مضامین ومقالات

اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے‘ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے‘ پس مجھے معاف کردے

سید فاضل حسین پرویز
محمد علی شبیر نے 2؍ فروری 2016کو بلدی انتخابات کے دوران ان پر حملہ کرنے والے نوجوانوں کو معاف کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ بعض نے ان کے اس اقدام کو سراہا۰۰۰ بعض نے مضحکہ اڑایا۔ اپنے اپنے ظرف کے مطابق۔
محمد علی شبیر نے حملہ آور نوجوانوں کو آخر کیوں معاف کیا۔؟ کیا وہ کمزور ہیں۰۰۰ بے بس ہیں۰۰۰ کیا اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا، بہت سے ایسے سوالات ہیں جو ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اعلان کے ساتھ جو بیان دیا اس میں یہ واضح طور پر کہا کہ اسلام میں انتقام کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنا نہیں چاہتے۔
انتخابات میں پرتشدد واقعات پیش آتے ہیں۔ نوجوان ہی ہر سیاسی جماعت کی طاقت ہوتی ہیں۔ ان کا جوش و خروش ہی انتخابی سرگرمیوں کا حاصل ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر نوجوان جوش میں ہوش کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ اور جب انہیں ہوش آتا ہے تو اس وقت تک دنیا ان کا دامن چھوڑ دیتی ہے۔ چند لمحوں کے جوش و خروش ہی کے نتیجے میں پرتشدد واقت ہوتے ہیں، قتل غارت گری کے واقعات پیش آتے ہیں، حادثات ہوجاتے ہیں۔ ہمیں کالج کا دور یاد ہے، جب ہم اسٹوڈنٹس یونین میں تھے، کالج میں طلبہ اور لکچررس کے درمیان جھڑپ ہوئی، پولیس طلب کی گئی۰۰۰ لاٹھی چارج ہوا، پھر ہمارے بشمول چار اسٹوڈنٹس لیڈرس کو گرفتار کرکے حبیب نگر پولیس اسٹیشن میں تین دن رکھا گیا۔ پولیس نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ اس وقت مجلس کے مقامی لیڈر جناب محمد غوث (مرحوم) نے ہمارا بڑا ساتھ دیا، ہر ایک گھنٹے سے بریانی کے پیکٹس آجاتے، ہمارے ساتھ پولیس والے بھی شکم سیر ہوتے۔ بہرحال تیسرے دن ضمانت پر ہم سب باہر آگئے، اس کے بعد تین سال تک عدالت کے چکر کاٹتے رہے، کبھی کمرہ عدالت پہنچنے سے پہلے حاضری کا نمبر آجاتا اور کبھی شام پانچ بجے تک عدالت ہی میں بیٹھے رہنا ہوتا۔ کبھی کسی وجہ سے پیشی میں حاضر نہ ہوتے تو وارنٹ جاری ہوجاتا، بہرحال عدالت کے چکر کاٹتے کاٹتے ہم اس قدر بیزار ہوچکے تھے کہ یہ تمنا پیدا ہونے لگی کہ کاش ہمیں ایک بار سزا دیدی جائے اور ان چکروں سے نجات مل جائے۔ کالج کے جن طلبہ کے لئے ہم جیل گئے تھے کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ ایک دن حبیب نگر پولیس اسٹیشن سے وابستہ انسپکٹر (رام ریڈی) نے ہم چاروں اسٹوڈنٹس لیڈرس سے عدالت کے احاطہ میں بات کی اور کہا ۰۰ آج میرے بیان پر تمہارے حق میں یا خلاف میں فیصلہ ہوگا۔ تم لوگ اسٹوڈنٹس ہو۰۰۰ تمہارے ماں باپ نے تمہیں کالج گڑبڑ ہنگامہ کرنے کے لئے نہیں بھیجا۔ میرے بچے بھی تمہاری عمر کے ہیں۰۰۰ اگر تم لوگ وعدہ کروکہ آئندہ ایجی ٹیشن نہیں کرو گے۔ لڑائی جھگڑا نہیں کروگے تو میں ایسا بیان دونگا کہ تم لوگ بری ہوجائو گے۔ ہم نے وعدہ کیا۔ اس وقت ہماری پیروی ملے پلی کے سینئر ایڈوکیٹ مظہر الحق صاحب نے کی تھی کمرہ عدالت میں ہم چار لیڈرس ملزمین کے کٹہرے میں کھڑے تھے۔ اور انسپکٹر رام ریڈی گواہ کے کٹہرے میں۔ جج نے ان سے پوچھا کہ کالج میں گڑبڑ کرنے والے فرنیچر کو نقصان پہنچانے والے ، پولیس پر حملہ کرنے والے یہی تھے۔؟ انسپکٹر رام ریڈی نے ہمیں غور سے دیکھا۔ پھر جج سے کہا۔ یور آنر۰۰۰ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہی تھے۔
جج نے ہمیں باعزت بری کردیا۔ ہم نے انسپکٹر رام ریڈی کا اشکبار آنکھوں سے شکریہ ادا کیا۔
انسپکٹر رام ریڈی کی خاکی وردی کے اندر ایک ہمدرد دل والا انسان تھا۔ اس نے ہم میں اپنی اولاد کا عکس دیکھا۔ آج اس واقعہ کو 28برس گزر گئے۰۰۰ اب بھی ہم انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔
محمد علی شبیر نے اگر حملہ آور نوجوانوں کو معاف کیا ہے تو اس کے پس پردہ بھی سیاسی مقاصد ہیں۔ کوئی مصلحت ہے یا انسانیت۰۰۰ دل کا حال صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کسی کو اس پر رائے یا تبصرہ کا حق نہیں ہے۔
ایک مرتبہ ایک صحابی رسول ﷺ نے ایک شخص کو منافق ہونے کے شبہ میں قتل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سرزنش کی اور فرمایا کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔ کہ اس میں کیا ہے۔؟
بہرحال۔ محمد علی شبیر نے اگر حملہ آور نوجوانوں کو معاف کیا ہے تو یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ جارج بش پر جوتا پھینکنے والے صحافی منتظر الزیدی ۔ کی ساری دنیا میں دھوم مچی، اسے عالم اسلام کا ہیرو تسلیم کیا گیا۔ مگر تین سال تک وہ جیل میں جس کربناک دور سے گزرا اس کا حال اس نے اپنی رہائی کے بعد بیان کیا تھا۔ کئی شخصیات پر جوتے پھینکے گئے۰۰۰ من موہن سنگھ ، چدمبرم کے ساتھ ایسا سلوک ہوا، انہو ںنے معاف کردیا۔
چند برس پہلے ایک ایرانی خاتون نے اپنے بیٹے کے قاتل کو عین سزائے موت سے پہلے معاف کردیا۔ مگر اس سے پہلے اس غمزدہ ماں نے قاتل نوجوان کو ایک طمانچہ مارا۰۰۰ موت کے شکنجہ سے اچانک آزاد ہونے پر حیران ، اور فرط جذبات سے مغلوب اس نوجوان نے کہا کہ کاش یہ طمانچہ پہلے ہی کسی نے مارا ہوتا۔
اللہ رب رب العزت غفور الرحیم ہیں۔ عفودر گزر کرنا خالق کائنات کی صفت ہے اور وہ ان بندوں کو پسند کرتے ہیں، جو خود بھی عفو و درگزر کرتے ہیں۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے فرمایا۔ ’’میں نے تیرا درجہ اور نام اس بناء پر بلند کیا کہ تو نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا۔
حدیث شریف ہے کہ اگر تو اپنے بھائی کی غلطی اور خطا کو معاف کردے گا توتیری عزت و بزرگی میں اضافہ ہوگا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:’’ میں بتائوں کہ نماز روزہ اور صدقہ سے بھی افضل کوئی عمل ہے ۔؟ لوگوں نے عرض کیا۔ ہاں بتائیے۔ فرمایا۰۰۰ مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مخلوق میں صلح کرائو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن مسلمانوں میں صلح کرائے گا۔اپنے بھائی کے ساتھ عفو درگزر دراصل صلح کرنے کے مماثل ہے۔
صلح کرنے والے بہترین انسان ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں ہے۔
بے شک ابلیس لوگوں کے مابین نفرت و عداوت پیدا کرتا ہے۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے تفہیم القرآن میں سورہ الحج کی تفسیر میں لکھا ہے۔
اور جس کے تم بندے ہو، عفو درگزر کرنے والا ہے، اس لئے تم کو بھی جہاں تک بھی تمہارے بس میں ہو عفو و درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اہل ایمان کے اخلاق کا زیور یہی ہے کہ وہ حلیم، عالی ظرف اور تحمل پسند ہو۔ بدلہ لینے کا حق انہیں ضرور حاصل ہے، مگر ایسی ذہنیت طاری کرلینا موزوں نہیں۔
معاف کردینا۰۰۰ آسان کام نہیں۰۰۰ یہ بڑے ظرف، اور ہمت کی بات ہے۔ آج انتشار بین المسلمین محض اس لئے ہیکہ ہم عفو و در گزر سے نہیں بلکہ انتقام پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اس قدر اخلاقی گراوٹ کے شکار ہوگئے ہیں کہ حسن سلوک ، صلہ رحمی۰۰۰ عفوو درگزر کو کمزوری سمجھتے ہیں، حالانکہ عفو و در گزر کا مطلب اپنے نفس پر قابو پانا ہے۔ بقول شاعر۔
بڑے موذی کو مارا گر نفس امارہ کو گرمارا
نہنگ و اژدھا شیر نر کو مارا تو کیا مارا
محمد علی شبیر نے انسانیت کا مظاہرہ کیا۰۰۰ یا حملہ آور نوجوانوں کے بارے میں انہیں غور کیا توکیاان میں انہیں اپنے بچوں کا عکس نظر آیا، یہ تو وہی جانتے ہیں۔ مگر اس حقیقت سے آپ انکار نہیں کرسکتے کہ جب کبھی کوئی نوجوان جادثہ کا شکار ہوتا ہے۰۰۰ کوئی کسی الزام میں گرفتار ہوتا ہے۔ تو ایک لمحہ کے لئے ہمیں اپنے بچوں کا تصور آجاتا ہے۰۰۰بچے گھر سے باہر ہوں۰۰ مقررہ وقت پر نہ لوٹیں تو ہم کس قدر بے چین ہوجاتے ہیں۔ جن کے بچے جیلوں میں سڑرہے ہیں ، ان کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہے، وہ ان ہی کا دل جانتا ہے۔ ہم تو تماشائی ہیں۔ہر حادثہ ، سانحہ ہمارے لئے صرف ایک خبر ہے۰۰۰
جن نوجوانوں کو معاف کیا گیا ، وہ یقینا اپنا محاسبہ کریں گے۰۰۰ اللہ کا شکر ادا کریں گے کہ ان کا دامن بے داغ رہ گیا، اب وہ اپنے مستقبل کو سنوارنے پر بھی توجہ دیں گے۔ لڑائی جھگڑے ، حملے مستقبل کو تاریک کردیتے ہیں۰۰۰ جبکہ ماں باپ نے ان کے روشن مستقبل کے خواب دیکھے ہیں۔ نوجوان کے چند غلط قدم پورے کیریئر او رپورے خاندان کا مستقبل تاریک کردیتے ہیں۰۰۰یہ بات نوجوانوں کو سمجھنے اور بزرگوں کو انہیں سمجھانے کی ضرورت ہیکہ جوش کے ساتھ ہوش سے کام لیا جائے۰۰۰ ورنہ(یو این این)
*مضمون نگار معروف صحافی اورہفت روزہ گواہ حیدرآباد کے چیف ایڈیٹرہیں۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker