Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل؟

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ۔ بانی وناظم المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد

عمل کے بغیر دعوت
سوال:- ہمارے محلہ میںایک صاحب دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں لوگوں کا عام تاثر یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں؛ لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے ، اس لیے لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں دوسروں کو دعوت دینے سے احتیاط کرنی چاہئے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ، اس سلسلہ میں صحیح بات کیا ہے ؟ اگر ایک آدمی خود کسی گناہ سے نہ بچ سکے تو کیا وہ دوسروں کو اس گناہ سے بچنے کی دعوت دے سکتا ہے ؟ (ذوالفقار علی، سنتوش نگر)
جواب:- عمل سے دعوت میں تاثیر پیدا ہوتی ہے ، اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس نیکی کی دعوت دی جائے ، پہلے اس پر خود عمل کیا جائے اور جس برائی سے روکا جائے پہلے اس سے خود بچایا جائے؛ لیکن ایسا نہیںہے کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر عمل سے محروم ہو،تو وہ دوسروں کو اس کی دعوت ہی نہ دے؛ کیوں کہ معروف پر عمل کرنا اور منکر سے روکنا ایک مستقل فریضہ ہے اور خود معروف پر عمل کرنا اور منکر سے بچنا مستقل فریضہ ہے، اگر کوئی شخص ایک فریضہ کو ادا کرنے سے محروم ہو ، تو ضروری نہیں کہ وہ دوسرے فریضہ سے بھی منہ موڑ لے ، اگر وہ دوسروں کو دعوت دے تو کم سے کم ایک گناہ سے تو محفوظ رہے گا ، چنانچہ امام عبد الرشید طاہر بخاری ؒ نے لکھا ہے کہ : جو شخص کسی برائی کو دیکھے اور وہ خود بھی اس میں مبتلا ہو ، تب بھی اس کے لیے اس برائی سے روکنا واجب ہے؛ اس لیے کہ اس پر ترکِ منکر بھی واجب ہے اور نہی عن المنکر بھی ، اگر ایک واجب کو ترک کر رہا ہے تو کم سے کم دوسرے واجب کو تو ترک نہ کرے : لأن الواجب علیہ ترک المنکر و النھي عن المنکر و اذا ترک أحدھما لا یترک الآخر(خلاصۃ الفتاویٰ: ۴؍۳۳۸)اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب آدمی دوسروں کو دعوت دیتا ہے تو بالآخر خود اس کو بھی اس پر عمل کی توفیق میسر آتی ہے ۔
جہاں تک مذکورہ آیت کی بات ہے تو اس کا مقصود یہ ہے کہ جو کام کرتے نہیں ہو؛ کیوں کہتے ہو کہ تم نے اسے کیا ہے ، یعنی چھوٹے ادّعا کی مذمت ہے نہ کہ دعوت کی ممانعت ۔ واللہ اعلم۔

’’ زَاھِدِیْنَ‘‘ کی تفسیر
سوال:- قرآن مجید میں سورہ یوسف میں یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں ارشاد ہے : وَ کَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاھِدِیْنَ اس آیتِ پاک کا مطلب بیان فرمائیں ؟ ( عارف حسین، مراد نگر)
جواب:- اس سے مراد حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی ہیں، یا قافلہ کے لوگ ، یا حضرت یوسف علیہ السلام کو فروخت کرتے وقت آنے والے ؟ اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ، اور تینوں طرح کی رائیں ،منقول ہیں، ’’ زھد‘‘کے معنی اصل میں بے رغبتی کے ہیں؛ اسی لئے دنیا سے بے رغبت شخص کو ’’ زاھد ‘‘ کہا جاتا ہے ، آیت کا منشا یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زیادہ رغبت نہیں رکھتے تھے ،اب یا تو بھائیوں نے برادرانہ رقابت اوردوسرے لوگوں نے غلام تصور کرکے کم رغبتی کا مظاہرہ کیا، یا رغبت رکھنے کے باوجود اہل قافلہ اور خریدارانِ یوسف علیہ السلام نے بظاہر بے رغبتی ظاہر کی؛ تاکہ دوسرے لوگوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کے حصول اور خریداری میں زیادہ دلچسپی نہ پیدا ہوجائے۔ ( الجامع لأحکام القرآن للقرطبی : ۹/۱۵۔)

قرآن مجید کے بارے میں کچھ معلومات
سوال:- قرآن شریف کی سورتوں ، آیتوں ، سجدوں ، کلمات اور حروف کی تعداد کے بارے میں بتائیں ؟ (محمد سراج، مہدی پٹنم)
جواب:- قرآن شریف کی سورتیں ۱۱۴؍ ہیں، آیتوں کی تعداد میں مکہ، مدینہ ، اور کوفۂ و بصرہ کے قراء کے درمیان کسی قدر اختلاف ہے ، یہ اختلاف نعوذ باللہ اس لئے نہیں کہ قرآن کے بعض حصوں کے بارے میں قرآن ہونے اورنہ ہونے کا اختلاف ہو؛ بلکہ بعض قراء کے نزدیک ایک مقام پر وقف ہے ، اور دوسروں کے نزدیک نہیں ،تو جس کے نزدیک وقف ہے، اس کے نزدیک ظاہر ہے کہ آیت بڑھ جائے گی، مشہور مفسر علامہ قرطبی ؒ نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے ، بہر حال اہل مکہ کے نزدیک آیات قرآنی کی تعداد ۶۲۱۹ہے، (تفسیر قرطبی: ۱؍۹۵) قرآن میں ۵۵۸ رکوع ہیں ، سجدے کل پندرہ ہیں؛ البتہ فقہاء کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ کیا ان تمام آیات پر سجدہ واجب ہے یا بعض پر واجب نہیں ؟ قرآن کے کلمات عطاء بن یسار کے شمار کے مطابق ۷۷۴۳۹؍ ہیں ، اور حروف تین لاکھ تئیس ہزار پندرہ ، (حوالۂ سابق)؛البتہ اس شمار میں بھول چوک کا امکان موجود ہے ؛ لیکن قرآن کے ایک لفظ کے بارے میں بھی ایسا اختلاف نہیں کہ کچھ مسلمان ان کو تسلیم کرتے ہوں ،اور کچھ ان کا انکارکرتے ہوں؛چونکہ قرآن کا محفوظ اور شک و شبہ سے بالا تر ہونا خود قرآن مجید ہی سے ثابت ہے ؛ اس لئے اس کا انکار باعث کفر ہے، اللہ تعالی ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔

رقعوں اور اخبارات میں حدیث
سوال:- شادی بیاہ کے رقعوں اور اردو اخبارات میں حدیث شریف تحریر ہوا کرتی ہے ، میں نے کئی بار ایسے کاغذات ازراہِ احترام زمین پر سے اٹھائے ہیں، کیا اس طرح احادیث کا لکھنا جائز ہے اور اس بے حرمتی کا ذمہ دار کون ہے ؟ (محمد یامین، حمایت نگر)
جواب:- دعوت ناموں یا اخبارات و رسائل میں حدیث لکھنے کا اصل مقصد دعوت و تذکیر کا ہے ، اس طرح بہت سے لوگ حدیث اور اس کا ترجمہ پڑھ لیتے ہیں، بعض لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی توفیق بھی ہوجاتی ہے؛اس لئے یہ گناہ نہیں ہے؛بلکہ نیت کے اعتبار سے ثواب ہی کی امید ہے ،فقہاء نے سِکّوں پر اللہ تعالی کا نام لکھنے کی اجازت دی ہے؛ کیونکہ اس کا مقصد اسم باری تعالی کی اہانت نہیں: لا بأس بکتابۃ اسم اللّٰہ تعالی علی الدراھم ؛ لأن قصد صاحبہ العلامۃ لا التھاون ، کذا في جواھر الاخلاطی (فتاویٰ ہندیہ: ۵؍۳۲۳) اس سے بھی اس کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے ۔

حائضہ کا پکوان وغیرہ
سوال:-عورتوں پر حالتِ حیض میں کب غسل واجب ہے ؟ اور کیا حائضہ عورت کا پکاہوا کھانا کھانا اور اس حالت میں عورت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جائز ہے؟ ( عبدالجبار، مومن پورہ)
جواب:- جب تک خون کا سلسلہ بالکل ختم نہ ہوجائے یا حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن نہ گزرجائے ، عورت ناپاک ہے، حیض کی حالت میں صرف میاں بیوی کے خصوصی تعلق کی ممانعت ہے، ان کی پکائی ہوئی چیز کھانا ، ساتھ سونا اور رہنا اور اس تعلق کے علاوہ تمام افعال جائز ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات کے ساتھ اس حالت میں بھی سوائے خصوصی تعلق کے باقی ہر طرح کا تعلق رکھتے تھے ، (نسائی، حدیث نمبر: ۲۸۹) اس لئے اس میں حرج نہیں ۔

مرنے والوں کی تصویر اور آواز کو محفوظ رکھنا
سوال:-مرنے والوں کی تصویر لینا یا آواز بھر نا جائز ہے یا نہیں ؟ ( حفظ القدیر، دبیر پورہ)
جواب:- تصویر لینا حرام ہے، موت کے بعد بھی کسی انسان کو گناہ کا ذریعہ و وسیلہ بنانا بہت ہی زیادتی اور نا انصافی کی بات ہے ، یہ قطعا جائز نہیں ،اور ممکن ہے کہ بمقابلہ عام تصویر کشی کے اس کا گناہ زیادہ ہو، آواز بھر نے میں مضائقہ نہیں، آواز ٹیپ ریکارڈ کے ذریعہ محفوظ کی جاسکتی ہے ۔

کافر کی روح اور اس پر عذاب قبر کا مسئلہ
سوال:- اگر کافر انسان مر جائے تو اسے جلا دیا جاتاہے ، ایسے شخص کی روح اللہ کے پاس جاتی ہے یا نہیں ؟ اور اس پرقبر کا عذاب کس طرح ہوتا ہے(صلاح الدین، کھمم)
جواب:- جوں ہی انسان کی موت واقع ہوتی ہے ، اس کی روح نکل جاتی ہے؛ بلکہ موت نام ہی روح نکلنے کا ہے ، نیکوںکی روح ’’علیین‘‘ میں اور بروں کی ’’سِجِّین ‘‘میں چلی جاتی ہے، پھر انسان کی لاش دفن کر دی جائے یا جلا دی جائے ، یا سمندر میں ڈال دی جائے ، یا ریزہ ریزہ کر دی جائے، یا یوں ہی محفوظ کر دی جائے ، ہر حالت میں اس پر عالم برزخ شروع ہوجاتا ہے ، عالم برزخ میں اللہ تعالی کی قدرت سے روح اور جسم کے درمیان ایک نادیدہ اور اَن دیکھا تعلق قائم رہتا ہے ، دنیا میں اس کا ادراک نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن آج کل تمثیلات سے اس کو سمجھاجا سکتا ہے ، غور کیجئے کہ ٹی وی اسٹیشن اور ٹی ، وی کے درمیان یا ریڈیو اسٹیشن اور ریڈیو کے درمیان کوئی محسوس رابطہ نہیں؛ لیکن برقی لہروں کی مدد سے ایک جگہ کے مناظر دوسری جگہ نہایت سہولت سے دیکھے جاسکتے ہیں ، جب انسان ایسی ایجادات کو وجود میں لا سکتا ہے ، تو خالق کائنات کے لئے روح اور جسم کے ذرات کے درمیان رابطہ استوار کرنا کیا دشوار ہے ؟ روح اور جسم کے اسی رابطہ کی وجہ سے راحت و کلفت اور ثواب و عذاب کا احساس ہوتا ہے ؛ اس لئے ایسا نہیں ہے کہ لاش جلادینے کی وجہ سے انسان اللہ کی گرفت کے دائرہ سے باہر نکل آئے ۔

مساجد میں ٹنگ ٹانگ گھڑیاںرکھنا
سوال:-مسجد میں ٹنگ ٹانگ گھڑیاں رکھنے کا از روئے شرع کیا حکم ہے ؟ جماعت کے رکن موصوف ایسی گھڑی کے بہانے طرح طرح کے الزمات لگانے کے متعلق از روئے شرع کیا حکم ہے ؟ ( محمد آصف اقبال )
جواب:- مساجد میں اوقات کی نشاندہی کرنے والی گھڑیوں کے رکھنے میں مضائقہ نہیں ، اگر وہ خفیف سی آواز کے ساتھ بھی وقت بتا تی ہو اور اس سے عام لوگوں کی نماز میں خلل نہ پیدا ہوتا ہو ، جیسا کہ مشاہدہ ہے تو ایسی گھڑیاں مسجد میں رکھی جاسکتی ہے (امدادالفتاویٰ:۲؍۷۸) اور اس پر موصوف کو اعتراض کرنا صحیح نہیں ہے ، کسی بھی مسلمان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہئے کہ کسی ضرورت شرعی کے بغیر خواہ مخواہ مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پیدا ہو؛ اس لئے ان کو اس سے باز آجانا چاہئے ۔

امامت سے پہلے صف کی درستگی کی تلقین
سوال:- نماز کے لیے اقامت کہنے کے بعد صف بندی کے لیے امام صاحب یا مؤذن صاحب کا یہ کہنا کہ پہلی صف مکمل کرو ، کندھے سے کندھا ملا کر ٹھہرو ، بچے پیچھے کی صفوں میں ٹھہریں ، بچے شرارت کریں تو ان کو خاموش بٹھاؤ ، کہاں تک درست ہے ؟ ( ہمایوں اختر، سکندرآباد)
جواب:- صحابہ رضی اللہ عنہم نقل کرتے ہیں کہ جب نماز قائم کی جاتی ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک بھی ہماری طرف ہوتا اور تلقین فرماتے ، اپنی صفوں کو سیدھی کرو اور مل مل کر کھڑے ہو :أقیموا صفوفکم و تراصّوا (بخاری، حدیث نمبر:۷۱۹) ؛ اس لیے امام صاحب کا یا مؤذن صاحب کا اقامت کے بعد لوگوں کو متوجہ کرنا کہ وہ اپنی صفیں مکمل کرلیں، بچوں کو بچوں کی صف میں کھڑا کریں اور انہیں پر سکون کردیں ، جائز بلکہ مستحب ہے ؛ اس لئے کہ اس سے نماز کو اس کے آداب کے ساتھ ادا کرنے میں سہولت ہوتی ہے ۔

چند اذانوں کا یا دور سے سنائی دینے والی اذان کا جواب
سوال:- جیسا کہ اذاں کے جواب کا اجر پانے کے لئے تلاوت قرآن روک دینے یا اگر نماز شروع نہ کی گئی ہو تو مؤخر کرنے کی تعلیمات ہیں ، اکثر مختلف مساجد سے سنائی دینے والی اذانوں کے کلمات ماحول کے شور کے سبب غیر واضح ہوتے ہیں ، کیا دور سے آنے والی اذان کی آواز بھی اسی حکم میں ہوگی ، کیا ان کا جواب دینا چاہئے ؟ اور تلاوت روک دینا چاہئے ؟وضاحت کی گذارش ہے ۔ (امیر الحسن، مادنا پیٹ)
جواب:- اگر چند مسجدوں کی اذان کی آواز آپ تک پہنچتی ہے اور سمجھ میں آتی ہے تو پہلی اذان کا جواب دینا چاہئے : ولو تکرر أجاب الأول (درمختار:۲؍۲۶۶)اور ایک سے زیادہ اذان کا جواب دیں تو بہتر ہے ؛ کیوںکہ بعض فقہاء اسی کے قائل ہیں : ویظہر لي إجابۃ الکل بالقول لتعدد السبب وہو السماع ، کما اعتمدہ بعض الشافعیۃ (ردالمحتار مع الدر: ۲؍۶۷)اگر بہ یک وقت کئی مسجدوں میں اذان شروع ہوجائے توا پنے محلہ کی مسجد کی اذان کو ترجیح دے ؛کیوںکہ جوار اور پڑوس کی وجہ سے اس مسجد کا حق زیادہ ہے ؛ البتہ دوری یا کسی اوروجہ سے اگر اذان کی آواز سمجھ میں نہ آئے تو جواب دینے کی ضرورت نہیں ؛ کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان سننے والوں کو جواب دینے کا حکم دیا ہے ؛ چنانچہ مشہور فقیہ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں : یفہم منہ أنہ لو لم یسمع لصمم أو لبعد أنہ لا یجیب وہو ظاہر الحدیث الآتی : إذا سمعتم الأذان(ردالمحتار مع الدر: ۲؍۶۶)جس اذاں کا جواب دینے کا حکم ہے ، صرف اس کے لئے تلاوت روکی جائے گی ، جس کا جواب نہیں دینا ہے ، اس کے لئے تلاوت روکی نہیں جائے گی ؛ کیوںکہ تلاوت سے رکنے کا مقصد اذاں کا جواب دینا ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like