Baseerat Online News Portal

’مضبوط خاندان اور مضبوط سماج‘ کی تشکیل کیسے؟

کامران غنی صبا
اسسٹنٹ پروفیسر نتیشور کالج، مظفرپور

جماعت اسلامی ہند کی طرف سے’’مضبوط خاندان، مضبوط سماج‘‘ کے عنوان سے ملک گیر سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے۔یہ مہم وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ہم جس عہد میں زندگی گزار رہے ہیںوہاں خاندان اور سماج کا بکھرائو ہمارے سامن ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے سماج کی یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ بیشتر خاندان انتشار و افتراق کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ بعض انتہائی مذہبی خانوادے بھی آپسی انتشار اور رنجشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ قابلِ مبارکباد ہیں وہ خانوادے جہاں اتحاد و اتفاق اور محبت کی فضا قائم ہے۔قرآن و حدیث اور سیرتِ النبیﷺ وسیرت الصحابہؓ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عبادات (نماز، روزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ) کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں اور قرابت داروں سے معاملات پر بھی بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آج ہمارے معاشرہ کی صورت حال یہ ہے کہ عبادات کے معاملہ میں ہم قدرے بہتر ہیں۔ مساجد بہت حد تک آباد ہیں۔نماز کے پابند افراد الحمد للہ ہر جگہ موجود ہیں۔ مسلمانوں میں عبادت سے رغبت پیدا کرنے کے لیے باضابطہ محنتیں بھی کی جاتی ہیں۔ لوگوں کو مساجد تک لانے کے لیے جماعتیں نکلتی ہیں۔ دروس ِ قرآن و حدیث کی محفلیں ہر جگہ آراستہ کی جاتی ہیں۔تزکیہ اور تصفیہ کی مجالس بھی قائم کی جاتی ہیں۔ یقینا ان کاوشوں کے مثبت اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہمارے سماج میں ایسے افراد ڈھونڈنے سے ملتے ہیں، جن کے معاملات قرابت داروں سے اچھے ہوں۔ کسی کو بھائی سے شکوہ ہے تو کسی کی دوسرے رشتہ داروں سے رنجش ۔افرادِ خانہ کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ممنوع ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بعض ایسے گھرانے جو ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کا فریضہ انجام دیتے ہیں وہاں بھی رنجشوں کے بتوں کی پرستش کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے افراد موجود ہیں جو گھر سے باہر کی دنیا میں انتہائی خوش اخلاق،ملنسار، دیندار اور مثالی نظر آتے ہیں،لیکن اندرون خانہ ان کی دنیا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہر کی دنیا کے لوگوں سے ہمارا تعلق جزوقتی ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے تصنع کے پردے میں خوش اخلاقی کا نمونہ پیش کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس افرادِ خانہ سے ہمارا تعلق کل وقتی ہوتا ہے۔ ان سے ہمارے معاملات زیادہ پیش آتے ہیں۔ اس لیے ان کے سامنے اپنا حقیقی چہرا چھپا کر رکھنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں قرابت داروں سے تعلق استوار رکھنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئو۔(سورۃ النساء)
’’اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہواور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔(سورۃ النساء)
ایک حدیث میں تو یہاں تک کہا گیا کہ’’اللہ کے نزدیک سب سے برا عمل رب کائنات کے ساتھ شرک کرنا، پھر رشتہ داری توڑنا ہے۔‘‘(صحیح الجامع الصغیر، رقم 166)
ایک حدیث کے الفاظ تو اتنے سخت ہیں کہ ’’سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اولاد آدم کے اعمال جمعرات کی شام اور جمعہ کو اللہ تعالیٰ کو پیش کیے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رشتہ توڑنے والے شخص کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔‘‘
مسلم شریف کی ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’رشتہ عرش الٰہی سے آویزاں ہے، وہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے اور جس نے مجھے توڑ دیا اللہ اسے توڑ دے۔‘‘(مسلم 2555)
احادیث شریفہ صلہ رحمی کے انعام اور قطع رحمی کی وعیدوں سے بھری پڑی ہیں۔
افراد خانہ اور رشتہ داروں سے تعلق میں پائداری کے لیے درج ذیل نکات اگر ملحوظ رکھیں جائیں تو ان شاء اللہ بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔
تعاون کا جذبہ: انسان کو سماجی زندگی میں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی کی عبادت و ریاضت سے جتنا متاثر نہیں ہوتا اس سے کہیں زیادہ متاثراسے لوگوں کا اخلاق و کردار کرتا ہے۔ جو لوگ اچھے برے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، فطری طور پر ہمارے دل میں ان کے لیے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
جذبۂ ایثار : افرادِ خانہ اور رشتہ داروں کے لیے چھوٹی بڑی قربانی پیش کرنے والوں کا تعلق اپنے متعلقین سے اچھا ہوتا ہے لیکن بسا اوقات سب کچھ کرنے کے باوجود ہماری ذرا سی لغزش تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن جاتی ہے۔ بعض افراد کے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ تو خوب ہوتا ہے لیکن وہ اسے پوشیدہ نہیں رکھ پاتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے اپنے کسی غریب رشتہ دار کی مالی طور پر مدد کی لیکن وہ اسے پوشیدہ نہیں رکھ پایا اور اپنے دوسرے رشتہ داروں سے اس کا ذکر کر ڈالا۔ یقینا ایسا کرنے سے اُس غریب رشتہ دار کی عزت نفس مجروح ہوگی جس سے رشتے میں کشیدگی اور کدورت پیدا ہو سکتی ہے۔
صبر اور برداشت: صبر اور برداشت کے بغیر کوئی بھی تعلق کبھی پائدار نہیں ہو سکتا۔ بیشتر خاندان میں کشیدگی کی سب سے اہم وجہ افراد خانہ کا عدم برداشت ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں بسا اوقات بڑی بڑی رنجیدگیوں کی وجہ بن جاتی ہیں۔ ایک صاحب اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو اپنی بیٹی کا شادی کارڈ دینا بھول گئے۔دونوں گھروں سے پہلے سے انتہائی اچھے مراسم تھے لیکن ایک چھوٹی سی چوک اور دوسری طرف برداشت کی کمی اچھے خاصے تعلق میں بگاڑ کا سبب بن گئی۔
اپنی گھریلو حیثیت کا ادراک: کچھ لوگ گھر سے باہر کی دنیا میں بہت مشہور ہوتے ہیں۔ دنیا انہیں عالم، استاد، دانشور، فنکار وغیرہ کے نام سے جانتی ہے۔ باہر کی دنیا میں ان کی بڑی قدر و منزلت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ گھر میں انہیں ویسی عزت نہیں ملتی۔ اردو میں ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی باضابطہ ایک محاورہ وضع ہو چکا ہے’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہار کی دنیا میں ہم کتنے ہی بڑے اور مشہور انسان کیوں نہ ہوں گھر میں ہماری حیثیت ایک باپ، بیٹا، بھائی ، ماں ، بہن، بہو وغیرہ ہی کی ہوتی ہے۔ ہمارا گھر اور باہر کا کردار یکساں کبھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ہمیں اپنی گھریلو حیثیت کا اداراک نہیں ہوگا تو افرادِ خانہ کے تئیں ہمارے دل میں رنجش پیدا ہوگی۔

 

You might also like