Baseerat Online News Portal

حضرت مولانا قاضی عبدالجليل قاسمی رحمۃ اللہ علیہ–ہم تجھے بھلا نہ پائیں گے

 

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پٹنہ و مدير ہفت روزہ نقیب

 

امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے سب سے بڑے قاضی، المعہد العالی امارت شرعیہ کے نائب صدر،اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی کے بنیادی رکن، مدرسہ اسلامیہ بتیا اور مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی مغربی چمپارن کے صدر، مدرسہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا کی مجلس شوریٰ کے رکن، با فیض عالم دین، استاذ الاساتذہ نحو وصرف کے ماہر، بڑے فقیہ،خلوص وللہیت میں ممتاز حضرت مولانا قاضی عبد الجلیل قاسمی نے ۵/ رجب المرجب ۱۴۴۲ھ مطابق ۱۸/ فروری ۲۰۱۲ء نماز مغرب سے تھوڑی دیر قبل اپنے گھر سے مغرب کی نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے راستے میں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے داعیئ اجل کو لبیک کہا، وہ برسوں سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے، ابھی ڈیڑھ ماہ قبل اسپتال سے لوٹے تھے اورمعمول کے مطابق کار قضاء انجام دے رہے تھے، وفات کے دن بھی آپ نے پورے دفتری اوقات میں معمول کے مطابق کار قضا کو انجام دیا، عصر کی نماز با جماعت امارت میں ہی پڑھی، گھر تشریف لے گئے اورمغرب کی نمازکے لئے مسجد جاتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کر دی اسے کہتے ہیں، ”طاب حیا وطاب میتا“کہ اچھی زندگی پائی اور بہترین طورپر موت کا سامنا کیا، نہ ایک وقت کی نماز قضا ہوئی، نہ بستر پر پڑے، کسی کو خدمت کا موقع نہیں دیا، وفات کے دن انہوں نے گھر جانے کے لیے ایک ہفتہ کی چھٹی لی تھی وہ اپنی بڑی بہن اور بڑے بھائی کی عیادت کے لیے گھر جانا چاہ رہے تھے، لیکن اللہ نے ان کو اپنے گھر بلا لیا۔ پس ماندگان میں سیکڑوں شاگردان کے ساتھ ایک بیٹا، دو بیٹی اور اہلیہ کو چھوڑا ان کے ایک داماد ڈاکٹر اشرف صاحب رانچی میں رہتے ہیں،وہ دار العلوم دیو بند کے میرے درسی ساتھی ہیں۔ جنازہ کی ایک نماز مرکزی دفتر امارت شرعیہ میں ادا کی گئی، جس میں وقت مختصر ہونے کے با وجود پٹنہ اور پھلواری شریف کے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، وزیر اعلیٰ، حزب مخالف کے قائد تیجسوی یادو، اوردیگر سیاسی لیڈروں نے اپنا تعزیتی پیغام بھیجا، اختر الاسلام شاہین ام ایل اے سمستی پور، سابق وزیر عبد الباری صدیقی، شیام رجک، خالد انور ایم ایل سی، ارشاد اللہ صاحب چیر مین سنی وقف بورڈ کانگریس کے اعظمی باری کے علاوہ پٹنہ شہر کے ائمہ علماء، دانشوران اور بہت ساری اہم شخصیات نے پہلی نماز جنازہ میں شرکت کی، مرکزی دفتر میں جنازہ کے نماز کی امامت مفتی امارت شرعیہ مولانا سعید الرحمن قاسمی نے کی، دوسری نماز ان کے آبائی گاؤں دھوبنی ساٹھی میں بعد نماز جمعہ ادا کی گئی، پورا علاقہ جنازہ میں شرکت کے لیے امڈ آیا تھا، دور تک سر ہی سر دکھائی دے رہا تھا، یہاں جنازے کی امامت قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی نے کی، راقم الحروف محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، مفتی وصی احمد قاسمی، مولانا سہیل اختر قاسمی، مولانا سہیل احمد ندوی، مولانا عبد الباسط ندوی، مولانا نور الحق رحمانی، مولانا مجیب الرحمان، قاری مجیب الرحمن، مولانا شاہنواز، اورمولانا بدر انیس وغیرہ نے یہاں جنازہ اور تدفین میں شرکت کی سعادت پائی،تدفین مقامی قبرستان میں ہوئی، تدفین کے بعد امارت شرعیہ کا پورا وفد ٹوٹے اور بجھے دل کے ساتھ پٹنہ لوٹ گیا، پورا دفتر اس حادثہ سے مغموم ہے، خود حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم پر اس کا بڑا اثر ہے، اللہ انہیں صحت وعافیت کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے۔ آمین۔

حضرت مولانا قاضی حافظ عبد الجلیل قاسمی بن حافط محمد سعید بن حافظ محمد اسحاق کی ولادت دھوبنی علاقہ ساٹھی موجودہ مغربی چمپارن میں ہوئی، اصل سن ولادت 1942ء اور آدھار کارڈ کے مطابق 17/ مارچ 1947ء ہے، ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری مکتب میں حاصل کی، جسے آج کل پرائمری اسکول کہا جاتا ہے، جب ان کے والد نے قاضی صاحب کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کا ارادہ کیا تو چچا مولانا محمد یعقوب صاحب کے حوالہ کر دیا، چنانچہ فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں آپ نے انہیں سے پڑھی، 1956ء میں علاقہ کے با فیض مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی مغربی چمپارن میں داخلہ لیا، اس زمانہ میں حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒ امیر شریعت سادس وہاں کے صدر مدرس تھے، ان کی پوری توجہ قاضی صاحب کو ملی، اور ان کے زیر سایہ تعلیم وتربیت حاصل کرنے کی وجہ سے ان کی صلاحیت میں نکھار آیا، حضرت قاضی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اگر حضرت امیر شریعت کی سر پرستی اور مہربانی نہ ہوتی تو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا، یہاں سے آپ نے 1959ء میں آگے کی تعلیم کے لیے دار العلوم دیو بند کا رخ کیا اور یہاں کے نامور اساتذہ سے کسب فیض کے بعد 1963ء میں دورہ حدیث سے فراغت پائی، پھر ایک سال تخصص کے شعبہ میں لگایا،ا ور فن ہیئت اور عربی زبان وادب میں دسترس حاصل کی۔

تدریسی زندگی کا آغاز 24/ دسمبر 1964ء کو مدرسہ اسلامیہ آدا پور مشرقی چمپارن میں صدر مدرس کی حیثیت سے کیا، ڈیڑھ سال بعد جون 1966ء میں یہاں سے مستعفی ہو کر تجارت شروع کردی، دو سال تک یہی مشغلہ رہا، مگر اللہ کو آپ سے بڑا کام لینا تھا، اس لیے جلد ہی تجارت سے طبیعت اوب گئی،چنانچہ یکم ستمبر 1968ء کو مدرسہ اسلامیہ بتیا میں درس وتدریس سے منسلک ہو گئے اور پندرہ سال، اکتوبر 1983ء تک یہیں اپنی فقہی بصیرت اور علمی صلاحیت سے طلبہ کو مستفیض کرتے رہے، بتیا کے زمانہ قیام میں 25/ مارچ 1975ء کو وہاں دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا تو آپ وہاں کے قاضی منتخب ہوئے۔1983ء میں آپ مدرسہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا آگئے اور 1994ء تک یہاں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، کار قضاء کی انجام دہی کے لیے ہر پندرہ دن پر بتیا تشریف لے جاتے، کار قضاء میں آپ کی مہارت کو دیکھ کر مرکزی دار القضاء میں فیصلہ لکھنے کی غرض سے نائب قاضی کی حیثیت سے 15/ جمادی الاخری 1415ھ مطابق 20/ اکتوبر 1994ء کو آپ کی تقرری عمل میں آئی۔

اس طرح آپ کو حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے ساتھ کام کرنے کا کم وبیش آٹھ سال موقع ملا، مرکزی دار القضاء آنے کے بعد بھی چند سال تک بتیا دارالقضاء کے کام کو آپ ہی دیکھتے رہے، چھ ماہ ڈھاکہ مشرقی چمپارن کے دارالقضاء میں بھی آپ نے خدمت انجام دی، یکم محرم 1423ھ میں آپ کی ترقی قاضی کے منصب پر ہو گئی، اس کے بعد سے آخری دم تک مرکزی دار القضاء میں قاضی کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔ کار قضاء میں آپ کی مہارت کے سبھی قائل تھے، فقہ آپ کا خاص موضوع تھا، نحو وصرف میں آپ کی صلاحیت غیر معمولی تھی۔قوت تمیزی آپ کی مضبوط تھی،دارالقضا میں سب سے اہم مقدمہ حقیت کا ہوتاہے اللہ تعالیٰ نے اس کو حل کرنے کا خصوصی ملکہ انہیں عطا فرمایا تھا، آپ نے اپنی صلاحیت سے امت کو خوب خوب فائدہ پہونچایا، ان کی اصول پسندی اور ضابطہ پر عمل کرنے، کرانے کی غیر معمولی صلاحیت نے دار القضاء کے اعتبار واعتماد کو باقی رکھنے بلکہ آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، وہ متواضع، منکسر المزاج،خوش اخلاق، خندہ رو، وقت کے پابند اور حضرت امیر شریعت کی سمع وطاعت کے معاملہ میں مثالی انسان تھے،وہ مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لیے پوری زندگی کوشاں رہے، معاملات کے تصفیے میں وہ کسی سے مرعوب ہونا جانتے ہی نہیں تھے، حضرت صاحب بھی ان کی بات نہیں کاٹتے تھے اور ان کے مشورہ پر خصوصی توجہ رکھتے تھے، وہ تکبیر اولیٰ کے ساتھ با جماعت نماز کے عادی تھے، مرض کے علاوہ کبھی اس میں تخلف نہیں ہوتا تھا۔

قاضی صاحب کو عر بی سے اردو سلیس زبان میں ترجمہ کر نے کی بھی مضبوط صلاحیت تھی. انہوں نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی تحریک پر موسوعۃالفقہیہ کی کئ جلدوں کا ترجمہ کیا تھا اور کئی جلدوں پر نظر نہائی کا کام کیا تھا، اور اسکے اکرامیہ کی رقم سے حج کی سعادت حاصل کی تھی

میری پہلی ملاقات حضرت قاضی صاحب سے بھٹنی اتر پردیش کے ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تھی، میں ان دنوں مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور ویشالی میں استاذ تھا، اسلامک فقہ اکیڈمی کا سمینار جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں تھا، ہم دونوں گاڑی کے انتظار میں تھے، میں نے وقت کاٹنے کی غرض سے بات کا سلسلہ شروع کیا تو تواضع کا یہ انداز دیکھیے فرمایا کہ”آتا جاتا تو کچھ نہیں ہے، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی دامت برکاتہم کی شفقت ہے کہ وہ اس بے علم انسان کو بلالیتے ہیں، حکم کی تعمیل میں حاضر ہوجاتا ہوں“ وہ دن اور آج کا دن، ان کی شفقت محبت اور تعلق میں، میں نے کبھی کمی محسوس نہیں کی، 2003میں حضرت امیر شریعت سادس کی طلب پر میں بھی نائب ناظم کی حیثیت سے امارت شرعیہ میں خدمت انجام دینے لگا، مختلف مسائل پر استفادہ کا موقع بار بار آیا، بعض مسائل ومعاملات میں وہ خود بھی مجھ سے استفسار کر لیا کرتے تھے، خاصیات ابواب پر میری ایک کتاب کوئی تیس سال پہلے چھپی تھی، اب اس کا دوسرا ایڈیشن لانا تھا، تو میں نے حضرت قاضی صاحب سے درخواست کی کہ وہ اس پر نظر نہائی ڈال دیں اور اپنی رائے بھی لکھ دیں، انہوں نے کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے لیے مفید مشورے دیے، بعض خاصیات کے بارے میں کتابوں کے حوالہ دینے کو کہا اور ایک جامع تحریر کتاب کے لیے عنایت فرمائی، ابھی کتاب پریس نہیں جا سکی کہ حضرت قاضی صاحب نے رخت سفر باندھ لیا، اس کا ملال مجھے زندگی بھر رہے گا کہ میں انہیں کتاب پیش نہیں کر سکا۔

آج امارت شرعیہ میں جو لوگ کار قضا کو سنبھال رہے ہیں، ان میں مولانا محمد انظار عالم قاسمی، مفتی وصی احمد قاسمی، مولانا سہیل اختر وغیرہ کو ان کی شاگردی پر فخر ہے، مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم بھی ان کے شاگرد رہے ہیں۔

اتنی با فیض شخصیت کا اس طرح جدا ہونا امارت اور ملت دونوں کا بڑا نقصان ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس نقصان کی تلافی فرما ئیں،اس کی دعا کرنی چاہیے۔ اللہ رب العزت حضرت کے درجات بلند کر یں اور ان کے سیئات در گذر فرمائیں۔ تمام متعلقین کو ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کا اہتمام کرنا چاہیے کہ آخرت کے سفر میں سب سے زیادہ ضرورت اسی کی پڑتی ہے، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔(بشکریہ نقیب)

You might also like