مضامین ومقالات

بہار اسمبلی الیکشن:اویسی کی آمد سے کھلبلی

مظفر احسن رحمانی
بیرسٹر اسدالدین اویسی کی بہار آمد نے یہاں کی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے ،سیمانچل کے لوگوں نے زبردست انداز سے استقبال کرکے یہ ثابت کردیا کہ اسد الدین اویسی ہمارے سیاسی رہنما ہیں،ویسے یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ جب اور جہاں بھی مسلمانوں پر افتاد آئی اس مرد آہن نے کھل کرمسلمانوں کی فریاد رسی کی چاہے وہ اوکھلا کا انکاونٹر ہو ،یااعظم گڑھ ،بہار ،گجرات ،آندھرا پردیش اورہندوستان کے مختلف صوبوں کے بے قصورمسلم نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا مسئلہ ہو ،ہرجگہ پوری مضبوطی کے ساتھ آواز بلند کرکے اس کی مدد کی ہے ، ان کی یہ بے باکی اور جوانمردی نے انہیں مسلمانوں کا ہیرو بنادیا ، لیکن اس وقت بہت ہی سنجیدگی کا ہے ،ہوشیاری کے ساتھ آگے بڑھے بغیر ہم ایک ایسی کھائی میں گر جائیں گے جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ دشوار ہے ،اس وقت بہار میں الیکشن کو بہت کم دن رہ گئے ہیں اور بہار کی دو اہم سیاسی پارٹی راجد اور جدیو نے اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر اس ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کے حفاظت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پورے اتحاد کا ثبوت دیا ہے ،جس کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہیکہ ایک جگہ آگ اور پانی کا اجتماع ہوگیا ہے ،گذشتہ کئی سالوں سے ہردوپارٹی کے ارکان اور ذمہ داران ایک دوسرے کی طرف نظر اٹھاکر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور آج حال یہ ہیکہ دونوں کا ساتھ چولی دامن کا ہے ،کانگریس کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں انضمام نہیں کرے گی لیکن حالات کی نزاکت اور فسطائی طاقتوں کی منہ زوری نے اسے بھی مضبوط اتحاد کے لئے مجبور کردیا اور سیٹوں کی تقسیم میں 40/سیٹوں پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ،اس پس منظر میں ہمیں بھی ہوشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ،وقت پوری برق رفتاری کے ساتھ الیکشن کے دنوں کو چھونے کو بیتاب ہے ،گنتی کے دن رہ گئے ہیں اور مداریوں کی ٹولی دام فریب میں لانے کیلئے چال کی رفتار کو تیز سے تیز تر کرنے کی کوشس میں سرگرداں ہیں ،وعدوں کی گویا طوفان ہو بہار کے لوگوں کو سونے کی چڑیا ملنے کی امید نے بیتاب کردیا ہے ،ایسے نازک موقعہ پر پوری دانشمندی کے ساتھ میدان کارزار میں خود اتارنا ہوگا ،کہیں ایسا نہ ہو کہ جذباتی بہاو خس وخاشاک کی طرح آپ کی حیثیت کو بہالے جائے ،بیرسٹر اسد الدین اویسی سلیم الفطرت ہونے کے ساتھ عقل وخرد کے اعتبار سے ایک باشعورانسان سیاسی میدان کے ایسے شہسوار ہیں جو چالوں کو خوب سمجھتے ہیں ،انہوں نے بہار آکر یہاں کی سیاسی زمیں ناپنا چاہا ہے اور یہ حق ہر کسی کو حاصل ہے ،اب دیکھنا ہے کہ سیاسی بازیگروں کی چاپلوسی کے جھانسے میں آکر اسدالدین اویسی اپناکیا رخ طے کرتے ہیں ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت پورا ملک زعفرانی رنگ میں رنگا ہوا ہے ،ہرشخص اس ہاتھ کو سہارا دینا چاہتا ہے ،جس کی انگلیاں بے گناہوں کے خون سے آلودہ ہیں ،نگاہوں سے آج بھی سرخیاں ٹپک رہی ہیں ،پیشا نیوں کی لکیریں دوشیزاوں کے عصمتوں کے تارتار ہونے کی گواہی دے رہی ہیں ،ہرزبان بس ایک ہی بات بولتی ہے مظلوموں پر اتنا ظلم کرو کہ لفظ ظلم شرمسار ہو جائے ،یہ جھوٹ ہے کہ فلاں سیکولر ہے ،جمہوریت نواز اور مظلوموں کا مسیحا ہے ،مسلمانوں سے محبت کرنے والا ہے ،داد رسی کے لئے کمر بستہ پے ، جس کو جب موقعہ ملا اس نے اسی طرح ہندی مسلمانوں پر ظلم کیا ،کسی نے تالا لگوایا ،کسی نے تالا کھلوایا ،کسی نے مورتی رکھوائی ،کسی نے پو جا کروایا ،اور کسی کی نگاہ ابرو نے شہید کروایا ، کسی نے بھاگل پور جلایا ،کسی نے مرادآباد کی عیدگاہ کو خون سے لالہ زار کروایا کسی نے رامپور کی بستیوں کو آگ لگا یا ،کسی نے میرٹھ کی زمین کو خون سے رنگا ،کسی نے ٹرین کی بوگیوں کو آگ کے حوالہ کیا ،کبھی گجرات کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا ،احمد آباد کی گلیوں کو معصوموں کی لاش سے پاٹ دیا گیا ،نوخیز لڑکیوں کو بے آبرو کیا گیا ،ماں کے پیٹ میں پلنے والا بچا بجرنگی کی تلوار سے لہو لہو ہوا ،شاہ کی بادشاہت نے دنیائے انسانیت میں دن کے اجالے میں ظلم کے دیپ جلائے ،مودی نوازوں نے جلتی انسانیت پر قہقہے لگا ئے ،ڈھول تاشا کی آواز پر ظلم ناچتا رہا ،سیکولر نواز تماشائی بنے گھر یالی آنسو بہاتے رہے ،سسکتی آہیں پناہ کے لئے بھٹکتی رہی ،آس و امید کی آہٹ پر کان لگا ئے بیٹھی رہی ،لیکن داد رسی اور فریاد رسی کے لئے کوئی ہاتھ آگے نہیں بڑھا،پورا ہندوستان میٹھی نیند کی آغوش میں سوتا رہا ،صبح کی کرنوں کے ساتھ ہی میڈیا ایسے سیکولر رہنماوں کی قدم بوسی کے لئے دیکھا جاتا ،کون سیکولر ؟کیسا سیکولر ؟ہمدری ‘کیسی ہمدردی؟اپنا’کیسا اپنا ؟ آپ کا ‘کیسا آپ کا ؟یہ باتیں صرف بولنے کے حد تک اچھی لگتی ہیں ،حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے ،یہ باتیں جھوٹی ہیں ،بولنے میں بھلی معلوم ہوتی ہیں ،بہار کا الیکشن بہت قریب ہے ،کانگریس ،راجد اور جدیو ایک ساتھ مل کر فسطائی طاقتوں اور مودی لہر کے پنجوں کو مروڑنا چاہتے ہیں ،لیکن یہ سب ایک خواب ہے ،خواب بھی ایسا کہ کھلی آنکھوں دن میں دیکھا گیا ہو ،ایسی دوچار اور سیکولر کہلانے والی پارٹیاں آجائیں لیکن کسی میں دم نہیں ہے کہ طوفان بلاخیز کی بڑھتی دھاروں کو روک لے ،ظالموں کی تندو تیز ہواوں کو لگام دے ،آج سب ایک راگ اور بول بولنے کا عادی ہوگیا کہ ہم ہندوستان کو ہندو راشٹر بناکر دم لیں گے ،مسجدوں سے اذان کی جگہ گھنٹیاں بجائی جائے ،مصلی کی جگہ مورتیاں ،قرآن کی جگہ رامائن اور وید پڑھائے جائیں ،یہاں نہ اب کوئی برہمن رہا نہ ہی یادو ۔ خدا کرے مضبوط اتحاد برسراقتدار ہوکر سیکولر اور جمہوریت کی لاج رکھنے میں کامیاب ہوجائے۔
دوسری طرف مدھوبنی پارلیمانی حلقہ سے نہایت ہی مقبول اور قد آور سیاسی رہنما عبدالباری صدیقی کو نمائندگی دی گئی ،یہ حلقہ مسلمانوں اور یادوں کا مانا جاتاہے ،لیکن جیت کس کی ہوئی ،ایک یادو کی جو بی جے پی کی نمائندگی کررہے تھے ، بھول جائیں اب کوئی سیکولر رہ گیا ہے ،یا کوئی آپ کا خیر خواہ ہے ،سب اپنی مریادا اور کرسی بچانے کے فراق میں ہے ،رام ولاس پاسوان کو کون نہیں جانتا مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اس وقت انہوں نے استعفی پیش کیا جب گجرات میں ننگا ناچ ہورہا تھا ،لیکن اسی چہرے کو لوگوں نے خون سے لال سینے سے سینہ ملاتے ہوئے دیکھا ،عہدوں کے لئے ضمیروں کا سودا ہوتا ہے ،کرسیاں خریدی جاتی ہیں ،ظالموں کا ہاتھ پکڑا جاتا ہے ،خدا سلامت رکھے مسلم قیادت کو جو معمولی عہدے کے لئے تلووں کو چاٹنے کے عادی ہوگئے ہیں ،روز ہی چوکھٹوں پر سجدے کرتے پائے جاتے ہیں ،دسترخوان کو اٹھانا جھاڑنا حضور صاحب سلامت کہنا اس کی فطرت ہوگئی ہے ،چند سکوں کے بدلے دوزانو ہوکر بیٹھنا جس کی عادت ہوگئی ہے ،ایسی مسلم قیادت اف توبہ ،جسے یہ بھی شعور نہیں ہے کہ سیادت وقیادت کا مفہوم کیا ہے ،اس نے چاپلوسی سیکھی ہے ،خوشامد کرکے کیسے عہدے لئے جاسکتے ہیں یہ سیکھا ہے ،آج نہ ہی مسلمانوں کی کوئی ایسی تنظیم ہے جو صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دے اور نہ ہی عام مسلمانوں میں اس کا تعارف ہے ،آر ،ایس،ایس،کو بچہ بچہ جانتا ہے اس کے نمائندے ملک کے ہر بڑے چھوٹے گاوں میں مل جائنگے،اس کی درسگاہیں موجود ہیں ،لیکن کون گاوں دیہات کا پڑھا لکھا یاناخواندہ جمعیت علماء ہند ،مسلم پرسنل لا بورڈ ملی کونسل یا دوسرے اداروں کو جانتا ہے ،یا ان تنظیموں کے چھوٹے بڑے ادارے پائے جاتے ہیں ،ان کے پاس نہ ہی نمائندے ہیں اور نہ ہی نمائندگی ، ابھی حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نے بورڈ کو ملک کے تمام مسجدوں کے آئمہ سے جوڑنے کی پہل کی ہے ،جو بورڈ کو گاوں سے متعارف کرانے کا ذریعہ ہوسکتا ہے ،دیر سے ہی صحیح پہل اچھی ہے ،اس لئے یہ بات کہنا کہ اویسی اگر بہار سے اپنے نمائندے کو امیدوار بناتے ہیں تو بی جے پی کو فائدہ ہوگا اور ہاں ہوبھی سکتا ہے ،لیکن اگر اسدالدین اویسی صاحب بہار الیکشن میں نمائندگی سے دستبردار ہوجائیں تو بی جے پی نہیں جیتے گی؟ ،ایں خیال است وجنوں است وجنوں اگر بہار کے لوگوں میں ذرہ برابر بھی احسان شناسائی ہوگی تو موجودا وزیراعلی نتیش بابو کو دوبارہ اس عہدے تک لانے کی سعی کریں گے ،جن کی انتھک کوششوںسے بہاری اپنے آپ کو بہاری کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے ،اگرچہ کہ 2460/مدرسوں کے اساتذہ کی تنخواہیں ان پر قرض ہے ،اور ٹی ای ٹی میں کامیاب طلبہ کی بحالی باقی ہے ،لیکن بہت سے ایسے کام ان کے ہیں جو بہار کے لوگوں کے لئے سرمایہ افتخار ہے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker