Baseerat Online News Portal

“تانڈو” پربھی تانڈو کی وجہ عصبیت اور حق نمائی سے خائف و پریشانی

 

 

نور اللہ نور

 

ابھی گزشتہ چند دنوں سے ایک ویب سیریز کافی چرچے میں ہیں اور جس کے بارے میں یہ باتیں کہیں جارہی ہے کہ اس میں ہندوؤں کے معزز ہستیوں کی اہانت کی گئی ہے ان کے جزبات کو مجروح کرنے کا کام کیا گیا ہے اور سینسر بورڈ سے اس کی منسوخی کا مطالبہ بھی زوروں پر ہے.

میں فلم بینی کا شائق نہیں اور فلم کاروں سے کوئی خاصی لگاؤ نہیں ہے اس موضوع پر گفتگو کا مقصد بس اس فلم کے تنقید کا نشانہ بننے کی چند وجہوں کا ذکر اور خود کو سیکولر کہنے اور مذہب کے ان جھوٹے دعویداروں کے دوہرے رویہ کو بیان کرنا ہے.

دیکھئے! یہ فلم دو وجہوں سے ان کور چشم اور مذہبیت کے جنوں میں بے خود ، عصبیت کے نشے میں مخمور لوگوں کی ناراضگی کا سامنا کر رہی ہے پہلے وجہ جو بالکل عیاں ہے وہ یہ ہیکہ اس کے کلیدی کردار ادا کرنے والا اور اس فلم کی کہانی لکھنے والا دونوں مسلمان نام ہے اور دوسری وجہ یہ ہیکہ اس فلم میں موجودہ حکومت کی ناکامی اور عوام پر کئے گئے مظالم کی ترجمانی کی گئی ہے ، کسانوں کے احتجاج اور نوجوانوں کی بے جا گرفتاری کا بھی منظر دکھلایا گیا ہے یہ ان کے پیٹ میں مڑوڑ کی اصل وجہ ہے اور تانڈو پربھی تانڈو کرنے کی وجہ ہے.

 

اس ملک کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہر مذہب و مشرب کا احترام کیا جائے اور مذہبی آزادی کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک

دوسرے کے ہمدوش ہوں نہ ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے ، اور نہ ہی ہمارا شیوہ کے ہم ایک دوسرے کے مذہب و دین پر انگشت نمائی کریں.

 

ہم ہر اس شخص کا بائکاٹ کرتے ہیں جو اس طرح کے تفریق و انتشار کا باعث بنتے ہیں مگر جہاں تک اس ویب سیریز کا تعلق جس پر اتنا واویلا مچایا جا رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ہندی دیوتاؤں کی توہین ہوتی ہو اور نہ ہی کسی کے جزبات کو مجروح کرنے کا قصد کیا گیا ہے بلکہ اس طرح کے کردار فلموں میں پہلے بھی کئے گئے ہیں.

اصل تکلیف ان کو اس بات سے ہیکہ اس سچائی سے نقاب کشائی کی گئی ہے جو گزشتہ چند سالوں میں یہاں کی عوام نے جھیلا ہے اور اس تلخ حقیقت کو بیان گیا ہے جس کی میڈیا کے ذریعہ پردہ داری کی گئی تھی.

یہ سب ان کا دجل اور جھوٹ ہے اور نفرت کو فروغ دینے اور سچائی سے نقاب کشائی پر ان کی تکلیف ہے جو چھلک کر باہر آر ہی ہے.

ان کے دل میں نہ “رام” کی کوئ محبت ہے اور نہ “شیو” سے کوئی عقیدت ہے اور نہ اپنے مذہب کے تعلق سے کوئ لگاؤ ہے یہی وجہ ہیکہ مندر جیسے پاک و پوتر عبادت خانے میں ایک ننھی پری کے ساتھ درندگی کی جاتی ہے مگر ان کا خون نہیں کھولتا، اس وقت ان کی حمیت نہیں پھڑکی، تب وہ ٹوئٹر پر اپنی برہمی کا اظہار نہیں کیا.

رام اور شیو کے نام پر مارنے مرنے والوں کا خون اس وقت ابال نہیں مارا جب اسی رام کے چرنوں میں ایک دیوی نما خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی اس وقت ان کو توہین سمجھ نہیں آئی، اور ان سب سے بڑھ کر جب رام مندر کے قضیہ کا حل نکلا تو مودی جی کی ایک تصویر وائرل ہوئ جس میں مودی جی رام جی ان کو آستانے پر لے کر جا رہے ہیں اس وقت مودی جی کا تقابل رام سے دکھائی نہیں دیا اور ابھی واویلا مچا رہے ہیں.

حقیقت یہی ہے کہ ان کو مذہب سے کوئی سروکار نہیں بلکہ اپنی سیاسی مفاد مقصود ہے اور اپنی ناکامی کی تشہیر پر وہ لوگ چراغ پا ہیں اور اس طرح کا دوہرا رویہ اپنائے ہوئے ہیں.

جن لوگوں نے ٹوئٹر پر آکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے انہوں نے اس “سادھو “کی لنچنگ پر کیوں خاموشی اختیار کر لی تھی؟ جسے ایک بھیڑ نے لنچنگ میں جان سے مار دیا.

اس تانڈو پرتانڈو کی وجہ عصبیت میں مخمور، حق نمائی سے خائف و پریشانی ہے.

You might also like