگاروں نے اور زیادہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ان افسانہ نگاروں میں سدرشن، علی عباس حسینی ، کرشن چندر ،منٹو، خواجہ احمد عباس ، حیات اللہ انصاری ،

بیدی ، غلام عباس ،سہیل عظیم آبادی ، اور انگارے کے افسانہ نگاروں کے نام سر فہرست ہیں ،ان افسانہ نگاروں نے انگریزوں کے خلاف پیدا ہونے والی نفرت اور ہندوستانیوں کی بے بسی کو کامیابی کے ساتھ اپنے افسانوں میں سمویا ہے اور تحریک آزادی کے مختلف مراحل کی تصویر پیش کی ہے ۔۔

تحریک آزادی سے متعلق بہت سے ناول بھی لکھے گئے جو اپنے عہد کی تمام سیاسی کشمکشوں کا آئینہ ہیں ان ناولوں کے کردار اجنبی طاقتوں کے ظلم اور غیر ملکی حکومت سے نجات کے طلبگار نظر آتے ہیں ان ناولوں میں ” گوشہ عافیت” “چوگان ہستی” ” لہو کے پھول”۔ ” آنگن” ‘نسلیں” وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں

اردو ڈراموں میں بھی ظلم و جبر اور استحصال کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوتی ہوئ سنائ دیتی ہے ۔

جہاں بعض ڈراموں میں جذبہ بغاوت صداے زیر لب تک محدود نظر آتا ہے وہیں بعض ڈراموں کا بے باک اور باغیانہ لہجہ چونکا دینے والا ہے ان ڈروموں میں” یہ کس کا خون ہے “۔ (سردار جعفری) “نئ تصویریں” ( مرتبہ سردار جعفری) ” آزادی” (ابو سعید قریشی) اور “نقش آخر”( اشتیاق حسین قریشی) جیسے ڈرامے اس موضوع پر بہترین ڈرامے ہیں ۔۔

اردو صحافت کا رول بھی تحریک آزادی کے سلسلے میں نمایاں رہا ہے اردو صحافیوں نے شمع آزادی کی لو کو تیز کرنے اور ہندوستانیوں کے خون کو گرمانے کا جو اہم کارنامہ انجام دیا ہے وہ تاریخ آزادی وطن کا ایک روشن باب ہے اس سلسلے میں ان صحافیوں کو قید بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کا باغیانہ لحجہ مدھم نہیں پڑا مولانا حسرت کے اردوے معلیٰ اور مولانا محمد علی۔کےہمدرد ظفر علی خاں کے زمیندار اور مولانا آزاد کے الحلال نے جنگ آزادی کی چنگاری کو بھڑکتے ہوئے شعلوں شکل دینے میں جو کوشیشیں کی ہیں انہیں ہندوستان کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی ان اخبارات کے علاؤہ ‘پرتاپ ” “اخبار عام” “پیسہ” “زمزم انقلاب جمہوریت وغیرہ اخبارات کی خدمات بھی ناقابلِ” فراموش ہیں۔

 

اردو زبان کو غیر ملکی زبان قرار دےکر اس پر سیاست کرنے والے اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس تحریک آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اردو زبان نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ،اگر اردو ادیبوں اور شعراء نے انگریزوں کے نظام حکومت کے خلاف جذبہ بغاوت پیدا کرنے اور سامراجی طاقتوں کو ملک سے باہر نکالنے کے لیے یوں جان فشانی نہ کی ہوتی تو ملک نہ معلوم اور کتنی مدت تک آزادی کا منتظر رہتا ۔۔۔۔۔

You might also like