Baseerat Online News Portal

سورۃ الکہف؛بصائر و عِبر

(آخری قسط)

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ
گذشتہ قسط میں سورۂ کہف کے اہم ترین واقعات میں سے اصحاب کہف اور باغ والے کا ذکر قدرے تفصیل کے ساتھ آچکا ہے اور ان واقعات سے حاصل ہونے والے دروس وعبر پربھی روشنی ڈالی جاچکی ہے۔اگلی آیتوں میں حق تعالی شانہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعدحکم سجود میں فرشتوں کی فرمانبرداری اور ابلیس کی نافرمانی کا ذکر کیا،چناں چہ ارشاد فرمایا: اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ: آدم کے آگے سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے، وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اسے اور اس کی ذریت کو اپنا رکھوالا بناتے ہو۔ حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں؟ (اللہ تعالیٰ کا) کتنا برا متبادل ہے جو ظالموں کو ملا ہے۔(الکہف:30)
حضرت موسی ؑاور خضرکاسفر:
بعد ازاں حضرت موسٰی علیہ السلام کے حضرت خضر کے ساتھ سفر پر روانہ ہونے کی تفصیلی روداد ہے۔اس سفر کے ذریعہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولوالعزم نبی کو اپنے مخصوص باطنی نظام سے آگاہ کرنا چاہتے تھے اور کھلی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کروانا چاہتے تھے کہ اس ظاہری دنیا میں پیش آنے والے حادثات کے پیچھے کون سی حکمتیں کار فرما ہیں۔ جیساکہ حضرت رسول اکرمؐ کو معراج میں عالم ملکوت کی سیر کرائی گئی تاکہ اللہ کی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کریں۔ یعنی ان راز ہائے قدرت سے آگاہی حاصل کریں جو اس عالم ناسوت کے پردے کے پیچھے پوشیدہ ہیں۔ یہ واقعہ کہاں پیش آیا اس پر کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ ممکن ہے مدین میں رہائش کے دوران پیش آیا ہواور ممکن ہے کہ مصر میں پیش آیا ہو۔
سرکاردوعالم ﷺ نے اس واقعے کی تفصیل ایک طویل حدیث میں بیان فرمائی ہے جو صحیح بخاری میں کئی سندوں سے منقول ہے۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ سے کسی نے یہ سوال کیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ چونکہ ہر پیغمبر اپنے وقت میں دین کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں یہی فرما دیا کہ میں ہی سب سے بڑا عالم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی اور حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ہدایت دی گئی کہ اس سوال کا صحیح جواب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ سب سے بڑا عالم کون ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو علم کے کچھ ایسے گوشوں سے روشناس کرائیں جو ان کی واقفیت کے دائرے سے باہر تھے۔ چنانچہ انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت خضر ؑ کے پاس جائیں۔ ان کو پتہ یہ بتایا گیا کہ جہاں دو دریا ملتے ہیں۔ وہاں تک سفر کریں، اور اپنے ساتھ ایک مچھلی لے جائیں۔ ایک موقع ایسا آئے گا کہ وہ مچھلی گم ہوجائے گی۔ بس اسی جگہ انہیں حضرت خضر ؑ مل جائیں گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ اپنے نوجوان شاگرد حضرت یوشع ؑ کو ساتھ لے کر اس سفر پر روانہ ہوئے۔ حضرت موسیٰ ؑ ایک چٹان پر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے سوگئے ۔ اسی دوران وہ مچھلی جو ایک زنبیل میں تھی، وہاں سے کھسک کر دریا میں جا گری، اور جس جگہ گری وہاں پانی میں سرنگ سی بن گئی جس میں جا کر مچھلی غائب ہوگئی۔ حضرت یوشع ؑ اس وقت جاگ رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ عجیب واقعہ دیکھا، مگر چونکہ حضرت موسیٰ ؑ سوئے ہوئے تھے، اس لیے ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ بعد میں جب حضرت موسیٰ ؑ جاگ کر آگے روانہ ہوئے تو حضرت یوشع ؑ ان کو یہ بات بتانا بھول گئے۔اور سفر یوں ہی جاری رہا پھرحضرت موسیؑ کے ناشتہ طلب کرنے پرانہوں نے تمام تفصیلات بتائیں اور دوبارہ اسی جگہ واپس لوٹنا پڑا،جہاں پہونچ کر حضرت خضر سے ملاقات ہوگئی۔
اب یہاں سے ایک اور سفر کا آغاز ہوا؛جس پرپر روانہ ہونے سے قبل حضرت خضر نے موسی علیہ السلام کو پہلے ہی تنبیہ کر دی کہ آپ اثنائے سفر کوئی سوال نہیں پوچھیں گے اور حضرت موسیؑ نے بھی کہا کہ میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ اس طرح سفر کا آغاز ہوا۔
اس سفر میں تین حیرت انگیزواقعات پیش آئے۔1:دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان کر مفت بٹھا لیا۔ منزل کے قریب پہنچ کر خضر علیہ السلام نے کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ ڈالا۔ لوگ تو نہیں ڈوبے؛ لیکن کشتی کا نقصان ہوگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے تعجب سے سوال کیا کہ انہوں نے آپ سے بھلائی کی اور بدلے میں آپ نے ان کا نقصان کر دیا۔
2: دوران سفر راستے میں ایک لڑکا ملا توحضرت خضر نے اسے مارڈالا۔ موسی علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے ناحق ایک بے گناہ کو بغیر وجہ کے مار ڈالا یہ تو بہت برا کیا۔
3: دونوں ایک گاؤں میں داخل ہوئے اورگاؤں والوں سے کچھ کھانے کو طلب کیا۔ جس پر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ حضرت خضر نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے ہی والی تھی، اسے سیدھا کر دیا۔موسی علیہ السلام نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کا معاوضہ لیتے تاکہ کھانے کا کچھ انتظام ہو جاتا۔گاؤں والوں نے تو مسافر کا حق نہ سمجھا کہ مہمانی کریں اور آپ نے ان کی دیوار مفت میں بنا دی۔
حضر ت خضر نے فرمایا:اب میری تمہاری جدائی کا وقت آچکا ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے کیونکہ اللہ کا ایک علم مجھ کو ہے جو تمہیں نہیں اور ایک علم تمہیں ہے جو مجھے نہیں اس لئے ہمارا ساتھ رہنا دشوار ہے۔ البتہ میں تمہیں اس کی تاویل بتا دیتا ہوں کہ میں نے یہ اللہ تعالی کے حکم سے کیا۔پھر ہر واقعے کی تفصیل بتائی۔
یہ کشتی غریب لوگوں کی تھی جس پر ان کی روزی کا مدار تھا اورمنزل پر ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر ایک سے زبردستی کشتی چھین لیتا تھا۔ اس لئے میں نے اس کو عیب دار کر دیا۔نیز وہ لڑکا اس کے والدین مؤمن نیکو کار تھے اور اس کی وجہ سے خدشہ تھا کہ کہیں ان کو گناہ و سرکشی میں گرفتار نہ کروا دے؛ اس لئے میں نے اس کو مار ڈالا۔اور گاؤں میں جو دیوار میں نے مرمت کی وہ دویتیم بچوں کی تھی۔ جس کے نیچے ان کا خزانہ تھا۔ اور ان کا باپ مؤمن صالح تھا۔ وہ دیوار درست کر دی تاکہ ان بچوں کے جوان ہونے تک خزانہ محفوظ رہے۔
اس واقعے سے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو یہ سفر کرایا گیا، اس کا ایک مقصد تو یہ ادب سکھانا تھا کہ اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم کہنا کسی کو بھی زیب نہیں دیتا۔ علم تو ایک ناپید کنار سمندر ہے اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کونسا علم کس کے پاس زیادہ ہے۔ اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ خود آنکھوں سے اس بات کی ایک جھلک دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور علم سے اس کائنات کا نظام کس طرح چلا رہا ہے۔ اس کائنات میں بہت سے ایسے واقعات روز مرہ انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد اس کی سمجھ میں نہیں آتا، حالانکہ ہر واقعہ اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ انسان کی نظر چونکہ محدود ہے، اس لیے وہ اس حکمت کو بسا اوقات نہیں سمجھتا؛لیکن جس قادر مطلق کے ہاتھ میں پوری کائنات کی باگ ڈور ہے، وہی جانتا ہے کہ کس وقت کیا واقعہ پیش آنا چاہیے۔ (ملخص از معارف القرآن)
ذوالقرنین کا قصہ:
بعض روایات میں ہے کہ پوری دنیا پر سلطنت و حکومت کرنے والے چار بادشاہ ہوئے ہیں۔ دو مومن اور دو کافر۔ مومن بادشاہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ذوالقرنین ہیں۔ اور کافر نمرود اور بخت نصر ہیں۔ذوالقرنین کے معاملہ میں عجیب اتفاق ہے کہ اس نام سے دنیا میں متعدد آدمی مشہور ہوئے ہیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہر زمانہ کے ذوالقرنین کے ساتھ لقب سکندر بھی شامل ہے۔
ذوالقرنین کا نام ذوالقرنین کیوں ہوا اس کی وجہ میں بے شمار اقوال اور سخت اختلافات ہیں۔ بعض نے کہا کہ دو زلفیں تھیں، اس لئے ذوالقرنین کہلائے، بعض نے کہا کہ مشرق و مغرب کے ممالک پر حکمراں ہوئے اس لئے ذوالقرنین نام رکھا گیا، کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے سر پر کچھ ایسے نشانات تھے جیسے سینگ کے ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کے سر پر دونوں جانب چوٹ کے نشانات تھے اس لئے ذوالقرنین کہا گیا، واللہ اعلم۔ واقعہ ذوالقرنین کا جتنا حصہ قرآن کریم میںہے وہ صرف اتنا ہے کہ’’وہ ایک صالح بادشاہ تھے جو مشرق و مغرب میں پہنچے اور ان کے ممالک کو فتح کیا اور ان میں عدل و انصاف کی حکمرانی کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ہر طرح کے سامان اپنے مقاصد پورا کرنے کے لئے عطا کر دیئے گئے تھے انہوں نے فتوحات کرتے ہوئے تین اطراف میں سفر کئے، مغرب اقصیٰ تک اور مشرق اقصیٰ تک، پھر جانب شمال میں کوہستانی سلسلے تک، اسی جگہ انہوں نے دو پہاڑوں کے درمیانی درے کو ایک عظیم الشان آہنی دیوار کے ذریعے بند کر دیا جس سے یاجوج ماجوج کی تاخت و تاراج سے اس علاقہ کے لوگ محفوظ ہو گئے۔‘‘
قرآن مجید میں حق تعالی شانہ ارشاد فرماتے ہیں:لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے پوچھتے ہیں۔ آپ انھیں کہئے کہ ابھی میں اس کا کچھ حال تمہیں سناؤں گا۔ بلاشبہ ہم نے اسے زمین میں اقتدار بخشا تھا اور ہر طرح کا سازوسامان بھی دے رکھا تھا۔ چنانچہ وہ ایک راہ (مہم) پر چل کھڑا ہوا۔ حتیٰ کہ وہ سورج غروب ہونے کی حد تک پہنچ گیا اسے یوں معلوم ہوا جیسے سورج سیاہ کیچڑ والے چشمہ میں ڈوب رہا ہے، وہاں اس نے ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا: ’’اے ذوالقرنین! تجھے اختیار ہے خواہ ان کو تو سزا دے یا ان سے نیک رویہ اختیار کرے۔ ذوالقرنین نے کہا: جو شخص ظلم کرے گا اسے تو ہم بھی سزا دیں گے پھر جب وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اور بھی سخت عذاب دے گا۔ البتہ جو ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے اسے اچھا بدلہ ملے گا اور اسے ہم اپنے آسان سے کام کرنے کو کہیں گے۔ پھر وہ ایک اور راہ (دوسری مہم) پر چل پڑا۔ حتیٰ کہ وہ طلوع آفتاب کی حد تک جاپہنچا۔ اسے ایسا معلوم ہوا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ سورج اور اس قوم کے درمیان ہم نے کوئی آڑ نہیں بنائی۔ واقعہ ایسا ہی تھا اور ذوالقرنین کو جو حالات پیش آئے اسے ہم خوب جانتے ہیں۔ پھر وہ ایک اور راہ (تیسری مہم) پر نکلا۔ تاآنکہ وہ دو بلند گھاٹیوں کے درمیان پہنچا وہاں ان کے پاس اس نے ایسی قوم دیکھی جو بات بھی نہ سمجھ سکتی تھی۔ وہ کہنے لگے: ’’اے ذوالقرنین! یاجوج اور ما جوج نے اس سرزمین میں فساد مچا رکھا ہے۔ اگر ہم آپ کو کچھ چندہ اکٹھا کر دیں تو کیا آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار چن دیں گے؟’’
ذوالقرنین نے جواب دیا: ’’میرے پروردگار نے جو مجھے (مالی) قوت دے رکھی ہے۔ وہ بہت ہے تم بس بدنی قوت (محنت) سے میری مدد کرو تو میں ان کے اور تمہارے درمیان بند بنا دوں گا۔ مجھے لوہے کی چادریں لا دو۔ ذوالقرنین نے جب ان چادروں کو ان دونوں گھاٹیوں کے درمیان برابر کرکے خلا کو پاٹ دیا تو ان سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ۔ تاآنکہ جب وہ لوہے کی چادریں آگ (کی طرح سرخ) ہوگئیں تو اس نے کہا اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ کہ میں ان چادروں کے درمیان بہا کر پیوست کردوں’’۔ (اس طرح یہ بند ایسا بن گیا کہ) یاجوج ماجوج نہ تو اس کے اوپر چڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی سوراخ کرسکتے تھے۔ ذوالقرنین کہنے لگا: یہ میرے پروردگار کی رحمت سے بن گیا ہے مگر میرے پروردگار کے وعدہ کا وقت آجائے گا تو وہ اس بند کو پیوند خاک کردے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ اس دن ہم لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوجائیں اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب لوگوں کو اکٹھا کر دیں گے۔(سورۃ الکہف:83تا99)
الغرض:یہود نے جو سوال رسول ﷺ کی حقانیت اور نبوت کا امتحان کرنے کے لئے کیا تھا وہ اس جواب سے مطمئن ہو گئے۔ انہوں نے مزید سوالات نہیں کئے، کہ ان کا نام ذوالقرنین کیوں تھا، یہ کس ملک میں اور کس زمانے میں تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سوالات کو خود یہود نے بھی غیر ضروری اور فضول سمجھا، اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن کریم تاریخ و قصص کا صرف اتنا حصہ ذکر کرتا ہے جس سے کوئی فائدہ دین یا دنیا کا متعلق ہو، یا جس پر کسی ضروری چیز کا سمجھنا موقوف ہو۔ اس لئے نہ قرآن نے ان چیزوں کو بتلایا اور نہ کسی صحیح حدیث میں ا س کی یہ تفصیلات بیان کی گئیں اور نہ قرآن مجید کی کسی آیت کا سمجھنا ان چیزوں کے علم پر موقوف ہے۔ اسی لئے سلف صالحین، صحابہ و تابعین نے بھی اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
اس واقعے سے یہ سبق حاصل ہوا کہ جنھیں خدا زمین میں اقتدار عطا کرتا ہے، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خلقِ خدا کی بھلائی کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں۔مجرموں کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹنااور عام شہریوں کے ساتھ سہولت اور نرمی کا رویہ اختیار کرنا ان کا طرزِ عمل ہونا چاہیے۔اہلِ اقتدار کو اعلیٰ ظرف اور کشادہ قلب ہونا چاہیے۔ اپنے شہریوں کا تحفظ اہلِ اقتدار کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس کے لئے انھیں ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔ اس میں فسادی قوتوں کی سرگرمیوں کا سدِ باب کرنا بھی شامل ہے۔ نیزدنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ فسادی قوتوں کے سامنے جو ”دیوار” بھی کھینچی جائے گی وہ چاہے کتنی ہی مضبوط ہو اسے بالآخر شکست و ریخت کا شکارہونا ہوتا ہے۔ وغیرہ
خلاصۂ کلام:
خلاصہ یہ کہ سورہ کہف دین وایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں حفاظت کے لیے بہترین حصار کی حیثیت رکھتی ہے اور قدم قدم پر انسان کو یہ نصیحت کرتی ہے کہ اپنی زندگی کی حقیقت اور رب کے پاس واپسی کا دن ہمیشہ یاد رہنا چاہیے اور کبھی اپنی جوانی و تن درستی،مال و جائیداد،علم و ہنر اورتاج ووتخت پر اترانا نہیں چاہیے؛بل کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سورت کا نام الکہف ہے یعنی غار اور پھر غار کا تصور اندھیری اور تنگ جگہ ہے جو ہر طرف سے بند ہو؛لیکن اللہ تعالی نے اس غار کو اصحاب کہف کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنادیا اور ہمیں اس بات کا سبق دیا کہ دنیا میں کیسے ہی حالات و مصائب آئیں، کتنی ہی تنگی اور تاریکی محسوس ہو؛لیکن اللہ سبحان وتعالی پر ایمان پختہ ہو، اس کے حضور حاضری کا یقین مضبوط ہو اور اس کی طاقت وقدرت پر اعتماد کامل ہو تو اللہ تعالی اپنے غیبی نظام کے تحت ہر مشکل و مصیبت سے نکلنے کے لیے راستہ بنادیتے ہیں۔

You might also like