Baseerat Online News Portal

فلسفہ زکوٰۃابن عربی کے افکار کی روشنی میں

امانت علی قاسمی
قرآن نے مومن کو صدقہ کرنے اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا ہے ،مالداروں کے لیے اپنے مال میں سے ایک حصے کو فقیروں پر خرچ کرنا نماز کی طرح فرض ہے ۔اور جس طرح نماز کے ذریعہ جسم اور روح کی پاکیزگی ہوتی ہے، اسی طرح زکوۃ کے ذریعہ نفس کی انانیت ، بخل وغیرہ سے پاکیزگی ہوتی ہے ،ا س کے ذریعہ اللہ تعالی مال کو بھی پاک کرتے ہیں ابن عربی کا خیال ہے کہ مال اللہ کا ہے انسان صرف نائب ہے لہذا مال کو اپنی ذات تک مخصوص رکھنا اللہ تعالی کی کھلی نافرمانی ہے۔ ابن عربی کا نظریہ ہے کہ مال اور نفس کے درمیان خاص مناسبت ہے جس طرح اللہ تعالی نے زکوۃ کے ذریعہ مال کوپاک کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح نفس کی زکوۃ کا بھی حکم دیا ہے ابن عربی فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں : اللہ تعالی نے مال کی زکوۃ کو فرض کیا ہے اور بندے سے یہ کہا کہ جس قدر مال میں نے تمہارے اوپر فرض کیا ہے اس کے تم مالک نہیں ہو؛ بلکہ تم اس کے امین ہو اس کے بعد اللہ تعالی نے نفس کو حکم میں مال کے درجہ میں رکھا ہے؛ چنانچہ جس طرح مال کی زکوۃ کا حکم دیا ہے اسی طرح نفس کے زکوۃ کو ضروری قرار دیتے ہوئے للہ تعالی نے فرمایا: قد افلح من زکہا (سورۃ الشمس :۹) جس طرح وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کی ہے اسی طرح وہ شخص بھی کام ہوگیا جس نے اپنے نفس کی زکوۃ ادا کی ۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ’’نفس‘‘ کو بیع وشراء میںبھی مال کے ساتھ شامل کیا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم و اموالہم (سورۃ التوبۃ : ۱۱۱) (اللہ تعالی نے مومنین کے نفس اور مالوں کو خرید لیا ہے ) اس آیت میں اللہ تعالی نے نفس اور مال دونوں کے خریدو فروخت کو بیان کیاہے ۔ اس آیت سے ایک فقہی مسئلہ یہ نکلتاہے کہ جس طرح مال کی زکوۃ ہے، اسی طرح نفس کی بھی زکوۃ ہے ۔ مال کی زکوۃتوہمیں معلوم ہے البتہ نفس کی زکوۃ کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح زید کا وہ مال جو زکوۃ کے لیے متعین ہوچکا ہے وہ زید کا مال نہیں ہے؛ بلکہ وہ اس کے پاس امانت ہے ،اسی طرح وہ وجود جس سے نفس متصف ہے وہ اس کا نہیں ہے ؛بلکہ وہ اللہ تعالی کا ہے ،پس بندے سے مطالبہ یہ ہے جس وجود کے ساتھ آپ متصف ہیں یہ آپ کا نہیں ؛بلکہ اللہ کاہے جو اللہ نے آپ کو نواز رکھا ہے پس اس وجود کوآپ اللہ کے حوالے کردیجیے اور آپ اپنی جگہ پر باقی رہیے، اس سے مت ہٹیے؛ اس لیے کہ آپ کے اندر جو کچھ بھی ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی؛ لیکن جب آپ ایسا کرلیں گے تو آپ لیے وہ ثواب ہے جو عارفین باللہ کا ثواب ہے اور آپ اس سے ذریعہ اس مقام کو پالیں گے جس کی قدر اللہ کے علاوہ کسی کونہیں ہے اور یہی وہ فلاح اور بقاء ہے جس سے آپ کا وجود باقی رہے گاجو کبھی ختم نہیںہوگا اور قرآن کریم کی آیت قد افلح من زکہا کا یہی مطلب ہے۔(ابن عربی ،ابوبکر محی الدین محمد بن علی ، الفتوحات المکیۃ،لبنان ، دارالکتب العلمیہ،۲۰۱۱ء ج ۲ ص، ۲۵۴)
زکوۃ کے سلسلے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : واقیموا لصلوۃ و آتوا الزکوۃ و اقرضوا اللہ قرضا حسنا(سورۃ المزمل : ۲۰) نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا اور اللہ تعالی کو قرض دو بہترین قرض ۔ آیت کامطلب یہ ہے کہ تم زکوۃ ادا کرو جو کہ اللہ کے پاس قرض ہے جسے اللہ تعالی کئی گنا کرکے تمہیں واپس کردے گا۔جیسے حدیث میں ہے کہ کل قیامت میں اللہ تعالی بندے سے فرمائے گا میں بھوکا تھا تم نے کھانا نہیں کھلایا تو بندہ کہے گا اے رب! میں آپ کو کیسے کھلا سکتا تھا آپ تو رب العالمین ہیں ؟ تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا لیکن تم نے اسے نہیں کھلایا اگر تو اسے کھلادیتا تو اسے میرے پا س پاتا (صحیح مسلم باب فضل عیادۃ المریض۴/۱۹۹۰، حدیث نمبر : ۶۹۲۵) یعنی میں تمہیں اس سے بہتر شکل میں لوٹا دیتا،قرآن میں دوسری جگہ اللہ تعالی کاارشادہے، وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ (سورۃ البقرۃ: ۱۱۰) جو کچھ تم’’ خیر‘‘یعنی مال آگے بھیجتے ہو اسے اللہ کے پاس پالوگے۔خیر کا اطلاق اگر چہ ہر طرح کی نیکی پر ہوتاہے لیکن یہاں اللہ تعالی نے مال کے لیے خیر کالفظ استعمال فرمایاہے،ایک جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : اذا مسہ الخیر منوعا (سورۃ المعارج: ۲۱) جو انسان کو مال ملتا ہے تو اسے روکنے والا بن جاتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالی کا ارشادہے : وانہ لحب الخیر لشدید (سورۃ العادیات : ۸) انسان کے اندر مال کی محبت بہت زیادہ ہے، معلوم ہوا کہ مال کی محبت انسان کے اندر بہت زیادہ ہوتی ہے اس کاخرچ کرنا انسان کے لیے دشوار ہوتاہے؛ اس لیے اللہ تعالی نے خرچ کرنے سے مانوس بنانے کے لیے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا : ان الصدقۃ تقع بید الرحمن فیربیہا کما یربی احدکم فلوہ أو فصیلہ (التمہید لما فی الموطامن المعانی و الاسانید،۲۳/۱۷۴) صدقہ رحمن کے ہاتھ میں جاتاہے اور رحمن اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی بچھڑ ے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتاہے۔اس حدیث کے ذریعہ اللہ تعالی نے دو باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ایک یہ کہ سائل اور فقیر یہ اللہ کے ہاتھ سے لیتاہے ،صدقہ کرنے والے کے ہاتھ سے نہیں لیتاہے،کیوں کہ حضور نے فرمایا کہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے صدقہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں جاتاہے ، اس لیے سائل پر اللہ کااحسان ہے، صدقہ کرنے والے کا احسان نہیں ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالی نے بندے سے قرض طلب کیاہے اور فقیر اس قرض کے طلب کرنے میں اللہ کا ترجمان ہے ،اس طرح اگر سائل مومن ہے تو اسے صدقہ کرنے والے صدقہ کا مال لینے میں شرمندگی نہیں ہوگی کیوں کہ اس نے اللہ سے لیا ہے، صدقہ کرنے والے سے نہیں صدقہ کرنے والے تو اللہ تعالی کو قرض دیا ہے ۔
دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ صدقہ اور زکوۃ ایک ایسی جگہ میں بطور امانت کے پہونچ گیا ہے جہاں اس میں اضافہ ہوتارہے گا اس سے خرچ کرنے میں انسان میں سخاوت پیدا ہوگی اورانسان نفس کے بخل سے اپنے آپ کو بچا لے گا؛ اس لیے کہ انسان کی طبیعت میں تجارت سے نفع حاصل کرنا اور مال کو بڑھانا ودیعت ہے ۔انسان میں طبعی طورپر مال کی حرص اور مال بڑھانے کا شوق ہے ،چنانچہ تاجر مال بڑھانے کے لیے دور دراز کا سفر کرتا ہے،اور نفع اور مال کے بڑھنے کی امید پر مال خرچ کرتا ہے ، اسی لیے مضاربت کا معاملہ کرکے کسی کو مال دیتا ہے تاکہ وہ نصف نفع یا دو تہائی نفع پر کاروبار کرے اور جو نفع ہو وہ دونوں کے درمیان تقسیم ہو اس طرح مضاربت کا معاملہ کرکے بھی انسان خوش ہوتاہے کہ میرا مال بڑھے گا۔قرآن میں اللہ تعالی نے صدقہ کو تجارت قرار دیا ہے اور بتلایا کہ اس سے مال میں اضافہ ہوگا جس طرح تجارت کرنے سے مال میں اضافہ ہوتاہے یہ ترغیب کے لیے تاکہ انسان میں مال خرچ کرنے فطری طبیعت پیداہو۔زکوۃ نکالنا یہ درحقیقت اللہ کے ساتھ قرض کا معاملہ کرنا ہے،عربی میں مضاربت کے لیے قرض اور مقارضۃ کا لفظ بھی استعمال ہوتاہے، اور یہ مضاربت اور قرض اللہ کے ساتھ ہے جس میں نصف یا دو تہائی نفع نہیں؛ بلکہ مکمل نفع ملے گا اور مضاربت میں انسان دے کر خوش ہوتاہے کہ نفع ملے گا جب کہ بسااوقات نقصان بھی ہوجاتا ہے اس کے باوجود انسان مضاربت کا معاملہ کرنے میں بالکل اندھا ہوتاہے جب کہ اللہ کے ساتھ مضاربت اور قرض کے معاملہ میں نقصان کا کوئی امکان ہی نہیں ہے ۔ اس تصور سے انسان کے لیے زکوۃ نکالنا یا دین کے کاموں میں خرچ کرناآسان ہوجائے گا اور انسان زکوۃ نکالنے اور دوسرے دینی کاموں میں خیرات کرنے میں جلدی کرے گا جس طرح دنیوی نفع کی چیز خریدنے میں جلدی کرتاہے اور اس کے لیے سفر بھی کرتا ہے ، لیکن اگر اللہ تعالی کی اس صراحت کے باوجود کوئی شخص زکوۃ نہیں نکالتاہے تو یہ اس ایمان کی کمزور ی کی بات ہے کہ ایک عام آدمی اگر کہے کہ آپ مجھے ایک لاکھ روپیہ دیں میں کاروبار کرکے اس کو بڑھا کر دوں گا تو انسان اس کے لیے فورا تیار ہوجائے لیکن اللہ تعالی کہے کہ زکوۃ دو میں تمہارے مال کو کئی گنا بڑھا دوں گا تو انسان کو اللہ کی بات پر اعتماد اور بھروسہ نہ ہو ۔
حدیث میں ہے کہ قرآن کی آیت وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللّٰہَ لَئِنْ اٰتٰئنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْن(سورۃ التوبۃ:۷۵) اگر اللہ تعالی نے مجھے اپنے فضل سے دیا تو میں ضرور خیرات کروں گا اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا )یہ آیت ثعلبہ بن حاطب کے بارے میں نازل ہوئی، ثعلبہ بن حاطب حضور کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ دعا کریں میں مال دار ہو جاؤں آپ نے فرمایا تم کو تو میرا طریقہ پسند نہیں ہے تو میں تمہارے لیے کیوں دعا کروں وہ واپس چلا گیاپھر دوبارہ آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے دعا کریں میں مال دار ہوجاؤں اگر مجھے مال مل گیا تو میں ہر حق والے کا حق اس کو پہونچاؤں گا رسول اللہ ﷺ نے دعا کردی جس کا اثر یہ ہوا کہ اس کی بکریوں میں بے پناہ زیادتی شروع ہوگئی یہاں تک کہ مدینہ کی جگہ اس کے لیے تنگ ہوگئی اور وہ مدینہ سے دور کسی علاقہ میں آباد ہوگیا پھر جب صدقہ کا حکم نازل ہوا اور حضور ﷺ نے اپنا قاصد بھیجا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جزیہ کی ایک قسم ہے میں اس میں غور کروں گا اورصدقہ نہیں دیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی فَلَمَّآ اٰتٰئھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (سورۃ التوبۃ: ) پھر جب اللہ نے ان کو نوازا توبخل کرنے لگے اور منہ موڑ کر چل دیے)جب ان کو اس آیت کا علم ہوا تو اپنی زکوۃ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہو ا لیکن آپ ﷺ نے لینے سے انکار کردیا ۔

You might also like