Baseerat Online News Portal

پاکستان: ایک نوجوان نے پینسٹھ سالہ قادیانی کو قتل کر دیا

آن لائن نیوزڈیسک
ایک نوجوان نے احمدی برادری(قادیانی) سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ پینسٹھ سالہ مقتول کو پشاور میں جمعرات کو ایک کلینک کے باہر قتل کیا گیا۔
پولیس نے اٹھارہ سالہ ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور اس نے اس قتل کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ ملزم کے مطابق اس قتل کی وجہ مقتول کا عقیدہ تھا۔ گزشتہ برس پشاور ہی کی ایک عدالت میں ذہنی مسائل کے شکار ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کو توہین مذہب کے تناظر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ پاکستان میں احمدی برادری چار ملین نفوس پر مشتمل ہے اور قتل، دھمکیوں، امتیاز اور منفی سماجی رویوں کی شکار ہے۔
احمدی کمیونٹی کے ترجمان سلیم الدین کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صرف پشاور میں ایک سال کے اندر اندر یہ پانچویں احمدی شخص کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے جب ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کو قتل کیا تھا، تب امریکا نے پاکستان سے توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مذہبی نفرت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
احمدی کمیونٹی خود کو اسلام کا پیروکار قرار دیتی ہے لیکن پاکستان میں سن 1974ء میں اس کمیونٹی کو غیرمسلم قرار دے دیا گیا تھا۔ احمدی کمیونٹی کے اعداد و شمار کے مطابق سن 1984ء کے بعد سے 260 سے زائد احمدیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔
سلیم الدین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ نیشنل ایکشن پلان کی ایک شق کے مطابق کسی دوسرے مذہب یا عقیدے کے خلاف نفرت انگیز بیانات پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن حقیقت میں احمدیوں کے خلاف اب بھی کھلے عام بیانات اور پیغامات دیے جاتے ہیں۔‘‘

You might also like