Baseerat Online News Portal

جدید ابراہیمی دین“

جو پیرہن اس کا ہے وہ ملت کا کفن ہے

 

 

از: عزیر فلاحی

 

21 فروری 2021 بروز اتوار مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق شام 6 بجے ایک آن لائن بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، عنوان تھا: “موقف الأمة الإسلامية من الديانة الإبراهيمية” (جدید ابراہیمی مذہب کے متعلق امت اسلامیہ کا موقف) جس میں 17 ممالک کے علماء شریک ہوئے، کانفرنس کے بنیادی محور تین تھے:

 

(۱)جدید ابراہیمی مذہب کی بالکلیہ تردید۔

(۲) اس کو قبول کرنا دین اسلام سے نکل جانا ہے۔

(۳) عرب اسرائیل تعلقات ( تطبیع) تمامتر صورتوں کے ساتھ نا قابل قبول ہیں۔

 

یہ جدید ابراہیمی دین ہے کیا؟ مقصد و ہدف کیا ہے؟ داعی کون ہے؟ آئیے اس سے پردہ اٹھاتے ہیں:

 

الدیانۃ الإبراهيمية:

 

تعریف: ایک ایسا جدید مذہب جس کے اصول تینوں آسمانی مذاہب ( یہودیت، مسیحیت اور اسلام) سے ماخوذ ہوں، جو رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا داعی ہو۔

مقصد: نئی نسلوں کا پولرائزیشن(polarization) یا ہندی میں دُھروی کرن ، ذہن و عقیدہ کو متزلزل کردینا اور دین اسلامی کی شبیہ مسخ کردینا۔

 

فنڈنگ: یورپی یونین، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) عالمی بنک، اور لٹیروں کا بادشاہ یعنی امریکا۔

 

مغضوب علیھم اور ضالین کیا کہتے ہیں؟

 

اسرائیل میں موجود امریکی سفیر نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام (الدیانۃ الإبراهيمية) تینوں مذاہب کی وحدت کا غماز ہے۔

 

گذشتہ عرب اسرائیل تعلقات کی لہر کے دوران سابق وزیر ٹرمپ نے کہا تھا: تعلقات کی استواری “ابراہیمی اتفاق” ہے۔ مزید کہا: مشرق وسطی کی مشکلیں اس وقت تک حل نہیں ہو سکتیں جب تک کہ تمام مذاہب کے ماننے والے اسلامی انتہاء پسندی اور اقتصادی مواقع کے لئے متحد نہ ہو جائیں۔

 

یہود بھی گذشتہ کئی دہوں سے اس ڈھکوسلے کو دوہراتے رہے ہیں، کہتے ہیں: عرب اسرائیل ایک ہی باپ کی اولاد ہیں تو مذہب کی وجہ سے کیوں دشمنی کریں؟ آؤ ہاتھ ملا لو۔

 

اپنے اس فاسد مقصد کے تحت اسرائیل بعض جگہ عبری چھوڑ کر عربی بولنے لگا اور یہ ٹرینڈ بھی چلایا “إسرائيل تتكلم بالعربية”۔ تینوں مذاہب کے تعارفی نشان ہلال، صلیب اور ستارۂ داؤودی ایک پوسٹ میں جمع کرنے کے بعد رسول اللہﷺ کی حدیث لکھتا ہے: “أَحِب لأخيك ما تحب لنفسك” ( اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو)

 

سابق شاہ عرب ، عبد اللہ بن عبد العزیز علیہ ما علیہ کی تحریک وحدت الادیان اسی فاسد نظریہ کی ایک کڑی تھی، اور آج کل عرب میں دہرائی جانے والی “دیانۃ ابراہیمی” کی آواز اسی وحدت ادیان کی صدائے بازگشت ہے، اور اسی کی ایک ہلکی سی کڑی بر صغیر میں موضوع بحث رہے “مدرسہ ڈسکورسیز” کا آوازہ ہے۔

ہر شاخ پہ شیطاں بیٹھا ہے۔

 

نئے ابراہیمی مذہب کے پشتیبان

 

کسی بھی قوم کو دینی و روحانی غذا عالم دین و اہل طریقت ہی پہنچاتے ہیں، مگر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں میں سے بعض جاہ و زر کی حرص و آز کا شکار ہو کر کسی انجان مقصد کے لئے دشمن کا آلۂ کار بن کر انتہائی سڑی گلی مخلوق کے درجہ میں پہنچ جاتے ہیں اور تاریخ انہیں علماء سوء کے نام سے یاد کرتی ہے، اس ملت مردہ و افسردہ ( دیانۃ ابراہیمی) کا لاشہ بھی ایسے ہی کچھ امانت فروش کردار اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں، جن میں تین نام انتہائی اہم ہیں، جنہیں صہیونی لابی کی جانب سے “الدعاۃ الروحیون” کا تمغہ ملا، ایک موریتانی شیخ ہے، ( ابن بیہ) دوسرا یمنی واعظ ( علی الجفری) اور تیسرا ایک اماراتی داعی۔ ( یوسف وسیم) ۔ہم صرف ایک ہی کے چند نمونے پیش کرتے ہیں:

 

اماراتی ( وسیم یوسف) تینوں مذاہب کے نشان ایک پوسٹ میں جمع کرکے لکھتے ہیں: لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ

موصوف ایک دوسری پوسٹ میں لکھتے ہیں: جنت صرف آپ اکیلے کی جاگیر نہیں، اس کی وسعت تو آسمان و زمین کے برابر ہے (جیسا کہ قرآن نے کہا) اور تمہیں نظر آنے والی کہکشاؤں، ستاروں سیاروں اور آسمانوں سے اربوں گنا بڑی ہے،اور تم کہ رہے ہو کہ وہ صرف تمہیں اور تمہارے ماننے والوں کو ہی ملے گی؟؟ پھر “وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ” کا کیا ہوگا؟

حال ہی میں ابو ظهبي میں ایک کمپاؤنڈ “البيت الإبراهيمي” کے نام سے تعمیر کردیا گیا، یا ابھی اس کا فیصلہ ہوا ہے، و اللہ اعلم۔ اس میں تین عمارتیں تینوں مذاہب کی نمائندگی کرتی ہوئیں نقشہ میں دکھائی گئی ہیں، تصویر مضمون کے ساتھ منسلک ہے ۔

موصوف اس کے متعلق ایک شعر لکھتے ہیں:

البيت الإبراهيمي يجمعنا

و إن اختلفت قبلتنا

كتب أنزلها الباري

و أهل كتاب دعوتنا

 

موصوف نے Interpretation of tha noble Quran and it’s Sciences ( تفسیر و علوم القرآن) میں پی ایچ ڈی کی ہے۔

 

یہاں کلام الہی : يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ( البقرة:26) نیز حدیث پاک: القرآن حجة لك أو عليك ( مسلم: 223) کے مضامین پر غور کرتے ہوئے اس طرح گمراہیوں کا مشاہدہ کیا جائے تو دہشت سے کلیجہ منہ کو آتا ہے، اللہ تعالی کتنے غیور ہیں!!!

 

اسلامک فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ کے رکن بکر ابوزید رحمہ اللہ اپنی کتاب “إبطال نظرية الخلط بين الإسلام وغيره من الأديان” میں لکھتے ہیں: “وحدت ادیان” فلسفی موشگافی، سیاسی نشو نما کا حامل اور الحادی انجام پر مبنی ایک نعرہ ہے جو مسلمانوں سے دینی و زمینی انتقام کے لئے نیا لبادہ پہنا کر وجود میں لایا گیا،۔۔۔۔۔۔ اس کا مقصد دین اسلام کو جو کہ ہر طرح کی تحریف و تبدیلی سے پاک ہے محرف و منسوخ ادیان کی صف میں لا کھڑا کرنا ہے۔

 

ملت اسلامیہ کو اس سلسلے میں کسی شش و پنج میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ اس بات کا فیصلہ خود رب ذو الجلال نے کردیا، یہودیت اور عیسائیت کو ابراہیمی دین کہا ہی نہیں جا سکتا؛ کیونکہ یہ ایسے ناموں کی طرف نسبت ہے جو کہ خود حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، اور اسلام تو ایک نظام زندگی تھا اور ہے، جس کے تحت حضرت سیدنا آدم، نوح، ہود، لوط، ادریس اور سیدنا ابراہیم اور انبیاء بنی اسرائیل علیھم الصلاۃ و السلام زندگی گزارتے رہے اور دعوت دیتے رہے۔

 

خاص طور سے ابو الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے متعلق تو صاف صاف فرمان باری ہے: مَا كَانَ إِبْرَٰهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ( آل عمران: 67) ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی؛ بلکہ وہ تو ملت حنیفیہ کے پیرو اور مسلم تھے اور نہ ہی و مشرکین میں سے تھے۔

نیز نبی کریم ﷺ کی حدیث بھی ذہن میں رہے: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ( مسلم: 153)

اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، اس امت میں سے کسی بھی یہودی و نصرانی نے میرے متعلق سنا، پھر وہ اسی حال میں مر گیا اور اس پر ایمان نہیں لایا جو لے کر میں بھیجا گیا ہوں، مگر یہ کہ وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔

 

امت مسلمہ جس دور سے گزر رہی ہے اس کا اندازہ ہر ایک کو ہے، ہر طرح کی آزمائشیں ہیں، مگر بھلا بتائیے جو آزمائش دین کے باب میں ہو، اس سے بڑی بھی کوئی آزمائش ہوسکتی ہے؟ ایک ایک پل انتہائی حساسیت سے گزارنے کا وقت ہے، بنا کسی عجب و خود پسندی کے عاجزی کے ساتھ احکام الہی بجا لانے کا وقت ہے۔ ورنہ وہی نبیوں کی اولاد (بنی اسرائیل) اسی دجال کے دُم چھلے بننے جا رہے ہیں، جس سے ان کے نبیوں نے سب سے زیادہ ڈرایا۔

 

اللہ تعالیٰ بے حد غیور ہیں ، اللہ تعالیٰ بے حد غیور ہیں ، اللہ تعالیٰ بے حد غیور ہیں۔

You might also like