Baseerat Online News Portal

مسجد خدمت کمیٹی: ایک تعارف، ایک جائزہ

اسانغنی مشتاق رفیقیؔ
موبائل: 9894604606
تقریباً ڈھائی تین سال پہلے کی بات ہے، محلے کی مسجد میں جیسے ہی جمعہ کی نماز ختم ہوئی ایک صاحب کھڑے ہوگئے اور پانچ منٹ کی مختصر تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا ”آنحضور ﷺ کے زمانے میں مسجدوں کے تحت، خاص کر مسجد نبوی میں چار کام ہوتے تھے، عبادت، دعوت، تعلیم اور خدمت۔ عبادات کا نظام اسی طرز پرآج بھی جاری ہیں، نماز وں سے ذکر و اذکار کی مجلسوں سے مساجد آباد ہیں۔ تعلیم کا نظام بھی کسی نہ کسی شکل میں وعظ و نصائح کے مجالس قائم کرکے اور مکاتب کے ذریعے موجود ہے۔ دعوت کا عمل بھی مسجدوں سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن خدمت کے شعبے سے مساجد خالی ہوچکے ہیں۔ حالانکہ اس کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی عبادت تعلیم اور دعوت کی ہے۔ آپ ﷺ کے دور میں اور خلفائے راشدین کے دور میں خدمت کے جتنے بھی کام انجام پاتے تھے وہ مسجد کے تحت ہی انجام پاتے تھے۔ غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد، مسکینوں کو کھاناکھلانا، بیمار وں کے علاج کے لئے مسجدوں سے ہی انتظام کئے جاتے تھے۔ مسجدوں کے تحت،خدمت کے اس عمل کو پھر سے جاری کرنے کے لئے مسجد خدمت کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی ہمارے صوبے میں کچھ سالوں سے کام کر رہی ہے۔ آج آپ کے مسجد میں اس کی شاخ قائم کرنی ہے، اس لئے آپ تمام سے درخواست ہے کہ سنت و نوافل کے بعد مسجد کے باہر ہمارے کارکن ممبر شپ فارم رکھے کھڑے ہیں ان سے وہ لے کر پُرکر کے دے دیں تاکہ آپ کی مسجد میں بھی یہ مبارک کام شروع ہو۔“
مقرر نے آسان ٹمل زبان میں اپنی بات رکھی۔اُن کی بات سن کر ہمیں اشتیاق پیدا ہوا کہ اس تحریک سے ضرور جڑنا چاہئے۔ سنن و نوافل سے فارغ ہوکر ممبر شپ فارم حاصل کی جس میں نام پتہ فون نمبر اور کچھ بنیادی معلومات کا اندراج کرنا تھا۔ فارم بھر کر لوٹانے کے بعد مقرر سے بات کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اپنا تعارف سید ابراھیم کہہ کر کرایااور شہر ایروڈ بتایا۔ وہ مسجد خدمت کمیٹی کے تاسیسی رکن ہیں اور کنوینر کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ بقول ان کے اس جماعت کا نہ کوئی صدر مقام ہے نہ کوئی صدر اورنہ اس میں کوئی عہدہ نہ کوئی عہدیدار۔ یہ بس ایک طرز عمل ہے جس کو ہر مسجد میں قائم کرنا ہے اور ہر مسجد کا امام اور متولی ہی اُس کے وہاں کے ذمہ دار ہیں یا وہ جس کو طے کریں۔
جیسے ہی فارم پُر کرنے کی کاروائی مکمل ہوئی، اسی وقت فارمس میں درج کئے گئے موبائل نمبروں کو جوڑ کر ایک واٹس اپ گروپ تشکیل دی گئی اوراس کو مسجد کے نام کے ساتھ خدمت کمیٹی جوڑ کر نام دے دیا گیایعنی مسجد بشیر آباد خدمت کمیٹی۔ اس گروپ کے ذریعے یہ اعلان پوسٹ کردیا گیا کہ بعد نام عشاء تمام اراکین جڑ جائیں کچھ ضروری مشورے کرنے ہیں۔ بعد نماز عشاء کنوینر صاحب نے مسجد کے ایک حصہ میں سبھی ارکین کے جڑنے کو بعد پہلے خدمت کے تعلق سے اسلامی نقطہء نظر پیش کیا۔ موجودہ دور اور حالات میں سماجی خدمت کی اہمیت کی وضاحت کی۔اور پھر ایک لائحہ عمل پیش کیاکہ کیسے خدمت کمیٹی قائم کی جاتی ہے اور پھر اس کو کیسے فعال رکھا جاتا ہے۔ اس لائحہ عمل کے تحت پہلے موجود اراکین میں کام کی تقسیم یعنی عہدیداروں کا انتخاب تھا جن میں مسجد کے متولی اورامام کی شمولیت لازم تھی، متولی اور امام صاحب کی نگرانی میں دو ضروری عہدے مشورے سے طے کئے گئے۔ پہلے سے موجود مسجد خدمت کمیٹی کے ضابطوں کے تحت کام کی ابتدا یوں کی گئی کہ ایک پمفلٹ چھپوا کرجس میں مسجد خدمت کے بنیادی مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے اہل محلہ سے یہ درخواست کی گئی کہ فلاں تاریخ کو مسجد میں اعداد شماری یعنی محلے کے افراد کا ڈاٹا کلکشن ہے، اس لئے سبھی حضرات مقررہ وقتوں پر تشریف لاکر اپنی تفصیلات کا اندراج کرادیں۔ عورتوں کے لئے پردے میں مسجد سے منسلک جگہ کی نشاندہی کے ساتھ پمفلٹ پہلے سے موجود نمونے کے تحت تھا۔ اس کے لئے سات دن کا وقفہ دیا گیا تاکہ پمفلٹ محلے کے تمام گھروں تک پہنچ سکیں۔ اس بیچ مسجد خدمت کمیٹی کے پرانے کارکنوں کی ذریعے نئے اراکین کو ڈاٹا کلکشن فارم پر کرنے کی مشق کرائی گئی۔ سات دن بعد مقررہ وقت پر ڈاٹا کلکشن کیمپ منعقد ہوا۔ مہیا کردہ ڈاٹا کلکشن فارم جس کو سائنسی انداز میں اس خوبی سے مرتب کیا گیا ہے کہ ایک کنبہ کے لگ بھگ تمام تفصیلات ایک ہی صفحے پر آجاتی ہیں۔ کارکنوں نے آنے والے محلے کے افراد سے ہر کنبے کے لئے ایک فارم کے اصول پر تفصیلات طلب کر کے پُر کی۔ کیمپ کے خاتمے کو بعد پُر ہوئے فارمس کا خدمت کمیٹی کے قدیم اراکین کی نگرانی میں تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پھر مختلف عنوانات جیسے بغیر آمدنی کے غریب اور مسکین کنبے، بیمار افراد جن کو فوری علاج کی ضرورت ہے، تعلیمی رہنمائی اور امداد کے طالب کنبے،خوشحال کنبے وغیرہ کے تحت تقسیم کردئے گئے۔ ان میں اولیت بغیر آمدنی کے غریب اور مسکین کنبوں کو دی گئی اور ایک وقت طے کرکے ان کے فراہم کردہ پتے پر کمیٹی کے اراکین پہنچ کر ان کے حالات کا راست مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد ایسے کنبوں کی ایک لسٹ بنائی گئی جن کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اگلے جمعے میں بعد نماز جمعہ دعا سے پہلے مختصر طور پر اہلیان محلہ کو ڈاٹا کلکشن سے ملے نتائج کی جانکاری دی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ اسی محلے میں ایسے افراد بھی بستے ہیں جن کے گھر وں میں ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے بنتا ہے۔ محلے والوں کو ان کی ذمہ داری کے احساس دلاتے ہوئے سورۃ الماعون کی روشنی میں مساکین کو کھانے کھلانے کی فضیلت اور اہمیت کی تفصیل پیش کر کے مدد کے لئے آگے آنے کی ترغیب دی گئی۔ اس کے لئے ایک لائحہ عمل یہ دیا گیا کہ ہر ماہ نشان زدہ کنبوں کو راشن پہنچایا جائے گا اس کے ایک مخصوص رقم کی ضرورت ہے، جو صاحب حیثیت ہیں وہ فی کنبہ کے لئے کل یا جزوی طور پر بھی امداد پیش کر سکتے ہیں۔ اسی مجلس میں اہلیان محلہ سے کئی افراد نے اپنا نام پیش کر کے ہر ماہ ایک مخصوص رقم دینے کا ارادہ درج کرایا۔اور وہ دن ہے اور آج کا دن تقریبا تین سال ہونے کو آرہے ہیں محلے کے ان غریب اور مسکین کنبے میں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ راشن پہنچ رہا ہے۔ اس دوران خدمت کے وہ تمام شعبے جن کا ایک پوسٹر بنواکر مسجد میں چسپاں کر دیا گیا ہے فعال کئے گئے۔
الحمداللہ شہر کے بیس مساجد میں مسجد خدمت قائم ہوکر فعال ہے، ان بیس مساجد کے تحت آنے والے محلے کے لگ بھگ تین سو سے زائد غریب مسکین خاندانوں کو ماہانہ راشن فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے رقم اسی محلے کے مخیر حضرات سے لی جاتی ہے۔ اسی طرح ان مساجد کے تحت آنے والے مریضوں کے علاج کے لئے اور آپریشن کے لئے ایسے ذرائعے مہیا کرائے گئے کہ یا تو خرچ بلکل ہی نہ ہو یا ہو بھی تو بلکل معمولی۔ حکومت کی جانب سے مہیا کردہ سہولتوں کا ان معاملات میں بھر پور استعمال کیا گیا۔ بیسوں مریض آج تک خدمت کمیٹی سے فیض یاب ہوکر صحت مند ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ لاک ڈاؤن سے پہلے مسجدوں میں دل کی بیماریوں اور کینسر جیسے مہلک مرض پر میڈیکل کیمپ بھی رکھے گئے، جس سے بلا تفریق مذہب و ملت عوام کے ایک بڑے طبقے نے فائدہ اُٹھایا۔ برداران وطن نے مسجد کے تحت مسجد کے اندر ایسی خدمات کے انعقاد پر بے حد خوشی کا اظہار کیا۔
اسی طرح آسان شادی کے عنوان پر ایک پیکیج کے تحت جس میں ضروری جہیز کے سامان کے ساتھ کپڑے زیور اور ضیافت بھی شامل ہے بیسیوں شادیاں کرائی گئی۔ اس کے لئے رقم شہر کے متمول احباب سے چندہ کیا گیا۔ گزشتہ سال خدمت خلق کے عنوان پر ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس میں برادران وطن کے کئی این جی اوز بھی شریک ہوئے۔ اس میں مسجد خدمت کمیٹی کا تعارف پیش کر کے اس کے اب تک کے نافذ کئے گئے پروگرامس کی تفصیل پیش کی گئی۔ اس کانفرنس سے بردران وطن کو بھی خطاب کا موقع دیا گیا۔
وقتا فوقتا الیکشن آئی ڈی کارڈ، راشن کارڈ وغیرہ دستاویزات میں ترمیم، حذف و اضافہ کے لئے مسجدوں میں کیمپ منعقد کئے گئے۔ عوام کو حکومت کی جانب سے مہیا فلاحی اسکیموں کی نہ صرف جانکاری دی گئی بلکہ اس کے حصول میں بھر پور مدد فراہم کی گئی۔ یہ تمام کام مسجدوں میں بیٹھ کر کئے گئے یہی اس کی اصل خوبی ہے اور اس کے لئے کوئی فیس اصول نہیں کی گئی۔
تعلیمی خدمات کے تحت مسجد میں ہی صبح و شام اسکول کے طلباء کے لئے ٹیوشن کا انتظام کیا گیا۔ ایسا نظم کیا گیا کہ طلبا ء ٹیوشن کے ساتھ نماز کے بھی عادی بنیں۔ کالج کے طلباء کوفیس کے لئے اسپانسر س مہیا کراکے اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کرنے میں بھی ان کی مدد کی جارہی ہے۔
قدرتی آفات میں بھی مسجد خدمت کمیٹی کے تحت امداد پہنچایا گیا۔ کیرلا کے سیلاب میں ہمارے کارکنان خود وہاں پہنچ کر متاثرین کی، اناج اور کپڑوں کے ذریعے مدد کی۔ حالیہ لاک ڈاؤن میں جب کہ دنیا کا تما م کاروبار یکدم ٹھپ ہوگیا، مسجد خدمت کمیٹی فعال رہی۔ ہر ماہ بغیر ناغہ کے ماہانہ راشن غرباء کو برابر پہنچتا رہا۔ صرف یہی نہیں لاک ڈاؤن کے پہلے دور میں متاثرہ دو ہزار سے زائد خاندانوں کو ان میں موجود افراد کے حساب سے بلا تفریق مذہب راشن کٹ مہیا کیا گیا۔کرونا سے متاثر ہوکر انتقال ہونے والوں کی تدفین میں بھی مسجد خدمت کمیٹی کے اراکین شریک رہے اور تدفین میں مدد کی۔
شہر میں معمر غریب اور بے گھر افراد کی بے کسی دیکھ کر ان کے لئے ایک اولڈ ایج ہوم بھی قائم کیا گیا ہے۔ مسجد خدمت کمیٹی کی راست نگرانی میں قائم یہ ادارہ شہر میں خدمت کے ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔
ان تمام افعال کے انجام دہی کے لئے ہفتے میں ایک دن ہفتہ واری مشورہ منعقد ہوتا ہے۔ جس میں تمام ممبر مسجدوں کے ذمہ دار اور فعال کارکن شریک ہوکر کارگزاری پیش کرتے ہیں اوراگلے کاروائیوں کے لئے منصوبے بناتے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں بھی یہ مشورہ ’زوم‘ پر جاری رہا جس کی وجہ سے کام میں بہت سہولت ہوئی۔
مسجد خدمت کمیٹی کے جو اصول و ضوابط ہیں اس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ مسجد کے متولی اور امام صاحبان کو بڑی اہمیت دیتی ہے۔ کسی بھی مسجد میں خدمت کمیٹی قائم کرنے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہاں کے متولی اور ذمہ دار اس سے متفق ہوں۔ امام صاحب چونکہ محلے کے لوگوں سے راست رابطے میں رہتے ہیں اس لئے ان کی سرپرستی کو بھی اہم مانا گیا ہے۔ چونکہ اکثر خدمات مسجد کے اندر انجام پاتے ہیں اس لئے اس میں فرد واحد کی نہیں جماعت کا نام شہرت پاتا ہے۔
موجودہ دور مسلمانوں کے تعلق سے منفی پروپگنڈے کا دور ہے، ایسے میں خدمت ہی ایک ایسا واحد ذریعہ جس کے تحت ہم برادرانِ وطن کے دلوں میں ہمارے تعلق سے پیدا کئے گئے شکوک و شبہات مٹا سکتے ہیں۔ خاص کر اگر یہ خدمت مسجد سے ہو تو اس سے بہتر بات اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ نہ صرف یہ ایک بھولے ہوئے سنت کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا بلکہ خیر امت کا جو لقب ہمیں عطا کیا گیا ہے اس کا ایک عملی نمونہ بھی ہوگا۔
شہرکے ان تمام مسجدوں کے ذمہ دار!جہاں ابھی تک مسجد خدمت کمیٹی کا قیام نہیں ہوا ہے، وہ اپنی مسجدوں میں اس سنت کی زندہ کریں۔ اپنے محلوں میں جو غریب اور مسکین ہیں، جو ضرورت مند ہیں ان کی خبر گیری کرنا آ پ کا اخلاقی فرض ہے۔ اگر آپ کے اس عمل سے کوئی بھوکا پیٹ بھر کھانے کھالیں، کوئی تعلیم کے اعلیٰ مدارج طے کرلیں، کوئی مریض شفا پا لیں تو یقین رکھئیے ان شاء اللہ یہ آپ کے لئے مغفرت کا پروانہ ثابت ہوسکتا ہے۔

You might also like