Baseerat Online News Portal

کرونا وائرس : چین کی لاپرواہی نے دنیا کو پہنچایا نقصان

سائنس دانوں نے چمگادڑ کے کاٹنے پر کیا اتفاق
آن لائن نیوزڈیسک
کورونا وائرس جس نے دنیا بھر میں ہنگامہ برپا کیا ، گذشتہ سال چین کے ووہان میں نمودار ہوا تھا ۔ کئی بار کے انکار کے بعد چین نے اب عالمی ادارہ ٔ صحت کی ٹیم کو ووہان دورہ کی اجازت دی ہے، تاکہ وہ اس کی سچائی کی تحقیقات کرسکے،تاہم اس دوران ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کورونا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا،اور اس کی سب سے بڑی وجہ چینی سائنس دانوں کی عدم توجہی تھی۔در حقیقت دو سال قبل کی ایک ویڈیو میں انکشاف ہوا ہے کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے سائنسدان کو ایک کھوہ سے نمونے لینے کے دوران چمگادڑ نے کاٹ لیا تھا۔ ویڈیو میں سائنسدان کو خود یہ تسلیم کررہا ہے ۔ علاوہ ازیں اس کھوہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ چمگادڑوں کا گھونسلہ بھی بتایا جاتا ہے۔تائیوان نیوز کے مطابق 29 دسمبر 2017 کو ایک چینی سرکاری ٹی وی چینل نے ویڈیو جاری کی ہے،جس میں ژی زینگلی ، جسے چین کی بٹ وومین کہا جاتا ہے ، اور ڈبلیو آئی وی میں ان کی سائنس دانوں کی ٹیم سارس کی اصلیت کا پتہ لگانے کے لئے نکلی تھی یہ جانتے ہوئے کہ کھوہ میں چمگادڑ خطرناک اور متعدی ثابت ہوسکتے ہیں ۔ سائنسدانوں کو ویڈیو میں حفاظتی معیاروں کو پس پشت ڈال کر گھومتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کچھ نے ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ، اور کچھ بغیر کسی خوف کے چمگاد ڑوں کو پکڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، اس وجہ سے ٹیم میں شامل میں ایک فرد کو چمگادڑ نے کاٹ لیا ۔ جس کی وجہ سے کرونا وائرس دوسرے لوگوں میں منتقل ہوگیا ۔

You might also like