شخصیاتمضامین ومقالات

دیکھوتو صحیح! وہ کس کا جنازہ جارہاہے …؟؟

دردوکڑھن: انصارعزیزندوی
(ایڈیٹر فکروخبر)
محسنِ قوم وملت،مشہور و معروف عالمِ دین مولانا عبدالبار ی ندوی ؒ کونمناک اورغمناک آنکھوں سے بھٹکل کے بڑے قبرستان میں آج صبح سپرد خاک کیا گیا ۔آج شہر بھٹکل کا منظر دیکھ کر شایدزمین و آسمان بھی حیران رہے ہوں گے کہ یہ کونسا مہمان ہے جو عارضی زندگی کو چھوڑ کر ابدی حیات کی جانب آرہاہے ، اور یہ کون ہے جس کے دیدار کے لئے لوگ رات ایک بجے تک قطار درقطار کھڑے اپنی بار ی کاانتظار کررہے ہیں ، آخر یہ کون ہے جو بھی دیکھتا ہے آنکھوں میں نمی اور دل میں درد و کڑھن کو محسوس کرتا ہے ، یہ کون ہے جس کا جناز ہ آنے کی خبر پاکر عورتیں ہر گلی نکڑکے پہلی منزل سے جھانک رہے ہیں کہ اس تاریخی جنازے کو ایک بار ہم بھی تو دیکھیں، یہ قطار در قطار کھڑے عوام کا ہجوم اور اور جنونی کیفیت کے انداز میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے آوازیں لگارہے نوجوان ’’اللہ اکبر‘‘ …! یہ کون ہے ؟کیوں اتنے دیوانے ہیں لوگ ان کے؟ آخر کیاکردیا اس بندے نے، ایک بندے سے اتنی محبت .. الفت.. اور اُنسیت ہوسکتی ہے..؟اس کے دیدار کے لئے اسی سالہ بزرگ دو بچوں کے کندھوں پرقطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں، کوئی ایک پیر سے معذور ہے مگر وہ بھی اپنی باری کے انتظار میں ،کوئی جسمانی معذور ہے ، مگر اس کو معذور ی کا احساس نہیں بس ایک بار وہ اُن کو دیکھ کرخود کو تسلی دینا چاہتا ہے ، کسی کو اپنے پیرانہ سالی کا بھی احساس نہیں، رات کے دس بج گئے، گیارہ بج گئے ، بارہ بج گئے ، ایک ہوگیا مگر مولانا کے گھر کے آس پاس کی گلیوں میں وہی بجھے بجھے سے ، حیران و پریشان چہرے لئے کھڑے ہزاروں افراد کا ہجوم کوئی قریب سے کوئی دور سے کوئی منگلور و بنگلور سے تو کوئی دہلی کلکتہ اور لکھنو سے ،کوئی ساگر شیموگہ کے علاقوں سے تو کوئی ہبلی ، گدگ اور دھارواڑ سے ، کوئی ہوناور،کمٹہ کاروار سے تو کوئی ولکی ،کائکنی منکی اور سمسی سے ، کوئی کنداپور ،اُڈپی ، کنڈلور،شرور اور بیندرو سے تو کوئی پتہ نہیں کہاں کہاں سے ، بیرون ممالک سے کوئی تجارت بند کرکے کوئی جاب کی چھٹی لے کر پہنچا ہے ، سب کا ایک ہی کہنا کہ مرحوم مولانا سے میرے خاص تعلقات تھے، مولانا کیا گئے شہر کی رونق چلی گئی ، کوئی اپنے مولانا سے محبت کا والہانہ اظہار کررہا ہے تو کوئی اپنے ساتھ ہوئے واقعہ کا تذکرہ کرکے رورہا ہے ، کوئی مولانا کے اُلفت و محبت پر وارے جانے کا تذکرہ کررہاہے ، کوئی کہہ رہاہے کہ فلاں معاملہ میں اگر مولانا نے اپنی رائے نہ دی ہوتی اور میں اگر فیصلہ نہ لیا ہوتا تو پتہ نہیں میرا کیا حال ہوتا۔ کیا تاجر، کیامزدور، کیا فاضل اور کیا عالم ، کیا مالدار اور کیا غریب سب صف باندھے کھڑے ہیں اُس دُلارے کے دیدار کے لئے جو ہم سب کو رُلا کر چلا گیا ، ہم سب کو یتیم بنا کر چلا گیا، ہاں ہاں ..یہ وہی ہے وہی ہے ،جس نے بچوں سے ملا تو بچہ بن گیا ، ہاں ہاں یہ وہی ہے جو بزرگوں سے ملا تو بس بزرگ بن گیا، نوجوان سے ملا تو نوجوان ہوگیا، اور ہم عصر اور ساتھیوں سے ملا تو بس انہی کے سانچے میں ڈھل گیا ، ہاں یہ وہی عبدباری ہے جس نے بتیس سال تک اپنی خوبصورت ، دلکش اور پرفریب آواز میں تلاوتِ قرآن سے عوام کی تشنگی کو مٹاتا رہا یہ وہی ہے جس نے قرآن کی تلاوت سے لوگوں کے دلوں میں ایمان و اسلام کا احساس جگاتا رہا ، عربی خطبے کے انداز کو دیکھ کر عرب یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ محسوس ہوتاہے عرب میں نمازِ جمعہ ادا کررہے ہیں، جی ہاں یہ وہ عبدباری ہے جو جامعہ اسلامیہ میں 17سال تک بحیثیت ِ مدرس اور اہتمام کا عہدہ سنبھال کر اس مادر علمی کو ترقیات دلانے میں اپنی ساری زندگی صرف کردی ، صبح شام، ہر وقت ہر لمحے پوری قوم کا درد، سماج میں پھیل رہے بگاڑ پر تڑپ، نوجوانوںکی تھڈی پکڑ کر محبت سے سمجھانے کا انداز ، باتوں باتوں میں ایسا سمجھانا کہ سامنے والے کو احساس بھی نہ ہوکہ مولانا نکیر کررہے ہیں ، قوم میں اختلافات کی ذرہ سی بھی بھنک لگی اُدھر یہ بندہ پریشان ، صبح ، دوپہر اور شام جامعہ آباد میں طلبہ کی تعلیم و تربیت میں تو رات جامع مسجد میں درس و تدریس، وعظ ونصیحت، خانگی، تجارت ،سماجی مسائل کا حل ، اور یہاں ہر طبقے ،سماج اور ہر عمر کا فرد اپنا اپنا مسئلہ لے کر مولانا کو اپنا درد سنارہاہے اور مولانا مرحوم حل ڈھونڈ رہے ہیں، سائل خوش ہوکر فیصلہ لے کر مجلس سے اُٹھ کر چلا جاتا ہے ۔ اور بچا ہوا تھوڑاسا وقت گھر پہنچے تو وہاں ماں باپ کی جان توڑ خدمت اور ایسی خدمت کے جس کی انتہا نہیں…!
آخر اس بندے نے اپنے لئے وقت دیا کی نہیں؟؟نہیں ! نہیں ! جی ہاں ..اس نے کبھی اپنے لئے وقت نہیں دیا…دیکھئے نا! محسوس کیجئے نا! اتنی بڑی بیماری کا پتہ بھی تب چلا جب والد کو دکھانے کے بہانے منگلور گئے ۔ بیمار ہوئے ،عوام کو پتہ چلا تو قوم پریشان دعائوں کا سلسلہ چل نکلا، منگلور سے بنگلور روانہ ہوئے علاج کرکے واپس لوٹے تو پوری قو م نے چین و سکون کا سانس لیا تھا کہ محسنِ قوم اور فخر ِ ملت واپس آئے ، پھر اچانک منگلور لوٹنے کی خبر نے عوام کو پھر پریشان کیا مگر کل عصر میں دی گئی خبر نے سب کو اتنا رنجیدہ کردیا کہ محسوس ہوا گھر کا فرد اُٹھالیا گیا ہے، جی ہاں وہ ہر گھر کے لئے ایک روحانی باپ، روحانی فرزند، روحانی اُستاد، روحانی رہبر کی حیثیت رکھتے تھے، کیوں کہ وہ زندگی میں کبھی کسی کادل نہیں دکھایا ۔ آج بھٹکل کے شہر کی سڑکیں، کل رات ان کے گھر کے باہر لگے عوام کا ہجوم اور پھر آج نمازِ جنازہ میں دسیوںہزار کی تعدادشریک عوام اور تدفین کے بعد مٹی دینے کے لئے کڑی دھوپ میں لوگوں کا قطار در قطار قبرستان میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑا رہنا ۔یہ منظر گواہی دیتاہے کہ اللہ اس بندے سے کتنا محبت کرتا ہے۔ جی ہاں دوستو! میرے مشفق،میرے رہبر، میرے مربی و استاد محترم جس نے انصارکو انصارعزیز بنایا، جو مجھے دورانِ طالبِ علمی میں ’’انکھیاں‘‘ کا لقب دے کر مجھے کبھی تنہائیت کا اور دوریوں کا احساس ہونے نہیں دیامجبوریوں، بے کسی و لاچاری کے عالم میں ، بھوک اور پیاس میں جس نے ہمیشہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ بتایا کہ زندگی یہ ہوتی ہے، وہ مجھ سے آپ سے بلکہ ہم سب سے روٹھ کر ابدی حیات کی جانب لوٹ گئے: اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ، بار بار مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے :آمین ! …
دوستو!قضاوقدر کے سامنے ہم سب بے بس ہیں۔ مگر !جاتے جاتے وہ یہ کہہ گئے کہ میں جارہاہوں مگر میرے وعظ و نصیحت زندہ ہیں، میں تم سے اللہ کے لئے محبت کرتا تھا اور اللہ کی ذات ہمیشہ کے لئے زندہ ہے ، آج میں جارہاہوں کل تمہاری باری ہے تم بھی تیار ی کرلو ، میں نے تمہاری آخرت کی فکر میں خود کو بھول کر تمہاری خدمت کی اب ،عوام کی، میرے شاگردو ں کی دوست و احباب کی ذمہد اری ہے کہ وہ میرے کتنے کہے پر عمل کرتے ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker