Baseerat Online News Portal

مودی سرکار کی بھید بھاد والی پالیسیاں مسلمانوں پر نشانہ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مودی سرکار کوکٹگھرے میں کھڑا کیا

نیویارک۔ ۲۰؍فروری: مشہور عالمی حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی جمعہ کو جاری تازہ رپورٹ میںکہا ہے کہ ہندوستان میں حکومتی نظام نے مسلمانوں کے خلاف منظم طریقے سے بھید بھائو کرنے اور حکومت کے ناقدین کو بدنام کرنے والے قوانین اور پالیسیوں کو اپنایا ہے۔ برسراقتدار ہندو راشٹر وادی بی جے پی کی حکومت میں تعصب پسند گروہوں نے پولس اور عدالت جیسی آزاد تنظیموں میں گھس پیٹھ بنالی ہے یہ بے خوف ہوکر اقلیتوں کو دھمکانے، انہیں حیران وپریشان کرنے اور ان پر حملے کرنے کی خاطر قوم پرست گروہوں کو لیس کررہی ہیں۔ ۲۳؍فروری ۲۰۲۱ کو دہلی میں فرقہ وارانہ فساد کو ایک سال پورے ہوگئے ہیں، جس میں ۵۳ افراد مارے گئے تھے، ہلاک شدگان میں ۴۰ مسلم تھے، بی جے پی لیڈران کے ذریعے تشدد بھڑکانے اور حملوں میں پولس افسران کے ملوث ہونے کے الزامات سمیت پورے معاملے کی عالمی اور منصفانہ جانچ کرنے کے بجائے حکومتی نظام نے کارکنان اور احتجاجی مظاہرہ کرنے والے منتظمین کو نشانہ بنایا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں ایک دوسری عوامی تحریک کسانوں کی تحریک پر کارروائی کی ہے، اس نے اقلیتوں ، سکھ مظاہرین کو بدنام کیا ہے اور خالصتان گروہوں کے ساتھ ان کے منسلک ہونے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیاء کی ڈائریکٹر میناکشی گانگولی نے کہاکہ بی جے پی اقلیتوںسے صرف نظراور ہندو اکثریت قبول کرنے کی کوششوں نے سرکاری اداروں کو بھی متاثر کیا ہے ، جو قانون کے ذریعہ بلا امتیاز برابری کے تحفظ کو نظرانداز کررہی ہے۔ حکومت نہ صرف مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ وہ بنیاد پرستوں کو سیاسی تحفظ فراہم کررہی ہے اور ان کی حفاظت کررہی ہے۔ اقلیتوں کے خلاف لائے گئے شہریت قانون کے سبھی مذاہب کے ہندوستانیوں کے ذریعے مہینوں تک چلائے گئے پرامن احتجاج کے بعد فروری ۲۰۲۰ میں دہلی میں منظم حملے ہوئے، بی جے پی لیڈران اور حامیوں نے مظاہرہ کررہے افرادخصوصاً مسلمانوں کے خلاف ملک کے خلاف سازش رچنے کا الزام لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح مختلف مذاہب کے ہزاروں کسانوں کے ذریعے نومبر ۲۰۲۰ میں حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج شروع کیے جانے کے بعد بی جے پی کے سینئر لیڈران، سوشل میڈیا پر ان کے حامی اور حکومت کے زیر اثر میڈیا نے ایک مذہبی اقلیت سکھوں کو بدنام کرنا شروع کردیا، انہوں نے ۱۹۸۰ اور ۹۰ کی دہائی میں پنجاب کے سکھ علاحدگی پسند گروہ کا حوالہ دیتے ہوئے سکھوں پر یہ الزام لگایا کہ ان کا ’خالصتانی‘ ایجنڈہ ہے۔ ۸؍فروری کو وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ میں مختلف پرامن احتجاجوں میں حصہ لینے والے افراد کو ’پرجیوی‘ بتایا اور ملک میں بڑھتی استبدادیت پر بین الاقوامی تنقید کو ’غیر ملکی تباہ کن نظریہ ‘ قرار دیا۔ ہیومن واچ نے اپنی طویل رپورٹ میں بتایا ہے کہ کس طرح ہندوستان میں کووڈ کو ایک مخصوص مذہب سے جوڑا گیا اور پوری مشنری تبلیغی جماعت کے خلاف اسلاموفوبیا کا پروپیگنڈہ کیا۔ کچھ بی جے پی لیڈران نے مرکز نظام میں ہوئے اجتماع کو ’تبلیغی جرائم‘ اور کورونا دہشت گرد بتایا۔ اور حکومت کے زیر اثر ٹیلی ویژن چینلوں اور سوشل میڈیا نے اس پروگرام میں شرکت کرنے والوں اور عام طور پر مسلمانوں کو اس کورونا کے بڑھتی رفتار کا ذمہ دار قرار دیا بلکہ جان بوجھ کر ان پر کورونا کو پھیلانے کا الزام عائد کیاگیا ہے اور تبلیغی جماعت سے منسلک سینکڑوں غیر ملکی افراد کوپس زنداں پھینک دیا۔

You might also like