Baseerat Online News Portal

اسلام اور مسلمانوں پر شدت پسندی کا الزام(۲)

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
ترجمان وسکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
سماجی تعلقات کے دائرہ میں کھانا ، کھلانا ، پڑھنا ، پڑھانا ، باہمی ملاقات ، خوشی و غم کے موقع پر دلداری وغیرہ اُمور بھی آتے ہیں ، اسلام نے ان تمام شعبوں میں غیرمسلموں کے ساتھ بھی خوش گوار برتاؤ کا حکم دیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے غیرمسلموں کی دعوت قبول فرمائی ہے ، (صحیح بخاری ، حدیث نمبر ۲۶۱۷ ، باب قبول الہدیۃ من المشرکین) خود غیر مسلموں کو دعوت دی ہے ، ( الدر المنثور : ۵؍۱۸۱) انھیں اپنا مہمان بنایا ہے ، ( الخصائص الکبریٰ: ۱؍۱۲۳) اپنے رفقاء کو غیر مسلم بزرگوں کی تجہیز و تکفین کے انتظام کا حکم دیا ہے ، ( اعلاء السنن : ۸؍۲۸۲ ، باب ما یفعل المسلم اذا مات لہ قریب کافر ) نیز غیرمسلموں کی عیادت کی ہے۔ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر ۵۶۵۷ ، باب عیادۃ المشرک)
غیرمسلموں سے تعلیم و تعلّم بھی درست ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’علم وحکمت مؤمن کی متاعِ گم شدہ ہے : ’’اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ‘‘ (ترمذی ، عن ابی ہریرۃ ؓ، حدیث نمبر : ۲۶۸۷) چنانچہ جنگ ِبدر کے قیدیوں میں جو لوگ پڑھنے لکھنے سے واقف تھے ، آپ ﷺ نے ان کا فدیہ یہی مقرر کیا تھا کہ وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں ، اسی لئے تعلیم و تعلّم کے مقدس رشتہ میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق رَوا نہیں رکھی گئی ہے ۔
البتہ سماجی تعلقات میں اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اسلام نے وضع قطع ، رسم ورواج وغیرہ میں اس بات کو پسند کیا ہے کہ مسلمان اپنی شناخت کو باقی رکھیں اور اپنے تہذیبی تشخص کو کھو نہیں دیں ؛ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو دوسروں کی مماثلت اور مشابہت اختیار کرے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(ترمذی، حدیث نمبر: ۲۶۹۵)؛اسی لئے آپ ﷺنے سلام کے طریقہ ، داڑھی اور سر کے بال کی وضع وغیرہ میں اس بات کو پسند نہیں کیا کہ مسلمان اپنے امتیاز کو کھودیں ۔
معاشی تعلقات کے معاملہ میں بھی مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا، نبوت کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کا ابوسفیان اور جبیر بن مطعم کے پاس سرمایہ کاری کرنا منقول ہے ، اسی طرح خیبر کے فتح ہونے کے بعد آپ ﷺنے وہاں کی زمینیں یہودیوں کے قبضہ میں ہی رہنے دیں اور ان سے بٹائی پر معاملہ طے کرلیا ، جس کا بخاری اور مختلف کتب ِاحادیث میں ذکر موجود ہے ، (صحیح البخاری، حدیث نمبر :۴۲۴۸ ، باب معاملۃ النبی اہل خیبر) مسلمانوں کے لئے یہ بات درست ہے کہ وہ کسی غیرمسلم کے یہاں ملازمت کریں ؛ چنانچہ حضرت علی ؓ نے ایک یہودی کے یہاں مزدوری کی ہے ، (کنز العمال : ۲؍۳۲۱) حضرت خباب ؓ لوہاری کے فن سے واقف تھے ، انھوں نے عاص بن وائل کے لئے کام کیا ، اس کا ذکر بھی احادیث میں موجود ہے :(بخاری ، حدیث نمبر : ۲۳۷۵ ، مسلم ، حدیث نمبر : ۷۰۶۲)
اسی طرح یہ بات بھی درست ہے کہ مسلمان غیرمسلموں کو اپنے یہاں ملازمت کا موقع دیں ، عرب میں سڑکوں کا کوئی باضابطہ نظام نہیں تھا اور پورا خطۂ عرب ریت سے ڈھکا ہوا تھا ، اسی لئے راستہ کی شناخت دشوار ہوتی تھی اور جن لوگوں کو شناخت نہیں ہوتی تھی ، وہ سفر میں کسی راہ بتانے والے کو ساتھ لے جاتے تھے ، ان کو ’’دلیل‘‘ کہا جاتا تھا ، جس کے معنی راہبر کے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ایک مشرک کو اپنے لئے بطورِ ’دلیل‘ اُجرت دے کر ساتھ رکھا، (احکام أہل الذمۃ لابن قیم : ۲۰۷) اسی لئے فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان غیرمسلم کو اپنے یہاں ملازم رکھ سکتے ہیں :(الموسوعۃ الفقہیہ: ۱۰۵، مادہ: اجارہ)
چنانچہ مسلم عہد ِحکومت میں غیرمسلم حضرات بڑے اونچے اور کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں ، حضرت امیر معاویہ ؓ کے زمانے میں حمص کا فینانشیل کمشنر اور حاکم’’ ابن اَثال‘‘ نامی ایک عیسائی تھا ، عبدالملک بن مروان کا کاتب ابن سرجون تھا ، یہ بھی عیسائی تھا ، کاتب کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اسی سے فرامین سلطنت کی مراسلت متعلق تھی اور بقول علامہ شبلیؒ وہ وزیر اعظم کے برابر یا اس سے دوسرے درجہ پر خیال کیا جاتا تھا ، عباسی دور میں ابواسحاق صابی اس منصب پر فائز تھا ، سلطنت دیلم کے تاجدار عضد الدولہ جیسے عظیم فرمانروا کا وزیر اعظم بھی ایک عیسائی تھا ، جس کا نام نصر بن ہارون تھا ، یہ تمام فرمانروا نہ صرف اپنی طاقت اور حکمرانی میں ممتاز تھے ؛ بلکہ مذہب سے بھی ان کا خاص تعلق تھا ؛ لیکن ان کی مذہبیت غیرمسلم بھائیوں سے سلطنت کے اہم اورکلیدی شعبوں میں خدمت لینے میں رکاوٹ نہیں بنی ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے: مقالات شبلی:۲؍۲۱۷-۲۱۹)
انسان جس خطہ میں رہتا ہو ، وہاں کے سیاسی حالات سے بے تعلق نہیں رہ سکتا ؛ کیوںکہ سیاسی مد و جزر اور اُتار چڑھاؤ کا اثر زندگی کے تمام شعبوں پر پڑتا ہے اور بڑی حد تک سماج کا امن و امان بھی ان حالات سے متعلق ہوتا ہے ؛ چنانچہ اسلام میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان سیاسی روابط کی گنجائش رکھی گئی ہے ، سیاست کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنا اور مستحکم بنانا ہے ، رسول اللہ ﷺ جب اس دنیا میں تشریف لائے ، اس وقت حجاز کے علاقہ میں کوئی باضابطہ حکومت موجود نہیں تھی ؛ البتہ قبائلی روایات اور دستور کے مطابق تحفظ ہوا کرتا تھا اور لوگوں کے باہمی تعلقات قائم رہتے تھے ۔
اسی زمانہ میں مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا کہ مکہ کے ایک شخص نے ایک بیرونی شخص کا حق ادا کرنے سے انکار کردیا ؛ چوںکہ اس کا تعلق مکہ سے نہیں تھا اور مکہ میں اس کے ہم قبیلہ لوگ بھی نہیں تھے ، اس لئے ممکن نہ تھا کہ وہ بزورِ طاقت اپنا حق حاصل کرسکے ، اس غریب الوطن شخص نے صحن کعبہ میں اہل مکہ کو اپنی داستانِ درد سنائی اور ان کے ضمیر سے انصاف کا طلب گار ہوا ، اس موقع سے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن جُدعان کے مکان پر ان کی نشست ہوئی ، اس میں آپ ﷺنے بھی پوری سرگرمی سے شرکت کی اور اس طرح ’’حِلف الفُضول‘‘ نامی ایک تنظیم قائم ہوئی ، جس کا مقصد انصاف کو قائم کرنا ، ظلم کو روکنا اور ظالم کے خلاف مزاحمت کرنا تھا ، یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا تھا ؛ لیکن رسول اللہ ﷺ کو یہ کام اس قدر پسند تھا کہ آپ ﷺنے فرمایا :اگر مجھے آج بھی اس کی طرف بلایا گیا تو میں اس پر لبیک کہوں گا ۔(البدایۃ والنہایۃ : ۲؍۲۹۱)
بنو امیہ کے دور میں حضرت حسین ؓ اور ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کے درمیان ایک مسئلہ پر نزاع پیدا ہوگئی ، جس میں ولید کی زیادتی تھی، حضرت حسین ؓ نے اس سلسلہ میں اسی حوالہ سے لوگوں کی مدد چاہی ، یکے بعد دیگرے کئی صحابہ ؓنے اس پر لبیک کہا ، بالآخر ولید کو اپنے ارادہ سے باز آنا پڑا ، (سیرت ابن ہشام : ۱؍۱۳۵) یہ واقعہ اس بات کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے کہ سیاسی جدوجہد میں مسلمان اور غیرمسلم ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرسکتے ہیں اور سیاسی تعلقات میں اُصولوں کی بنیاد پر غیرمسلموں کا تعاون کیا جاسکتا ہے اور اُن سے تعاون لیا جاسکتا ہے ، نیز ایسی سیاسی تنظیموں میں جو مختلف مذاہب کے لوگوں پر مشتمل ہو، مسلمان شریک ہوسکتے ہیں ۔
قرآن مجید نے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ تفصیل سے ذکر کیا ہے ، مصر میں اس وقت مشرکین ہی کی حکومت تھی ، حضرت یوسف علیہ السلام نے ملکی مفادات اور مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ طلب فرمائی : ’’قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَائِنِ الْاَرْضِ‘‘ (یوسف : ۵۵) حضرت یوسف علیہ السلام کی خواہش قبول کی گئی اور انھوں نے اس فریضہ کو بہت ہی خوش اُسلوبی کے ساتھ انجام دیا ، اس سے معلوم ہوا کہ ایسے اقتدار میں شریک و سہیم ہونا بھی درست ہے، جس میں غیرمسلموں کو غلبہ حاصل ہو ۔
غیرمسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے سیاسی تعلقات دو اُصولوں پر مبنی ہوں گے ، اول ان قوانین کی اطاعت پر جو مبنی برانصاف ہوں ؛ کیوںکہ آپ جس ملک کی شہریت قبول کرتے ہیں ، تو زبانِ حال سے اس ملک کے دستور کی پاسداری اور فرمانبرداری کا اقرار ہے اور ایک طرح کا عہد ہے ، جو ہم نے اس ملک کے ساتھ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ عہد کو پورا کرو : ’’اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ‘‘ (المائدۃ : ۱) ایک اور موقع پر فرمایا گیا : ’’اَوْفُوْا بالْعَہْدِ‘‘ (الاسراء : ۳۴) یعنی معاہدات اور وعدوں کی پاسداری کرو ، قانون شکنی کو اسلام جائز نہیں قرار دیتا ؛ بشرطیکہ وہ صریحاً عدل کے خلاف نہ ہو ۔
سیاسی اشتراک کی دوسری بنیاد ظلم کی مخالفت اور اس کے سد باب میں باہمی تعاون ہے ، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مُنکَرکو روکنے کا حکم دیا گیا ہے ، ’’مُنکَر‘‘ میں تمام برائیاں شامل ہیں اور یقیناً ظلم بھی اس میں داخل ہے، رسول اللہ ﷺ نے منکر کو روکنے کے طریقہ کے سلسلہ میں اُصول بتایا کہ اس کے لئے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے طاقت کا استعمال کرسکتا ہو تو اس کا استعمال کرے ، اگر طاقت کا استعمال نہیں کرسکتا تو زبان سے اس کے خلاف احتجاج کرے اور اگر زبان کے استعمال سے بھی عاجز ہے تو دل سے اس کو برا مانے اور عزم رکھے کہ جب بھی ممکن ہوگا ، وہ ظلم کو دفع کرنے کی کوشش کرے گا : (مسلم، حدیث نمبر: ۴۹)
اس حدیث میں پہلے نمبر پر ہاتھوں سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے، ہاتھ ایک علامتی لفظ ہے اور ہاتھ سے مراد طاقت ہے ، اِس زمانہ میں ووٹ اور پُر امن احتجاج بھی ایک طاقت ہے ، اسی طرح زبان سے منکر کو روکنے میں زبان کے ذریعہ ظلم کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے ؛ اسی لئے قرآن مجید نے بُری بات کو زبان پر لانے اور علی الاعلان کہنے کو منع کیا ہے ؛ لیکن ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی اجازت دی ہے : (النساء: ۱۴۸)
حدیث میں احتجاج کے بعض اور طریقے بھی منقول ہیں ، (دیکھئے مجمع الزوائد : ۸؍۱۲۰ ، باب ماجاء فی أذی الجاری) — غرض کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان سیاسی اشتراک درست ہے ؛ البتہ سیاسی اشتراک خود مسلمانوں کا باہمی طور پر ہو یا مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان ہو ، اس کا مقصد صرف اقتدار میں ساجھے داری نہ ہو ؛ بلکہ انصاف کو قائم کرنا اور ظلم کو روکنا مقصود ہو ۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کے سلسلہ میں سب سے اہم موضوع مذہبی تعلقات کا ہے،اس سلسلہ میں بنیادی تعلیم دوسرے مذاہب کا احترام اور ان کے مذہبی اُمور میں عدمِ مداخلت ہے ، قرآنی تعلیمات کا نچوڑ عقیدۂ توحید کی دعوت ہے ، اسلام میں توحید سے زیادہ کوئی چیز مطلوب و محمود نہیں، اور شرک سے زیادہ کوئی چیز قابل ترک اور مذموم نہیں ؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے حد درجہ مذہبی رواداری کی بھی تعلیم دی ہے ، قرآن مجید نے صاف کہا ہے کہ ہر شخص کو عقیدہ کی آزادی حاصل ہے اور کسی مذہب کے قبول کرنے کے لئے جبر و تشدد جائز نہیں ہے : لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنَ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۔ (البقرۃ : ۲۵۶)
رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا : اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (یونس: ۹۹)توکیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور در دیں گے ؟
حضرت عمر ؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ انھوں نے اپنے وسق نامی غلام سے باربار خواہش کی کہ وہ اسلام قبول کرلے ، آپ ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم اسلام قبول کرلو تو تمہیں مسلمانوں کی امانت کی کوئی ذمہ داری سونپوں گا ؛ لیکن وسق اس سے ہمیشہ انکار کرتے رہے ، حضرت عمر ؓ ہمیشہ اس کے جواب میں فرماتے : ’’لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ‘‘ یہاں تک کہ وفات کے قریب آپ ؓ نے ان کو آزاد کردیا ۔ (کتاب الاموال : ۱؍۱۵۴)
عقیدہ کے علاوہ غیرمسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی بھی مکمل آزادی حاصل ہے ، قرآن مجید نے صاف طور پر حضور ﷺ کی زبانِ مبارک سے مشرکین مکہ کو کہلایا :’’تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین‘‘ (الکافرون : ۶) ایک اورموقع پر ارشاد ہے ’’ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال‘‘ (الشوریٰ : ۱۵)رسول اللہ ﷺ کی رَواداری کا حال یہ تھا کہ نجران کے عیسائیوں کا وفد بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺنے ان کو ان کے مذہب کے مطابق اور ان کے قبلہ کی طرف رخ کرکے مسجد ِ نبوی ﷺ میں نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ، (احکام الذمۃ : ۱؍۳۱۶) فقہاء نے لکھا ہے کہ :
اگر کسی مسلمان کی بیوی یہودی یا عیسائی ہو اور اس کے عقیدہ کے مطابق کسی خاص دن روزہ رکھنا واجب ہو تو مسلمان شوہر اسے روزہ رکھنے سے روک نہیں سکتا ہے ، گو اس کی وجہ سے وہ جنسی استفادہ کے حق سے محروم ہوتا ہے ۔ (احکام أہل الذمۃ : ۱؍۳۱۶)
اسی طرح اگر وہ اپنے عقیدہ کے مطابق صلیب پہنے ، یامسلمان شوہر کے گھر میں صلیب رکھے تو اسے یہ حق ہے اور شوہر اس کو روک نہیں سکتا ۔ (حوالہ ٔ سابق)
یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے مذہبی گروہوں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کیا جائے اور دوسری قومیں جن دیوتاؤں اور دیویوں کی پرستش کرتی ہوں ، ان کو برا بھلا نہ کہا جائے ؛ حالاںکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اسلام خدا کی ذات و صفات میں کسی کی شرکت کو جائز نہیں سمجھتا ؛ کیوںکہ یہ سچائی اور واقعہ کے خلاف ہے ؛ لیکن پھر بھی مذہبی رواداری کے تحت ان معبودانِ باطل کے بارے میں ناشائستہ باتیں کہنے سے منع کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ کے سوا وہ جن کی عبادت کرتے ہیں، ان کو برا بھلا نہ کہو ۔(الانعام: ۱۰۸)
اسی طرح عبادت گاہوں کے معاملات میں بھی تمام اہل مذاہب کے جذبات کو ملحوظ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے ، قرآن مجید نے جہاں عبادت گاہوں کے منہدم کرنے کی مذمت کی ہے ، وہاں مسلمانوں کی مسجدوں سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کے گرجوں کا ذکر فرمایا ہے ، (الحج : ۴۰) اس سے ظاہر ہے کہ عبادت گاہیں — خواہ کسی مذہب کی ہوں — ان کا احترام ملحوظ رکھنا چاہیے ، رسول اللہ ﷺ نے بنونجران سے جو معاہدہ کیا ، اس میں یہ صراحت فرمائی کہ ان کی عبادت گاہیں منہدم نہیں کی جائیں گی اور نہ مذہبی اُمور میں کوئی مداخلت کی جائے گی ، (ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۳۰۴۱) عہد ِ صدیقی میں حضرت خالد بن ولید ؓ کے ذریعہ حیرہ کا علاقہ فتح ہوا ، اہل حیرہ کے لئے انھوں نے جو دستاویز تیار فرمائی ، اس میں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ ان کے چرچ اور گرجے منہدم نہیں کئے جائیں گے ، امام ابویوسفؒ نے اسے نقل کیا ہے۔ (موسوعۃ الخراج : ۱۴۳)
اس سلسلہ میں خلافت راشدہ اور بعد کے مسلم عہد میں بت سی مثالیں موجود ہیں، جن کا ذکر اس وقت درازیٔ تحریر کا باعث ہوگا؛ لیکن اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام عقیدۂ توحید کی حفاظت اور اپنی شناخت کی بقاء کے سلسلہ میں جس قدر حساس ہے، غیر مسلموں کے مذہبی اور سماجی مسائل میں اسی قدر کشادہ قلب، سیر چشم اور رَوادار بھی ہے، افسوس کہ اس پر غلط فہمیوں کے تہہ در تہہ دبیز پردے ڈالے دئیے گئے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے غیرمسلم بھائیوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات ، اس کی سیرچشمی ، فراخ قلبی اور رواداری سے آگاہ کریں اور خود اپنے رویہ اور برتاؤ سے ثابت کریں کہ اسلام کوئی شدت پسند اور ناروادار مذہب نہیں ہے ؛ بلکہ انسانیت پرور ، آدمیت نواز ، رحم دل ، حد درجہ روادار اور سیرچشم وفراخ قلب مذہب ہے اور اس کی ٹھنڈی چھاؤں نہ صرف مسلمانوں ؛ بلکہ پوری انسانیت کے لئے مسکن رحمت ہے:اِن الدین عند اﷲ الاِسلام ، اللّٰھم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ،وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like