Baseerat Online News Portal

جدید تعلیمی پالیسی اور مسلمانوں کے لئے راہ عمل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
ترجمان وسکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ
جدید تعلیمی پالیسی کی تفصیلات اخبارات اور سوشل میڈیا میں آچکی ہیں، امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ نے بہت اچھا قدم اٹھایا کہ اس کا اردو ترجمہ کرا دیا، اس طرح اردو خواں حضرات کے لئے بھی اس پالیسی کے خدوخال کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے، اس پالیسی میں بعض مثبت پہلو بھی ہیں، جو قابل تحسین ہیں اور حکومت بار بار اس سلسلہ میں بیانات دے رہی ہے، اس وقت ان کے تذکرہ کی ضرورت نہیں؛ کیوں کہ ایسی باتوں کو حکومت خود مبالغہ کے ساتھ پیش کرتی رہتی ہے، پالیسی میں منفی پہلو بھی کچھ کم نہیں ہیں؛ مگر ان کو خوبصورت الفاظ کے پیرہن میں چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ اس حکومت کا کمال ہے کہ وہ تریاق کا لیبل لگا کر زہر دینے کا فن جانتی ہے، اس سلسلہ میں دو باتیں بہت اہم ہیں: ایک یہ کہ جیسے زرعی قوانین کے ذریعہ پیداوار پر بڑے تاجروں کا قبضہ ہو جائے گا، اسی طرح تعلیم جیسی اہم ضرورت کارپوریٹ سیکٹر کے حوالہ ہو جائے گی اور گراں سے گراں تر ہوتی چلی جائے گی، مالدار اور اونچی ذات کے لوگ اپنے بچوں کو پڑھا سکیں گے، غریب اور نیچی ذات کے لوگوں کے لئے جہالت اور جہالت کی وجہ سے غربت مقدر ہوگی۔
دوسرا نقصان مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو ہوگا، اس پالیسی میں بار بار راشٹرواد، بھارتیت اور نیشنل کلچر کی بات کہی گئی ہے، اور ان کو درسی مضامین اور غیر درسی پروگراموں کے ذریعہ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، نام تو قومی تہذیب کا لیا جا رہا ہے؛ لیکن وحدت میں کثرت کے بجائے ہندو آئیڈیالوجی اور تہذیب لوگوں پر مسلط کرنے کی تدبیر کی جا رہی ہے، راشٹرواد کے تحت بچوں کو گیتا میں سے اسباق پڑھائے جائیں گے، ہندو دیویوں دیوتاؤں کی دیومالائی کہانیاں پڑھائی جائیں گی، حفظان صحت کے نام پر یوگا کرایا جائے گا، اور اس میں سوریہ نمسکار بھی شامل ہوگا، وندے ماترم کا مشرکانہ ترانہ پڑھایا جائے گا، عجب نہیں کہ جبر کے ذریعہ نہ سہی ترغیب کے ذریعہ اُن سے سرسوتی وندنا بھی کرائی جائے، اور اسکول میں ہندو تہواروں کی تقریبات منعقد ہوں، جن میں تمام طلبہ وطالبات کو شرکت کرنے کو کہا جائے، اسی طرح اس کا نقصان لسانی اقلیتوں کو بھی ہوگا، یوں تو پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے؛ لیکن سنسکرت کو لازمی زبان کی حیثیت دینے کی بات بھی آئی ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ بعض لسانی اقلیتیں اپنی مادری زبان سے محروم ہو جائیں گی۔
اس پس منظر میں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اس پالیسی کے نفاذ کے بعد کیا طریقۂ کار اختیار کرنا چاہئے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ میں تین باتیں اہم ہیں: اول دینی تعلیم، دوسرے: فکری واخلاقی تربیت، تیسرے: اپنی زبان کا تحفظ۔
دینی تعلیم سے مراد عصری درسگاہوں میں زیر تعلیم بچوں اور بچیوں کے لئے دینی تعلیم کا نظم ہے، بہتر ہے کہ یہ مکاتب کے ذریعہ ہوں، یعنی فجر بعد یا عصر بعد روزانہ ایک گھنٹہ بچوں کو دینی تعلیم دی جائے، ہمارے بیشتر مکاتب کی تعلیم نورانی قاعدہ سے شروع ہوتی ہے اور چند پاروں کے ناظرہ ، کچھ دعاؤں، نماز کے اذکار اور چند چھوٹی چھوٹی سورتوں پر مکمل ہو جاتی ہے، اگر زیادہ توجہ دی گئی تو چند سنتیں اور چھوٹی سورتیں یاد کرا دی جاتی ہیں، بچے سالہا سال یہی پڑھتے رہتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ دس سال کا ایک ایسا نصاب ہو، جس میں طلبہ مکمل ناظرۂ قرآن مع تجوید، ایک پارہ حفظ ، روز مرہ کی دعائیں، ضروری دینی مسائل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، خلافت راشدہ کی تاریخ اور اردو لکھائی پڑھائی سیکھ لیں،خوشی کی بات ہے کہ بعض اداروں نے دینیات کا ایک دس سالہ جامع اور مکمل نصاب مرتب کیا ہے، یا تو اسی کو پڑھایا جائے، یا مختلف حلقے ان مضامین کو شامل کرتے ہوئے اپنا کوئی نصاب بنائیں۔
مکتب کی تعلیم کے لئے بہترین مرکز مسجدیں ہیں، جو عہد نبوی ہی سے تعلیم وتربیت کا مرکز رہی ہیں، اگر مسلم مینجمنٹ تعلیمی ادارہ ہو تو وہاں اسکول میں بھی تعلیم ختم ہونے کے بعد مکتب کی تعلیم دی جا سکتی ہے، اس کی دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں، یہ بھی کہ اسکول خود مکتب کا نظام قائم کرے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے ملی ادارے وہاں مکتب کا نظام چلائیں، اور اسکول گھنتہ دو گھنٹہ کے لئے ان کو اپنی بلڈنگ سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دیں۔
بعض جگہ تعلیمی اوقات اس طرح ہوتے ہیں کہ مکتب کی تعلیم کے لئے وقت نہیں بچتا، ایسی صورت میں ہفتہ وار مکتب اتوار کے دن چلایا جا سکتا ہے، اگر ایک دن چھ گھنٹہ تعلیم دی گئی تو گویا روزانہ ایک گھنٹہ کی تعلیم دی گئی، راقم الحروف نے مغربی ملکوں میں ایسے ہفتہ وار مکاتب کا خود مشاہدہ کیا ہے، جہاں ہفتہ اتوار دو دنوں مکتب کا نظام چلتا ہے، اور طلبہ وطالبات پر ان کے بہت بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مکتب کے نظام کو پُر کشش بنانے کی بھی ضرورت ہے، کتابیں کلر میں چھپی ہوئی ہوں، بلیک بورڈ کا اور حسب سہولت ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کیا جائے، بچوں کا یونیفارم ہو، ماہانہ سہ ماہی مقابلے رکھے جائیں، گاہے گاہے تفریح کا نظم ہو، جہاں گنجائش ہو، وہاں اسپورٹ کا بھی نظم رکھا جائے، ان میں سے بعض سہولتیں ہفتہ وار مکتب میں مہیا کی جا سکتی ہیں اور بعض ہر مکتب میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو زدوکوب نہ کیا جائے، اور مار کی بجائے پیار سے پڑھایا جائے، اس تأثر کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ دینی مدارس میں مار پیٹ کو طریقۂ تعلیم کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، بہر حال نظام مکاتب کو مضبوط بنانے اور ہر طالب اور طالبہ کو اس سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
دوسری ضرورت اخلاقی وفکری تربیت کی ہے، اس میں اساتذہ اور والدین دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، بالخصوص مائیں اس میں اہم رول ادا کر سکتی ہیں، اخلاقی تربیت سے ایسی تربیت مراد ہے کہ حسنِ اخلاق بچوں کے مزاج میں شامل ہو جائے، وہ ان کی فطرت کا حصہ بن جائے، یہ نہ ہو کہ صرف اساتذہ کی لاٹھی اور والدین کے تھپڑ کے خوف سے ظاہری طور پر وہ اپنے اخلاق کو بہتر رکھیں اس کے لئے ضرورت ہے عمر اور مزاج کے لحاظ سے بچوں کو سمجھانے اور انہیں ایسی کتاب پڑھانے کی، جن میں اخلاقی واقعات ہوں، بحمداللہ اردو زبان میں ایسی بہت سی کتابیں موجود ہیں، اس سلسلہ میں خاص طور پر حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ (جمعیۃ علماء ہند) کی ’’دینی تعلیم کا رسالہ‘‘ اور جناب افضل حسین صاحبؒ (جماعت اسلامی ہند) کی کتابیں بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
تربیت کا دوسرا پہلو ہے: فکری تربیت، موجودہ حالات میں یہ بہت ضروری ہے، اور ہمارے یہاں اس کی بہت کمی ہے، فکری تربیت میں اسلامی عقائد اور اسلامی شریعت کی عقل وفطرت سے ہم آہنگی اور ان کی حکمت ومصلحت کی تفہیم شامل ہے، نیز ضروری ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ خصوصاََ ہندوستان کا مسلم عہد حکومت بچوں کو اس طرح پڑھایا جائے کہ مسلمانوں کے بارے میں پیدا کی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو سکیں؛ کیوں کہ تعلیم اور میڈیا کے ذریعہ ایک طرف نئی نسل کو شرک سے مانوس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دوسری طرف مسلم تاریخ پر بے جا اعتراضات کے ذریعہ مسلمان بچوں کو احساس کم تری میں مبتلا کیا جا رہا ہے، اور جب کوئی قوم احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے تو چاہے عددی اعتبار سے وہ کتنی ہی بڑی ہو ،وہ دوسروں کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے اور اپنے وجود کو کھو دیتی ہے، ہندوستان میں برہمنوں کا یہی مزاج رہا ہے، انھوں نے جینیوں کو، بدھسٹوں کو، سکھوں کو، لنگایتوں کو اور مختلف قبائلی گروہوں کو اسی طرح اپنے اندر جذب کر لیا ہے، اور وہ مسلمانوں سے بھی یہی چاہتے ہیں، اخلاقی تربیت کو مکتب کی تعلیم کے ساتھ بھی پورا کیا جا سکتا ہے؛ لیکن فکری تربیت کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے، مثلاََ جہاں مکاتب کا دس سالہ نظام قائم ہو، وہاں آخری دو سال فکری تربیت کے لئے مخصوص کر دئیے جائیں، اور اس مناسبت سے انہیں کتابیں پڑھائی جائیں، اسی طرح کالج اور یونیورسیٹی کے طلبہ وطالبات کے لئے علمی مذاکرات کے پروگرام رکھے جائیں، اور ان میں اسی طرح کے مضامین پر گفتگو کی جائے، نیز ان کے لئے ہندی، انگریزی اور مقامی زبانوں میں ان موضوعات پر مختصر رسائل مرتب کئے جائیں۔
تیسری اہم چیز زبان ہے، اس میں شبہ نہیں کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی زبان میں ایک خاص مذہب کا لٹریچر زیادہ مقدار میں ہو تو اس میں بہتر طور پر اس مذہب کی ترجمانی ہو سکتی ہے، اردو زبان مسلمانوں کے لئے ایسی ہی زبان ہے، یہ زبان ہندوستان کے قدیم باشندوں اور مسلمان فاتحین اور صوفیاء ِواردین کے اشتراک سے پیدا ہوئی ہے، اور مسلمانوں کی آغوش میں اس کی پرورش ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سی اسلامی اصطلاحات اس زبان کا حصہ بن گئی ہیں، جیسے :ماشاء اللہ، سبحان اللہ، السلام علیکم وغیرہ؛ اس لئے اس حقیقت کے اظہار میں لَجانے اور شرمانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اس زبان سے خاص تعلق ہے، جیسے عیسائی بھائیوں کا انگریزی زبان سے ، یہودیوں کا عبرانی سے اور ہندو بھائیوں کا ہندی اور سنسکرت سے ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عربی زبان کے بعد جتنا اسلامی لٹریچر اردو زبان میںہے، کسی اور زبان میں نہیں ہے، اسلامی موضوعات پر بعض ایسی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن کی نظیر عربی زبان میں بھی نہیں تھی، عرب علماء نے ان کو شوق کے ہاتھوں لیا اور اپنی آنکھوں کا سرمہ بنایا، نیز مادری زبان کے فرق کے باوجود پورے ہندوستان میں یہی مسلمانوں کے لئے رابطہ کی زبان ہے، یہاں تک کہ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں میں بھی اردو زبان کے اسکول اور مدرسے قائم ہیں اور جمعہ کے بیانات تو اکثر اردو ہی میں ہوتے ہیں؛ اس لئے اگر اس زبان سے مسلمانوں کا رشتہ ٹوٹ جائے تو مسلمان اپنے بہت بڑے علمی ورثہ سے محروم ہو جائیں گے۔
نئی تعلیمی پالیسی میں اگرچہ یہ بات کہی گئی ہے کہ مادری زبان میں تعلیم دی جائے گی؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ بین الاقوامی رابطہ کی زبان کی حیثیت سے انگریزی زبان کی تعلیم سے تو چارہ ہے ہی نہیں، راشٹر بھاشا کی حیثیت سے ہندی پڑھائی جائے گی، اور اس پالیسی میں سنسکرت کو بھی ایک لازمی زبان کا درجہ دینے کی بات کہی گئی ہے، تو اب سہ لسانی فارمولہ میں اردو کے لئے کوئی جگہ ہی کہاں رہ پائے گی؟ تعصب اور تنگ نظری کا حال یہ ہے کہ غیر ملکی زبان کی حیثیت سے چینی اور جاپانی زبان کو تو اہمیت دی گئی، فارسی کو بھی شامل رکھا گیا ہے؛ لیکن عربی زبان کو اس فہرست سے باہر کر دیا گیا ہے؛ حالاں کہ ہندوستانی ہنر مندوں کی بڑی تعداد عالم عرب میں کام کرتی ہے، اور عرب ملکوں سے ہمارے قریبی روابط رہے ہیں، ظاہر ہے یہ اردو کو ختم کرنے کی ایک واضح سازش ہے، ہمیں اس سلسلہ میں احتجاج بھی کرنا چاہئے، اور سیاسی سطح پر کوشش بھی ہونی چاہئے؛ لیکن ہمیں اپنی زبان کی آپ حفاظت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے، اس سلسلہ میں یہود بہترین مثال ہیں، جنھوں نے ہزاروں سال غلامی ومحکومی کی زندگی گزارنے کے باوجود اپنی زبان کی حفاظت کی، اور جب ۱۹۴۸ء میں اسرائیل وجود میں آیا تو عبرانی زبان کو ملک کی سرکاری زبان قرار دیا۔
اس کے لئے اپنے طور پر کچھ ٹھوس تدبیریں کرنی ہوں گی، جہاں ممکن ہو، وہاں اردو میڈیم اسکول قائم کئے جائیں، جہاں یہ ممکن نہیں ہو، وہاں انگلش میڈیم تعلیمی اداروں میں ایک اختیاری زبان کی حیثیت سے اردو کا انتخاب کیا جائے، گھر پر بھی بچوں کو اردو سکھائی جائے، ہم لوگوں کی بول چال کی زبان اردو ہے؛ اس لئے بچوں کو اردو سکھانا دشوار نہیں، حروف شناسی کرا دی جائے اور تھوڑی محنت ہو توکافی ہو جائے گی، گھر کے اندر اردو میں بات چیت کا ماحول بنایا جائے، افسوس کہ آج جدید تعلیم یافتہ نوجوان اردو زبان سے واقف ہونے کے باوجود انگریزی میں بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، اردو اخبارات خریدنے اور پڑھنے کی عادت ڈالی جائے، بچوں کے لئے اردو رسائل خریدے اور گھر میں رکھے جائیں، آپسی خط وکتابت اور موبائل پر پیغام کی ترسیل اردو میں کی جائے، دفاتر اور دوکانوں کے سائن بورڈ اور مکانات کی تختیوں میں اردو کو شامل رکھا جائے، اردو زبان میں بچوں اور بچیوں کے لئے انعامی پروگرام رکھے جائیں، جہاں تک ممکن ہو اداروں میں اور ذاتی ضرورتوں میں اردو کا استعمال کیا جائے، غرض کہ اپنے طور پر اپنی زبان کو زندہ رکھنا ہوگا، اور یہ مشکل نہیں، افسوس کہ مسلمان احساس کمتری میں مبتلا ہیں؛ ورنہ اس زبان کی لطافت کا اعتراف تو غیر مسلم بھائیوں نے بھی کیا ہے۔
غرض کہ بنیادی دینی تعلیم، اخلاقی وفکری تربیت اور اردو زبان کی حفاظت کے ذریعہ ہی مسلمان اپنی آئندہ نسل کو بچا سکتے ہیں، مسلمانوں کو ان قوموں کا ریکارڈ اپنی نظر میں رکھنا چاہئے ، جن کے وجود کو بڑی چالبازی کے ساتھ تحلیل کر دیا گیا؛ اس لئے ضرورت ہے استقامت، جدوجہد اور زمانہ آگہی کی!
(بصیرت فیچرس)

You might also like