Baseerat Online News Portal

کوروناویکسین امدادی فنڈ: جی سیون کے اجلاس میں اربوں ڈالرکے عطیے کے وعدے

آن لائن نیوزڈیسک
دنیا کی نصف سے ذرا کم معیشتوں پر کنٹرول رکھنے والے گروپ آف سیون کے رکن ممالک کے لیڈروں نے جمعہ کے روز کووڈ 19 وبا سے آگے کی صورت حال پر نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے آزاد تجارت اور چین کی منڈیوں سے بالا تر پالیسیوں کا مقابلہ کر کے تنزلی کا شکار معیشتوں کی بحالی پربات چیت کی۔
امریکی صدر جو بائیڈن اور اٹلی کے وزیر اعظم ماریو ڈراگی نے اپنے عہدے سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی عالمی اجلاس سے خطاب کیا ہے۔ اس اجلاس کی میزبانی برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانس نے کی۔
عالمی لیڈروں نے مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کیلئے مضبوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا، جس میں صحت سے متعلق ایک عالمی معاہدہ شامل ہے۔ ماحول کے تحفظ اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی روک تھام پر بھی بات ہوئی۔ جمعہ کے روز امریکہ نے پیرس معاہدے میں واپس اپنی شمولیت اختیار کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
اجلاس کے آغاز پر بورس جانسن نے کہا کہ عالمی وبا پر قابو پانے کے بعد ہمیں ملازمتوں میں اضافے اور معاشی ترقی تیز کرنے کی ضرورت ہو گی۔
سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جی سیون گروپ آزاد معیشتوں کی حمایت کرے گا، اور باہمی اعتماد پر مبنی ڈیٹا کے لین دین سمیت جدیدترین ، آزاد اور شفاف ضوابط کی بنیاد پر کثیر ملکی تجارتی نظام کیلئے کام کرے گا۔
جمعہ کے روز ایک فرانسیسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فیس بک کی جانب سے آسٹریلیا میں نیوز فیڈز پر بندش کے بعد، فرانس کے صدر ایمینوئل میکراں نے یہ معاملہ اٹھایا کہ آزادی اظہار کے تحفظ کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا کیاکردار ہونا چاہئیے اور کیسے ان پر قابو رکھا جائے۔
جی سیون کے لیڈروں نے اس موسمِ گرما اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کے انعقاد کیلئے جاپان کے عزم کو سراہا۔
چین کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے جی سیون رہنماوں کا کہنا تھا کہ وہ منڈیوں سےبالاتر پالیسیوں اور پیروی سے نمٹنے کے بارے میں ایک دوسرے سے مشاورت کے بعد ، مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے۔
جی سیون رہنماوں کا لب و لہجہ واضح طور پر اشتراکی اور اجتماعی تھا۔ صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی کے بجائے دنیا اور عالمی اداروں سے دوبارہ تعاون اور اشتراک کی بات کی۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اجلاس کا آغاز کیا تو جرمن زبان میں کسی کے مائیک سے بلند ہونے والی آواز پر جانسن ہنس دیئے اور انہوں نے جرمن چانسلر اینگلا مرکل سے پوچھا کہ اینگلا کیا آپ ہمیں سن سکتی ہیں۔ اور پھر اسی ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ میرے خیال میں آپ کو اپنا مائیک بند کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا، تو جی سیون رہنماوں نے غریب ممالک کیلئے کروناو وائرس ویکسین کی فراہمی کے پروگرام، کوویکس، میں خطیر رقم عطیے میں دینے کا اعلان کیا۔
گو کہ صدر بائیڈن نے چین کو امریکہ کا سب سے سنجیدہ حریف قرار دیا ہے، تاہم اعلامیہ میں چین کا ذکر صرف ایک مرتبہ کیا گیا ہے۔
بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ہم خیال لبرلز اور آزاد تجارت کی حامی جمہوریتیں میانمار میں ہونے والی بغاوت اور روس کے اپوزیشن رہنما الیکسی نیوالنی کی گرفتاری کی مذمت کرنے میں ایک ساتھ کھڑی ہیں۔
گروپ آف جی سیون کے ارکان میں امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس اٹلی اور کینیڈا شامل ہیں، جن کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار تقریباً چالیس ٹریلین ڈالر ہے، اور یہ ممالک دنیا کی نصف سے ذرا کم معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

You might also like