Baseerat Online News Portal

دِشا ، نکیتا اور شانتانو سے سائبر سیل کی4؍ گھنٹے پوچھ تاچھ

دشا روی کو عدالت سے ایک دن کی پولس کسٹڈی ،آج پھر ان تینوں سے تفتیش ، ضمانت پر فیصلہ بھی آج
نئی دہلی: 22؍فروری(بی این ایس) گریٹا تھنبرگ ٹول کیٹ معاملے میں دہلی کی پٹیالہ ہائوس کورٹ نے ۲۱ سالہ ماحولیاتی کارکن کو ایک دن کی پولس حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ دہلی پولس نے پانچ دن کی پولس حراست میں بھیجنے کی درخواست کی تھی۔دشا روی کوسوموار کے دن پٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کیاگیا تھا، دشا کی آج تین دن کی عدالتی تحویل ختم ہورہی تھی، دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے کورٹ سے کہاکہ اس معاملے میں شانتانو اور نکیتا جیکب دو ملزم ہیں، شانتانو کو وہاں کی عدالت نے دس دن کی عبوری ضمانت دے دی ہے، وہیں نکیتا جیکب کو بھی ہائی کورٹ پیشگی ضمانت ملی ہوئی ہے، دشا روی نے اس کے اوپر لگائے گئے سارے الزام شانتانو اور نکیتا پر ڈال دئیے ہیں، لہذا دہلی پولس کے سامنے ان تینوں کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ تاچھ کرنے کےعلاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ادھر دشا کے وکیل نے کہاکہ دان دونوں کے ساتھ پولس عدالتی تحویل میں پوچھ تاچھ کیوں نہیں کرسکتی، پولس کے پاس یہ حق ہے لیکن کل میرے موکل کی ضمانت پر فیصلہ آنے والا ہے، دشا روی کے وکیل نے کہاہک پولس نے اپنے ریمانڈ پیپر میں کہا ہے کہ نکیتا او شانتانو کے ساتھ دشا روی کو بٹھا کر پوچھ تاچھ ضروری ہے، کیا دہلی پولس کو انتظار تھا کہ نکیتا اور شانتانو تحقیقات کےلیے آئیں گے تو پھر عدالت سے دشا روی کو پولس حراست میں لے لیں گے، اس مطلب آپ کو پہلے سے یہ پتہ تھا کہ آپ کو پولس کسٹڈی مل جائے گی۔ وکیل نے سوال اُٹھایا کہ پانچ دن دشا پولس کسٹڈی میں تھی تب انہوں نے کیا کیا؟ دریں اثناء دہلی سابئر سیل نے دشا روی کے سامنے ہی نکیتا جیکب اور شانتانو ملک سے چار گھنٹے تک مسلسل پوچھ تاچھ کی، ان دونوں کو نوٹس دے کر سوموار کی صبح ۱۱ بجے بلاگیا تھا، دونوں مقررہ وقت سے قبل ہی سائبر سیل کی آفس دوارکا پہنچ گئے تھے، سائبر سیل کے ڈی سی پی انیش رائے سمیت کئی افسران نے ان تینوں سے پوچھ تاچھ کی۔ دشا روی کو ایک دن کی پولس کسٹڈی میں دہلی پولس کو باقی تفتیش کرنی ہے اور دوسرے ملزمین سے بھی آمنا سامنا کرانا ہے جس سے معاملے کی تہیں کھلنے کی امید کی جارہی ہے۔ پولس اس ایک دن میں دشا روی کا نکیتا اور شانتانو سے آمنا سامنا کروائے گی، ان سبھی کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ دہلی پولس کے اسپیشل سیل کے ڈی سی پی منیشی چندرا نے بتایا تھا کہ ٹول کٹ معاملے میں جو نام سامنے آرہے ہیں ان کوذہن میں رکھ کر تحقیقات کو ا ٓگے بڑھایاجارہا ہے، نئی نئی چیزیں سامنے آرہی ہیں، اب یہ پتہ چلا ہے کہ بھجن سنگھ اور پیٹر مل کر ہندوستان کے خلاف کام کررہے ہیں۔ پولس کے مطابق پیٹر فریڈرک ابھی ہندوستان کے خلاف پروپیگنڈہ جنگ چھیڑے ہوا ہے، اس کے علاوہ پیٹر کا نام ایک اور تنظیم سکھ انفارمیشن سینٹر سے بھی جڑا ہوا ہے، یہ تنظیم خالصتانی ایجنڈے کےلیے کام کررہی ہے۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ ٹول کٹ بناکر کسانوں کو اشتعال دلاکر تشدد پھیلانے کے پیچھے خالصتان سے منسلک تنظیموں کی سازش تھی۔ کناڈا کے پوئٹک جسٹس فاونڈیشن نے سے منسلک ایم او دھالیوال ہندستان میں کسانوں کی آڑ میں ماحول خراب کرنے کی فراق میں تھا۔پولیس کے مطابق کسانوں کو اکسانے کے لئے سازشیوں نے9 ٹول کٹ تیار کی تھی جس میں حکومت کی مخالفت کرنے کے لئے پروگرام بنایا گیا تھا۔ اسے نکیتا جیکب اور ماحولیاتی کارکن شانتنو نے تیار کیا تھا۔ اس کے بعد دشا روی نے اس سلسلہ میں ٹوئٹ کرنے کے لئے سویڈن کی ماحولیات کارکن گریٹا تھنبرگ سے بھی رابطہ کیا تھا۔خیال رہے کہ مرکز کے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کی کسان تنظیموں کی مانگ کی حمایت میں 26جنوری کو کسانوں نے ٹریکٹر ریلی نکالی تھی اور اس دوران کسانوں اور پولیس کے مابین پرتشدد تصادم ہوا تھا۔ اس دوران کچھ مظاہرین لال قلعہ تک پہنچ گئے تھے اور انہوں نے وہاں فصیل پر کسانوں کے جھنڈے اور مذہبی جھنڈہ لگا دیا تھا۔پولیس نے 26جنوری کو ہوئے ہوئے تشدد کے سلسلہ میں 44معاملات درج کئے ہیں۔ ان میں اب تک 143ملزم گرفتار ہوچکے ہیں۔

You might also like