Baseerat Online News Portal

پاپولر فرنٹ کے دہلی صوبائی دفتر پر یوپی- ایس ٹی ایف کی چھاپے ماری کی تنظیم نے کی مذمت، انتقامی کاروائی کا حصہ بتایا

نئی دہلی: ۲۲؍فروری(پریس ریلیز)
پاپولر فرنٹ آف انڈیا شاہین باغ، نئی دہلی میں واقع ہماری دہلی ریاستی کمیٹی کے دفتر پر اترپردیش ایس ٹی ایف کے ذریعہ کی گئی چھاپے ماری کی مذمت کرتی ہے۔ یہ یوگی حکومت کی پاپولر فرنٹ کے خلاف جاری کردہ ہراسانی کے سلسلے کا حصہ ہے۔ ابھی دو مہینے قبل ہی انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے ہمارے صوبائی دفتر پر چھاپے ماری کی تھی اور ایجنسی نے ہمارے دفتر سے قانون کے خلاف کچھ بھی ہونے کا ایک چھوٹا سا ثبوت بھی نہیں پایا تھا۔ اس لئے یہ بات واضح ہے کہ یوپی-ایس ٹی ایف کی حالیہ چھاپے ماری صرف ہمیں ہراساں کرنے کی غرض سے کی گئی ہے۔ یوپی-ایس ٹی ایف نے قانونی طریقہ کار کے خلاف جاتے ہوئے، نہ تو تلاشی کا وارنٹ دکھایا اور نہ ہی ضبط شدہ چیزوں کی رپورٹ دفتر کے عملہ کو سونپی۔ کچھ جھنڈے، رابطہ عامہ کے چند مطبوعات اور ہینڈبل ضبط کئے گئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایس ٹی ایف اسے”اشتعال انگیز دستاویز“ کے طور پر پیش کرے گی۔
گذشتہ چند مہینوں سے اترپردیش حکومت نے فرضی الزامات میں تنظیم کے ممبران کی غیرقانونی گرفتاری کرکے اور تنظیم کو جھوٹی دہشت گردانہ سازش سے جوڑ کر پاپولر فرنٹ کے خلاف ناپاک انتقامی کاروائی چھیڑ رکھی ہے۔یہ سب سی اے اے مخالف مظاہرے کے دوران ہماری ریاستی ایڈہاک کمیٹی کے ممبران پر مظاہروں کا ماسٹرمائنڈ ہونے کا الزام لگا کر ان کو گرفتار کئے جانے کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ پاپولر فرنٹ نے جواب میں شہریت مظاہروں کے دوران اترپردیش پولیس کے ذریعہ قتل اور زدوکوب کئے گئے بے قصور لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے قانونی کاروائی کا راستہ اختیار کیا۔ تنظیم نے اقلیتوں کے خلاف پولیس کی زیادتی پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں یوپی پولیس کے خلاف ایک پی آئی ایل داخل کی۔ ان مداخلتوں کا بدلہ لیتے ہوئے، یوپی پولیس نے ہماری ریاستی ایڈہاک کمیٹی ممبران کو گرفتار کیا اور ان کے اہل خانہ کو بھی ہراساں کیا۔ حتیٰ کہ ہاتھرس عصمت دری معاملے کے بعد یوپی پولیس نے ایک صحافی اور کچھ طلبہ کارکنان کو ایک ”تصوراتی نسلی تشدد“ بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے اور ان کا تعلق پاپولر فرنٹ سے جوڑ کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔ ہمارے ممبران انشاد اور فیروز کو گھر جاتے ہوئے راستے میں ٹرین سے اغوا کرکے غیرقانونی حراست میں رکھا جانا اور پھر یہ چھاپے ماری انتقامی کاروائی کی تازہ مثالیں ہیں۔ آج 21 فروری کو کیرالہ کے پاپولر فرنٹ کاسرگوڈ ضلع کے کیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کے کیرالہ دورے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ چھاپے ماری اور کل سے پولیس کی تعیناتی ایک ترکیب تھی تاکہ ہم مجبور ہو کر مظاہرہ ختم کردیں لیکن کیرالہ میں فیصلے کے مطابق مظاہرے کئے گئے۔
پاپولر فرنٹ ان کاروائیوں سے ڈرنے والی نہیں ہے اور ہم قانونی و جمہوری طریقوں سے اس کے خلاف لڑائی لڑیں گے۔ ہم سبھی طبقوں کے لوگوں سے جمہوری حقوق کے خلاف یوپی پولیس کی زیادتی کی مخالفت میں اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

You might also like