Baseerat Online News Portal

شاہ جیؒ کے “پیرجیؒ” کی رحلت

نور اللہ فارانی

حضرت مولانا حافظ پیرجی سید عطاءالمہیمن بخاری 16 رجب 1363ھ مطابق 5اپریل 1941ء بروزہفتہ امرتسر میں اپنے عظیم والد سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے گھر پیدا ہوئے۔گھر کے ماحول پرصدیوں سے علم ادب اور تصوف سایہ فگن رہے۔ آپ بھی اس پاکیزہ ماحول میں پلے بڑھے۔گھرانے کی روایات کے مطابق قرآن مجید پڑھا حفظ کیا اور فن قرأت میں مہارت حاصل کی شرافت اور نجابت کی بدولت اپنے عظیم والد کی طرف سے بچپن ہی میں” پیرجی “کا خطاب ملا۔اس سے یاد کیے جانے لگے۔امیر شریعت اپنے خطوط میں بھی آپ کو اس خطاب سے مخاطب کرتے۔غیرت وحمیت اپنے غیور والد سے ورثہ میں ملی تھی۔اس وصف میں وہ اپنے پیش رو بھائیوں اور عظیم والد کے نقش قدم پر چلے،فرماتے میں نے جو کچھ سیکھا ہے اپنے غیور اور فقر واستغنا سے کمال درجہ متصف بھائیوں سے سیکھا ہے۔دین اور شریعت کے معاملہ میں بلا خف لومة لائم ہر ظالم اور جابر سے ٹھکر لیتے۔طنز اور تنقید کے زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے۔اور سامعین کے ہنسنے پر مزید برہم ہوجاتے اور فرماتے دین اور شریعت کے معاملے میں کسی سے کوئی ڈیل اور نرمی کا روادار نہیں۔یہی ابا کی سنت اور احرار کا طرہ امتیاز ہے۔حکمران طبقہ کی غلط پالیسوں پر ان کو اڑے ہاتھوں لیتے،اور حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے۔ناموس صحابہ اور ختم نبوت کی پہرہ داری اولین ترجیح ہوتی۔شدید علالت کے باوصف ختم نبوت اور ناموس صحابہ کے جلسوں میں شریک ہوتے۔قرآن مجید سے حد درجہ لگاؤ تھا خطاب میں بطور دلیل کوئی آیت پڑھتے تو انتہائی خوبصورت لے اور کمال شوق سے پڑھتے آنکھیں چمک اٹھتی آپ کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چلتا کہ آپ ساتھ ساتھ قرآنی آیات کے ترجمہ کا لطف لے رہے ہیں،سامعین آیت کے اختمام پر داد وتحسین کے ڈونگرے برساتے۔اور مزید سننے کی تڑپ اور طلب سامعین کے دلوں میں باقی رہ جاتی۔لکھنے لکھانے کے معاملے میں اپنے والد کے ہم خیال تھے۔اس لیے آپ کا تحریری سرمایہ نہ ہونے کے برابر ہے، ہاں خطابت کے اسرار ورموز سے اپنے اکابرین کی طرح خوب واقف تھے۔قرأت میں اپنے والد ماجد کی آرزو اور خواب پورے کرنے میں کامیاب رہے، فن قرأت میں خوب مہارت حاصل کی تھی۔عمر بھر دشمنان دین متین اور اکابرین امت کے خلاف محاذ بنانے والے ہر باطل فرقے کے خلاف نبرد آزما رہے،تقریبا 14 سال تک دیار حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں رہے۔ان کی تصویری دید کے مطابق ان کا وضع قطع اور حلیہ کچھ یوں بنتا ہے۔کشادہ کتابی چہرہ ،چہرے کی وقار بڑھاتی متوسط ناک،جلالی آنکھیں مگر محبت آمیزی غالب،ہونٹ کے اوپر مونچھ تراشی ہوئی اور مونچھ کے دونوں سرے ریشم کی طرح نرم وملائم سفید داڑھی سے پیوست،سرخ احراری لباس میں ملبوس سفید چادر کی تہبند لباس کا حصہ۔بڑے ڈیل ڈول کے مضبوط اعضاء۔ یہ تھے شاہ جیؒ کے سب سے چھوٹے “پیرجی” سید عطاء المہیمن بخاری جو ہم سب کو یتیم چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے در بقاء کی جانب کوچ کر گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

You might also like