Baseerat Online News Portal

حفیظ نعمانی کو زبان و بیان اوراظیار پر بڑی قدرت حاصل تھی دو کتابوں’حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ‘ اور’ آشنا چہرے‘ کا اجراء

لکھنو۔ ۲۳؍فروری:(پریس ریلیز)لکھنؤ: حفیظ نعمانی انسان دوستی، خوش اخلاقی، جرأت، ہمدردی، محبت اور وضع داری کی ایک روشن مثال تھے۔ ان کی تحریروں کے شیدائی وہ لوگ بھی تھے انھیں جانتے بھی نہیں تھے۔ انھیں زبان و بیان اور اظہار پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی۔ ان کے یہاں دورنگی نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ پر ان دو کتابیں مرتب کرکے ہمارے دو نوجوان اسکالروں نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر شارب ردولوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ حفیظ نعمانی ایک بہت بڑے صحافی تھے۔ آج کے حالات میں ان کی کمی قدم قدم پر محسوس کی جائے گی۔مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ ان کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہوئی تھی جس میں ایک مذہب کی کارفرمائی تھی۔ انھوں نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا،ک بلکہ گھر والوں اور دوسروں کے لئے ایک مثال بن گئے۔ ان کی صحافت اور کالم نگاری ملی دردمندی کا آئینہ دار ہے۔ انھوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔مولانا نعمانی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ ہمارے ابوصاحب اخلاق کا پیکر تھے، انھوں نے جیل کے اندر رہ کر اخلاق کے جو نمونے پیش کیے ، اس ہی وجہ تھی کہ اپنی گرفتاری کے چند دنوں کے اندر ہی وہ جیل کے بادشاہ ہوگئے تھے۔وہ بڑے جرات مند واقع ہوئے تھے، حکومت وقت سے لڑجانے کی ہمت رکھتے تھے۔وہ ایک بڑے صحافی اور ملت کے رہبر تھے۔پروگرام کا آغاز ریسرچ اسکالر محمد سعید اخترکی قرات سے ہوا۔نظامت کے فرائض مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر عمیر منظر نے بحسن و خوبی انجام دیے۔مولانا عبدالعلی فاروقی نے کہا کہ آج کا یہ مجمع اس بات کا گواہ ہے کہ حفیظ صاحب کی شخصیت انتہائی پرکشش ہے۔ حفیظ نعمانی تعلقات کو نبھانا جانتے تھے۔ڈاکٹر روپ ریکھا ورما نے کہا کہ وہ بہت ہمت والے انسان تھے۔ زبان بندی کے دور میں بے خوف اور نڈر ہوکر لکھنے والے حفیظ نعمانی تھے آج ان کی بہت سخت ضرورت تھی۔انھوںنے کہا کہ فرقاہ پرستی کے خطرے کو سونگھنا اور اس سے لڑنا آج کی سب سے بڑی جدو جہد ہے۔ ڈاکٹر رمیش دیکشت نے حفیظ نعمانی کی تصنیف روداد قفس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہروداد قفس میں آج کے ماحول کی آہٹ تھی انھیں معلوم تھا کہ ملک جس روش پر جارہا ہے ۔ وہ جمہوریت اور سیکولرزم کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ آج ہم جہاں پہنچے ہیں وہ ہمارے احساس کی کمی ہے۔ہمیں پتا ہی نہیں لگا کہ کیا سے کیا ہوگیا ہے۔ روداد قفس آئندہ کے اندیشوں کا اشاریہ ہے جسے ہم آج بخوبی دیکھ پارہے ہیں۔ ان کی نگاہ مستقبل پر تھی۔ ڈاکٹر مسعودالحسن عثمانی صاحب نے کہا کہ حفیظ بھائی سے گزشتہ پچاس برسوں کا میرا ساتھ رہا ہے۔ ان کی محبتوں کو بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی صحافت کا روشن زمانہ’ ندائے ملت‘ ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں ملک و قوم کے لیے کس قدر فکر انگیزی تھی۔ موضوعات کے وہ محتاج نہیں تھے۔ ان کے کالم ان کے گہرے غور و فکر کا نتیجہ ہیں۔ انھوں کہا کہ اگر ندائے ملت کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہوتا اور اسے ’اغوا‘ نہ کیا گیا ہوتا تو آج ملک کے حالات یہ نہیں ہوتے جو ہیں۔۔۔ندائے ملت نے ان حالات کو سمجھ لیا تھا ۔ اس موقع پر انھوں ڈاکٹر آصف قدوائی ، مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی(حفیظ نعمانی مرحوم کے بڑے بھائی)، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی وغیرہ کو بھی یاد کیا۔ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی نے شگفتہ اور جانے پہچانے انداز میں کہا کہ’’اویس سنبھلی کی معرکۃ الآرا تالیف’حفیظ نعمانی:ایک اعہد ایک تاریخ‘اتنی بھرپور، اتنی مکمل اور اتنی وقیع ہے کہ اسے تالیف نہیں تصنیف کہنا چاہئے۔کتاب کا ’پیش نامہ‘ اوپر سے نیچے تک اور پھر نیچے سے اوپر تک پڑھ ڈالیے ، آپ محسوس کریں گے کہ اویس نے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کردی ہیں، یعنی کہ دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اویس نے اپنے موضوع سے جس طرح انصاف کیا ہے ، وہ بہت کم قلم کار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ریشما پروین نے’ آشنا چہرے‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہاس ستر سالہ عہد وزمانہ کا دلچسپ اشاریہ ہے جس کی رہنمائی میں تحقیقی میدا ن کے شہسوار صحیح راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت ناہید نے کہا کہ حفیظ نعمانی کی شخصیت اور ان کی تصانیف کے حوالے سے دو اہم کتب ہمارے سامنے آئی ہیں یہ دونوں کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ ایک زندگی تھی جس کی مختلف جہتیں تھیں ،ایک منبع علم و نور تھا جس کی ضیائوں کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے’ آشنا چہرے‘ میں ،اور قاری نے حفیظ صاحب کو کتنا جانا اور کتنا سمجھا اس کا اعتراف کرتی تحریریں’ حفیظ نعمانی: ایک عہد ایک تاریخ‘ میں جمع کی گئی ہیں۔ جس کے لیے میں دونوں اویس سنبھلی اور اطہر حسین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔اترپردیش اردو اکادمی کے سکریٹری ایس رضوان نے حفیظ نعمانی نے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میرے والد اور حفیظ نعمانی بہت قریبی دوست تھے، اسی نسبت سے میں انھیں حفیظ چچا کہا کرتا تھا۔ آج اویس سنبھلی اور خانوادہ حفیظ نے ان کی یاد میں یہ پروگرام کرکے ساری پرانی یادیں تازہ کردیں۔ ڈاکٹر پروین شجاعت صاحبہ نے کہا کہ’حفیظ صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی تخلیقی کاوشات پر ترتیب دی گئی ان دونوں ہی کتابوں کے مرتبین نے نہایت محنت ،لگن اور جانفشانی سے ان مجموعوں کے ترتیب دیا ۔جناب اطہر حسین صدیقی صاحب نے کہاکہ ’ جنرلزم کو سمجھنے کا ان کا اپنا انداز تھا۔اور سیاسی سمجھ رکھنے والے انسان تھے۔ عبیدالرحمٰن سنبھلی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔پروگرام میں پرفیسر جمال نصرت ، ایچ ایم یاسین،محمد احمد ادیب،جاوید اقبال،حکیم وسیم احمد اعظمی، عارف نگرامی، مخمور کاکوروی، اسرار الحق قریشی، مولانا مہدی حسن، ڈاکٹر مبشر حیات، ڈاکٹر شعیب قریشی ، ڈاکٹر ثروت تقی،ڈاکٹر سنجے مشرا شوق،پرویز ملک زادہ اور منصور حسن خاں ،ڈاکٹڑ کوثر عثمان ، منجل آزاد، زیشان نعمانی، ذوالنون نعمانی، مامون نعمانی، ہارون نعمانی، شکیل الدین،ڈاکٹر سرفراز احمد،ڈاکٹر شاہ محمد فائز،ڈاکٹر نور فاطمہ،ظہیر مصطفیٰ ،وقار رضوی ،شکیل گیاوی،پپلو لکھنوی، عطیہ بی،آفتاب اثر ٹانڈوی،رحمت لکھنوی،رضوان فاروقی، مولانا عبد اللہ عباس ندوی،عاطف حنیف علیگ،انور حبیب علوی ریسرچ اسکالر شاہد حبیب، محمد شفیق ،فیض احمد،امان شریف انصاری، محمد طاہر ،انوار احمد،سعید الرحمٰن ،جیسی شخصیات شامل ہوئیں۔

You might also like