Baseerat Online News Portal

ہتھرون گرام پنچایت میں جماعت اسلامی ہند کا آدرش پینل کامیاب

گیارہ میں سے آٹھ نے جیت درج کی ،پانچ کامیاب خواتین میں ایک ایس سی اور ایک اوبی سی سے
اکولہ :۱۸؍جنوری(بی این ایس) جماعت اسلامی ہند ہتھرون تعلقہ بالا پور ضلع اکولہ میں گرام پنچایت الیکشن میں جماعت اسلامی نے آدرش پینل کے نام سے۱۱؍ امیدواروں کو الیکشن میں کھڑا کیا تھا، جن میں سے ۸ کامیاب ہوئے ۔ ایک امید وار صرف دو ووٹوں سے اور دو امیدوار صرف۱۷؍ ووٹوں سے فتح سے دور رہے۔ امیر مقامی ہتھرون احفاظ خان نے بتایا کہ وہ بدعنوانی سے پاک نظام کو فروغ دینے اور عوامی مفاد میں جو بھی پالیسی ہوگی اسے نافذ کرنے کی بھرپور جد و جہد کریں گے ۔ انہوں نے کہا حکومت کی جانب سے عام آدمی کیلئے بہت سے پروگرام ہوتے ہیں جو بدعنوانی کے سبب یا پورے نہیں ہوتے یا وہ پورا پروگرام ہی بدعنوانی کی نظر ہوجاتا ہے ۔
شعبہ عدل و قسط کے سکریٹری عبدالمجیب نے اس موقع پر کہا کہ ’’گرام پنچایت جماعت اسلامی ہند ہتھرون کی ہوگی جسکو ’’آدرش گاؤں‘‘ بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ۔اس موقع پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور بطور خاص محترم امیر حلقہ رضوان الرحمٰن خان صاحب کا جن کا ہر لحاظ سے تعاون ملا اور ان کی رہنمائی حاصل رہی ‘‘۔
تفصیلات کے مطابق مہاراشٹر کے آکولہ ضلع میں واقع ہھترون گائوں کی کل آبادی تقریباً ۱۴۰۰۰؍ہزار ہے ۔ جس میں ۸۵۰۰؍مسلمان ہیں، کل ووٹر ۴۷۰۰؍ہے۔اس بار گرام پنچایت انتخابات میں۷۲؍ فیصد مجموعی ووٹنگ ہوئی ۔ آدرش گاؤں پینل کے نام سے انتخابات میں اتارے گئے امیدواروں میں ۲ ؍سیٹیں غیر مسلم بھائیوں کو دی گئیں۔ جبکہ بودھ سماج کو ۱؍ سیٹ دی گئی۔
گیارہ میں سے سات خواتین کو بطور امیدوار اتاراگیا۔جس میں سے پانچ خواتین نے کامیابی درج کی ہے۔ ان پانچوں کامیاب خواتین میں ایک ایس سی اور ایک او بی سی سے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند کی سیاسی پالیسی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ملک میں امن و امان کا ماحول ہو اور اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام باشندگان ملک ایسی فضا کو فروغ دیں جو اخلاقی قدروں پر مبنی ہو ، جہاں عدل و انصاف ہو اور جہاں تمام معاشرتی و معاشی امتیاز مٹ جائیں ۔
جماعت اسلامی ہند ان ہی اہم مقاصد کے حصول کیلئے سیاست میں حصہ لیتی ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر حلقہ مہاراشٹر رضوان الرحمن خان نے ہتھرون گرام پنچایت الیکشن میں کامیابی پر جماعت کے ارکان و کارکنان کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ بھی تلقین کی کہ فتح کا جشن نہ منائیں بلکہ جو لوگ ہارگئے ہیں ان سے کہیں کہ یہ ان کی بھی فتح ہے اور جن بلند تر مقاصد اور اعلیٰ اقدار کے نفاذ کی خاطر اس الیکشن میں حصہ لیا اس کے حصول کیلئے باہم مل جل کر کام کریں ۔یہ سوال کئے جانے پر کہ سوا ارب سے زائد کی آبادی والے ملک میں ساڑھے آٹھ ہزار کی قلیل آبادی والے گرام پنچایت میں فتح سے وہ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ؟ “انہوں نے کہا کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ روشنی کی طرح اور آگے بڑھنے اور یہاں کی سیاست میں مثبت تبدیلی لانے میں اس سے مدد ملے گی‘‘۔

You might also like