Baseerat Online News Portal

جے این میڈیکل کالج کے کارڈیالوجی شعبہ کی ورکشاپ میں 6؍مریضوں کی اینجیو پلاسٹی کی گئی

علی گڑھ، 22؍جنوری: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کارڈیالوجی شعبہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک طبی ورکشاپ میں 6؍غریب مریضوں کوبہت ہی کم قابلِ قیمیت میں اِسٹینٹ لگائے گئے۔
صدر شعبہ پروفیسر ایم یو ربانی نے بتایا کہ پیچیدہ اسٹینٹنگ پروسیجر کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس ورکشاپ میں کارڈیوویسکولر مرض میں مبتلا 6؍مریضوں کو اِسٹینٹ لگائے گئے، جس میں ایک مریض پر الگ طرح کی تکنیک کا استعمال کیا گیا جس میں کورونیری آرٹری میں خصوصی کیتھیٹر کے ذریعہ آرٹری والس کی صفائی کی گئی اور اِسٹینٹ لگائے گئے۔
پروفیسر ربانی کے مطابق ان مریضوں کی کورونیری آرٹری کافی دنوں سے بلاک تھی اور کافی مقدار میں کیلشیئم جمع تھی۔ آئی وی یو ایس اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (او سی ٹی) تکنیکوں کا استعمال کرکے ان مریضوں کی اینجیوپلاسٹی کی گئی اور انھیں اِسٹینٹ لگائے گئے۔ انھوں نے کہاکہ اینجیوپلاسٹی کا عمل پیچیدہ اور کافی مہنگا ہوتا ہے مگر جے این میڈیکل کالج میں سبھی 6؍مریضوں کی اینجیو پلاسٹی قابلِ قیمیت میں کی گئی۔
پروفیسر ربانی نے کہاکہ جے این میڈیکل کالج ملک کے چنندہ طبی مراکز میں سے ایک ہے جہاں کووِڈ 19 کی پابندیوں کے باوجود سبھی احتیاطی اقدامات کو اپناتے ہوئے ضرورتمند مریضوں کے آپریشن کئے گئے۔ انھوں نے کہاکہ اس دوران جے این میڈیکل کالج کا کیتھ لیب پوری طرح کام کرتا رہا اور لاک ڈاؤن کے دوران قلب کے مریضوں کو ٹیلی کنسلٹینسی خدمات فراہم کی جاتی رہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مارچ 2020 ء سے کیتھ لیب میں مجموعی طور سے 900؍ مریضوں کے آپریشن کئے گئے۔
ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر وویکا کمار (ڈائرکٹر، انٹروینشنل کارڈیالوجی، میکس ساکیت ہاسپٹل، نئی دہلی) نے اپنی خدمات فراہم کیں، جب کہ بوسٹن سائنٹفک، امریکہ اور میڈٹرانکس، امریکہ نے تکنیکی تعاون فراہم کیا۔ اس موقع پر پروفیسر آصف حسن، پروفیسر ایم ایم اظہرالدین اور ڈاکٹر ایم رفیع انور نے اِسٹینٹ کے طریقہ کار اور اس کے مقصد پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ کس طرح اِسٹینٹ دل کی شریانوں کو بند ہونے سے روکتا ہے۔

You might also like