نوائے خلق

ماں

گلاب جیسی خوشبو،چودھویں کے چاند جیسی چاندنی،فرشتوں جیسی معصومیت،سچاء کا پیکر لازوال، محبت، شفقت،تڑپ،ایثاروقربانی جب یہ تمام الفاظ یکجا ہو جائے تو بن جاتا ہے تین حرفوں کا لفظ”ماں”ماں جسکے قدموں تلے جنت ہے ماں سے بڑھکر اس دنیا میں کوء چیز نہیں.جب ماں کو اللہ تعالی نے بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ چاند کی ٹھنڈک،شبنم کے آنسو،بلبل کے نغمے،گلاب کے رنگ،پھول کی چمک،کوئل کی کوک،سمندر کی گہرائ،دریاوں کی روانی،موجوں کا جوش،کہکشاں کی رنگینی،چاند کی چمک، صبح کا نور اور آفتاب کی روشنی کو جمع کیا جائے تا کہ ماں کی تخلیق کی جائے.جب ماں کو اللہ نے بنایا تو فرشتوں نے پوچھا اے مالک دو جہاں تو نے اسمیں اپنی طرف سے کیا شامل کیا تو رب ذوالجلال نے کہا “محبت”.ماں… یہ لفظ جبہماری زبان سے نکلتا ہے تو ساری تلخیاں مٹ جاتی ہیں.دنیا میں میں سب سے حقیقی پیار اور شفقت ماں کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے. ماں بے سہاروں کا سہارا ہے. کمزور زندگی کی قوت ہے. محبت اور ہمدردی کا سنگم ہے.اس روئے زمین کے اوپر سب سے بڑا درجہ اگر کسی کا ہے تو وہ ماں کا ہے. اسلئے باپ سے پہلے ہمیشہ ماں کا لفظ آتا ہے اس کی سب سیبڑی شہادت ہمیں اللہ کے رسول کی اس حدیث سے ملتی ہے جسمیں ایک صحابی رسول اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حقدار میرے حسن سلوک کا کون شخص ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے یہ بات تین بار دہراتے ہوئے کہا کہ”تیری ماں اور چوتھی مرتبہ کہا کہ تیرا باپ”. اسلئے آپ نے کبھی ایسا نہیں سنا ہوگا کہ باپ ماں کی خدمت کرو بلکہ یوں سنا اور پڑھا ہوگا کہ ماں باپ کی خدمت کرو. ماں ہمیں جنم دیتی ہے. ہمارے لئے رات بھر جاگتی ہیں. جب ہم روتے ہیں تو ہمیں لوریاں سنا کر چپ کرا تی ہیں. بچپن سے لیکر پچپن تک ہمیں سنبھالتی ہے. ہمیں اچھی باتیں سکھاتی ہیں.اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے.بو علی سینا نے کہا:”زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال تب دیکھی جب ہمارے سامنے چار سیب تہے اور ہم ماں سمیت پانچ تہے،تو ماں نے کہا کہ مجہیسیب پسند نہی”. غریبی میں بھی ماں تین چار بچے پال لیتی ہے مگر تین چار بچے سے ایک ماں نہیں پالی جاتی.حضرت علی کا قول ہے: اپنی زبان کی تیزی کو اس ماں پر مت چلاؤ جس نے تمہیں بولنا سکھایا. بوڑھے ماں باپ بچوں کی طرح ہوتے ہیں ان کا ہمیں اسی طرح محبت سے خیال رکھناچاہئے جس طرح وہ ہمارے بچپن میںہمارا خیال رکھتی تھی آج جدید سائنسی تحقیق نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ماں کی آواز دباؤ سے نجات دیتی ہے. چاہے وہ فون پر ہی کیوں نہ بات کر رہی ہو.یا اللہ!میری ماں کا سایہ تا حیات میرے وجود کو اسی طرح روشن کرتا رہے جس طرح تو اپنی رحمتوں کے سائے سے اس دنیا جہاں کو روشن کئے ہوا ہے…(آمین)
شرف الدین عبدالرحمن
تیلیاپوکھر،کپلیشور، مدھوبنی بہار
موبائل:7352623849

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker